Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
46 verses
1اور بہت دنوں کے بعد ایسا ہُوا کہ خُداوند کا یہ کلام تیسرے سال ایلیاہ پر نازل ہوا کہ جا کر اخی اب سے مِل اور مَیں زمین پر مینہ برساونگا ۔
2سو ایلیاہ اخی اب سے ملنے کو چلا اور سامریہ میں سخت کال تھا ۔
3اور اخی اب نے عبدیاہ کو جو اُس کے گھر کا دیوان تھا طلب کیا اور عبدیاہ خُداوند سے بہت ڈرتا تھا۔
4کیونکہ جب ایزبل نے خداوند کے نبیوں کو قتل کیا تو عبدیاہ نے سو نبیوں کو لیکر پچاس پچاس کر کے اُنکو ایک غار میں چھپا دیا اور روٹی اور پانی سے اُنکو پالتا رہا ۔
5سو اخی اب نے عبدیاہ سے کہا مُلک میں گشت کرتا ہوا پانی کے سب چشموں اور سب نالوں پر جا شاید ہم کو کہیں گھاس مِل جائے جس سے ہم گھوڑوں اور خچروں کو جیتا بچا لیں تاکہ ہمارے سب چوپائے ضائع نہ ہوں ۔
6سو اُنہوں نے اُس پورے مُلک میں گشت کرنے کے لیے اُسے آپس میں تقسیم کر لیا ۔ اخی اب اکیلا ایک طرف چلا اور عبدیاہ اکیلا دوسری طرف گیا ۔
7اور عبدیاہ راستہ ہی میں تھا کہ ایلیاہ اُسے مِلا ۔ وہ اُسے پہچان کر منہ کے بل گِرا اور کہنے لگا اے میرے مالک ایلیاہ کیا تُو ہے؟
8اُس نے اُسے جواب دیا میں ہی ہوں ۔ جا اپنے مالک کو بتا دے کہ ایلیاہ حاضر ہے ۔
9اُس نے کہا مُجھ سے کیا گناہ ہوا ہے جو تُو اپنے خاد م کو اخی اب کے ہاتھ میں حوالہ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ مجھے قتل کرے ؟
10خداوند تیرے خُدا کی حیات کی قسم کہ ایسی کوئی قوم یا سلطنت نہیں جہاں میرے مالک نے تیری تلاش کے لیے نہ بھیجا ہو اور جب اُنہوں نے کہا کہ وہ یہاں نہیں تو اُس نے اُس سلطنت اور قوم سے قسم لی کہ تُو اُنکو نہیں مِلا ہے۔
11اور اب تُو کہتا ہے کہ جا کر اپنے مالک کو خبر کر دے کہ ایلیاہ حاضر ہے۔
12اور ایسا ہو گا کہ جب میں تیرے پاس سے چلا جاوں گا تو خُداوند کی روح تُجھ کو نہ جانے کہاں لے جائے اور میں جا کر اخی اب کو خبر دوں اور تُو اُسکو کہیں مِل نہ سکے تو وہ مجھ کو قتل کر دے گا لیکن َیں تیرا خادم لڑکپن سے خداوند سے ڈرتا رہا ہوں ۔
13کیا میرے مالک کو جو کچھ میں نے کیا ہے نہیں بتایا گیا کہ جب ایزبل نے خُداوند کے نبیوں کو قتل کیا تو میں نے خُداوند کے نبیوں میں سے سو آدمیوں کو لیکر پچاس پچاس کر کے اُنکو ایک غار میں چھپایا او ر اُنکو روٹی اور پانی سے پالتا رہا ؟
14اور اب تُو کہتا ہے کہ جا کر اپنے مالک کو خبر دے کہ ایلیاہ حاضر ہے ۔ سو وہ تو مجھے مار ڈالے گا ۔
15تب ایلیاہ نے کہا رب الافواج کی حیات کی قسم جس کے سامنے میں کھڑا ہوں ۔ میں آج اُس سے ضرور مِلونگا ۔
16سو عبدیاہ اخی اب سے ملنے کو گیا اور اُسے خبر دی اور اخی اب ایلیاہ کی مُلاقات کو چلا ۔
17اور جب اخی اب نے ایلیاہ کو دیکھا تو اُس نے اُس سے کہا اے اسرائیل کے ستانے والے کیا تُو ہی ہے ؟
18اُس نے جواب دیا میں نے اسرائیل کو نہیں ستایا بلکہ تُو اور تیرے باپ کے گھرانے نے کیونکہ تُم نے خُداوند کے حکموں کو ترک کیا اور تُو بعلیم کا پرو ہو گیا ۔
19اِس لیے اب تُو قاصد بھیج اور سارے اسرائیل کو اور بعل کے ساڑھے چار سو نبیوں کو اور یسیرت کے چار سو نبیوں کو جو ایزبل کے دسترخوان پر کھاتے ہیں کوہِ کرمل پر میرے پاس اکٹھا کر دے ۔
20سو اخی اب نے سب بنی اسرائیل کو بُلا بھیجا اور نبیوں کو کوہِ کرمل پر اکٹھا کیا ۔
21اور ایلیاہ سب لوگوں کے نزدیک آکر کہنے لگا تُم کب تک دو خیالوں میں ڈانواڈول رہو گے ؟ اگر خُداوند ہی خُدا ہے تو اُسکے پیرو ہو جاو اور اگر بعل ہے تو اُسکی پیروی کرو ۔ پر اُن لوگوں نے اُسے ایک حرف جواب نہ دیا ۔
22تب ایلیاہ نے اُن لوگوں سے کہا ایک میں ہی اکیلا خُداون کا نبی بچ رہا ہوں ہر بعل کے نبی چار سو پچاس آدمی ہیں ۔
23سو ہم کو دو بیل دیے جائیں اور وہ اپنے لیے ایک بیل چُن لیں اور اُسے ٹکڑے ٹکڑے کاٹکر لکڑیوں پر دھریں اور نیچے آگ نہ دیں اور میں دوسرا بیل تیار کر کے اُسے لکڑیوں پر دھرونگا اور نیچے آگ نہیں دونگا ۔
24تب تُم اپنے دیوتا سے دعا کرنا اور میں خداوند سے دعا کرونگا اور وہ خدا جو آگ سے جواب دے رہی خدا ٹھہرے اور سب لوگ بول اُٹھے خوب کہا !۔
25سو ایلیاہ نے بعل کے نبیوں سے کہا کہ تُم اپنے لیے ایک بیل چُن لو اور پہلے اُسے تار کرو کیونکہ تُم بہت سے ہو اور اپنے دیوتا سے دعا کرو لیکن نیچے آگ نہ دینا ۔
26سو اُنہوں نے اُس بیل کو لیکر جو اُنکو دیا گیا اُسے تیار کیا اور صبح سے دوپہر تک بعل سے دعا کرتے اور کہتے رہے اے بعل ہماری سُن پر نہ کچھ آواز ہوئی اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا اور وہ اُس مذبح کے گرد جو بنایا گیا تھا کُودتے رہے ۔
27اور دوپہر کو ایسا ہوا کہ ایلیاہ نے اُنکو چڑا کر کہا بُلند آواز سے پُکارو کیونکہ وہ تو دیوتا ہے ۔ وہ کسی سوچ میں ہو گا یا وہ خلوت میں ہے یا کہیں سفر میں ہو گا یا شاید وہ سوتا ہے ۔ سو ضرور ہے کہ وہ جگایا جائے۔
28تب وہ بُلند آواز سے پُکارنے لگے اور اپنے دستور کے مطابق اپنے آپ کو چھُریوں اور نشتروں سے گھایل کر لیا یہاں تک کہ لہو لہان ہو گئے ۔
29وہ دوپہر ڈھلے پر بھی شام کی قُربانی چڑھا کر نبوت کرتے رہے پر نہ کچھ آٓواز ہوئی نہ کوئی جواب دینے والا نہ توجہ کرنے والا تھا ۔
30تب ایلیاہ نے سب لوگوں سے کہا کہ میرے نزدک آجاو چنانچہ سب لوگ اُس کے نزدیک آ گئے ۔ تب اُس نے خُداوند کے اُس مذبح کو جو ڈھا دیا گیا تھا مرمت کیا ۔
31اور ایلیاہ نے یعقوب کے بیٹوں کے قبیلوں کے شمار کے مطابق جس پر خُداوند کا یہ کلام نازل ہوا تھا کہ تیرا نام اسرائیل ہو گا بارہ پتھر لیے ۔
32اور اُس نے اُن پتھروں سے خُداوند کے نام کا ایک مذبح بنایا اور مذبح کے اردگرد اُس نے ایسی بڑی کھائی کھودی جس میں دو پیمانے بیج کی سمائی تھی ۔
33اور لکڑیوں کو قرینہ سے چُنا اور بیل کے ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر لکڑیوں پر دھر دیا اور کہا چار مٹکے پانی ے بھر کر اُس سوختنی قُربانی پر اور لکڑیوں پر انڈیل دو۔
34پھر اُس نے کہا دوبارہ کرو ۔ اُنہوں نے دوبارہ کیا ۔ پھر اُس نے کا سہ بارہ کرو۔ سو اُنہوں نے سہ بارہ بھی کیا ۔
35اور پانی مذبح کے گردا گرد بہنے لگا اور اُس نے کھائی بھی پانی سے بھروا دی ۔
36اور شام کی قُربانی چڑھانے کے وقت ایلیاہ نبی نزدیک آیا اور اُس نے کہا اے خداوند ابراہام اور اضحاق اور اسرائیل کے خُدا ! آج معلوم ہو جائے کہ اسرائیل میں تُو ہی خُدا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اِن سب باتوں کو تیرے ہی حکم سے کیا ہے۔
37میری سُن اے خُداوند میری سُن تاکہ یہ لوگ جان جائیں کہ اے خُداوند تُو ہی خدا ہے اور تُو نے پھر اُنکے دلوں کو پھیر دیا ہے ۔
38تب خُداوند کی آگ نازل ہوئی اور اُس نے اُس سوختنی قُربانی کو لکڑیوں اور پتھروں اور مٹی سمیت بھسم کر دیا اور اُس پانی کو جو کھائی میں تھا چاٹ لیا ۔
39جب سب لوگوں نے یہ دیکھا تو منہ کے بل گرے اور کہنے لگے خُداوند وہی خدا ہے ! خُداوند وہی خُدا ہے !۔
40ایلیاہ نے اُن سے کہا بعل کے نبیوں کو پکڑ لو۔ اُن میں سے ایک بھی جانے نہ پائے ۔ سو اُنہوں نے اُنکو پکڑ لیا اور ایلیاہ اُنکو نیچے قسیون کے نالہ پر لے آیا اور وہاں اُنکو قتل کر دیا ۔
41پھر ایلیاہ نے اخی اب سے کہا اوپر چڑھ جا ۔ کھا اور پی کیونکہ کثرت کی بارش کی آواز ہے ۔
42سو اخی اب کھانے پینے کو اوپر چلا گیا اور ایلیاہ کرمل کی چوٹی پر چڑھ گیا اور زمین پر سرنگون ہو کر اپنا منہ اپنے گھٹنوں کے بیچ کر لیا ۔
43اور اپنے خادم سے کہا ذرا اوپر جا کر سمندر کی طرف تو نظر کر ۔ سو اُس نے اوپر جا کر نظر کی اور کہاں وہاں کچھ بھی نہیں ہے ۔ اُس نے کہا پھر سات بار جا ۔
44اور ساتویں مرتبہ اُس نے کہا دیکھ ایک چھوٹا سا بادل آدمی کے ہاتھ کے برابر سمندر میں سے اُٹھا ہے ۔ تب اُس نے کہا جا اور اخی اب سے کہہ کہ اپنا رتھ تیار کرا کے نیچے اُتر جا تاکہ بارش تُجھے روک نہ لے۔
45اور تھوڑی ہی دیر میں آسمان گھٹا اور آندھی سے سیاہ ہو گیا اور بڑی بارش ہوئی اور اخی اب سوار ہو کر یزرعیل کو چلا ۔
46اور خُداوند کا ہاتھ ایلیاہ پر تھا اور اُس نے اپنی کمر کس لی اور اخی اب کے آگے آگے یزرعیل کے مدخل تک دوڑا چلا گیا ۔