Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
43 verses
1اور ارام کے بادشاہ بن ہدد نے اپنے سارے لشکر کو اکٹھا کیا اور اُسکے ساتھ بقیس بادشاہ اور گھوڑے اور رتھ تھے اور اُس نے سامریہ پر چڑھائی کر کے اُسکا محاصرہ کیا اور اُس سے لڑا۔
2اور اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کے پاس شہر میں قاصد روانہ کیے اور اُسے کہلا بھیجا کہ بن ہدد یوں فرماتا ہے کہ ۔
3تیری چاندی اور تیرا سونا میرا ہے ۔ تیری بیویوں اور تیرے لڑکوں میں جو سب سے خوبصورت ہیں وہ میرے ہیں ۔
4اسرائیل کے بادشاہ نے جواب دیا اے میرے مالک بادشاہ ! تیرے کہنے کے مطابق میں اور جو کچھ میرے پاس ہے سب تیرا ہی ہے ۔
5پھراُن قاصدوں نے دوبارہ آکر کہا کہ بن ہدد یوں فرماتا ہے کہ میں نے تُجھے کہلا بھیجا تھا کہ تُو اپنی چاندی اور سونا اور اپنی بیویاں اور اپنے لڑکے میرے حوالے کر دے ۔
6لیکن اب میں کل اِسی وقت اپنے خادموں کو تیرے پاس بھیجوں گا ۔ سو وہ تیرے گھر اور تیرے خادموں کے گھروں کی تلاشی لیں گے اور جو کچھ تیری نگاہ میں نفیس ہو گا وہ اُسے اپنے قبضہ میں کر لے آئیں گے ۔
7تب اسرائیل کے بادشاہ نے مُلک کے سب بزرگوں کو بُلا کر کہا ذرا غور کرو اور دیکھو کہ یہ شخص کس طرح شرارت کے در پے ہے کیونکہ اُس نے میری بیویاں اور میرے لڑکے اور میری چاندی اور میرا سونا مجھ سے منگا بھیجا اور میںنے اُس سے انکار نہیں کیا ۔
8تب سب بزرگوں اور سب لوگوں نے اُس سے کہا تُو مت سُن اور مت مان ۔
9پس اُس نے بن ہدد کے قاصدوں سے کہا میرے مالک بادشاہ سے کہنا ھو کچھ تُو نے اپنے خادم سے پہلے طلب کیا وہ تو میں کرونگا پر یہ بات مُجھ سے نہیں ہو سکتی ۔ سو قاصد روانہ ہوئے اور اُسے یہ جواب سُنا دیا ۔
10تب بن ہدد نے اُسکو کہلا بھیجا کہ اگر سامریہ کی مٹی اُن سب لوگوں کے لیے جو میرے پیرو ہیں مُٹھیاں بھرنے کو بھی کافی ہو تو دیوتا مجھ سے ایسا ہی بلکہ اِس سے بھی زیادہ کریں !۔
11شاہِ اسرائیل نے جواب دیا تُم اُس سے کہناکہ جو ہتھیار باندھتا ہے وہ اُسکی مانند فخر نہ کرے جو اُسے اُتارتا ہے ۔
12جب بن ہدد نے جو بادشاہوں کے ساتھ سایبانوں میں مَے نوشی کر رہا تھا یہ پیغام سُنا تو اپنے مُلازموں کو حکم کیا کہ صف باندھ لو۔ سو اُنہوں نے شہر پر چڑھائی کرنے کے لیے صف آرائی کی ۔
13اور دیکھو ایک نبی نے شاہِ اسرائیل اخی اب کے پاس آکر کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ کیا تُو نے اِس بڑے ہجوم کو دیکھ لیا ؟ میں آج ہی اُسے تیرے ہاتھ میں کر دونگا اور تُو جان لے گا کہ خُداوند میں ہی ہوں ۔
14اُس نے کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ صوبوں کے سرداروں کے جوانوں کے وسیلہ سے ۔ پھر اُس نے پوچھا کہ لڑائی کون شروع کرے ؟ اُس نے جواب دیا کہ تُو ۔
15تب اُس نے صوبوں کے سرداروں کے جوانوں کوشمار کیا اور وہ دو سو بتیس نکلے ۔ اُنکے بعد اُس نے سب لوگوں یعنی سب بنی اسرائیل کی موجودات لی اور وہ سات ہزار تھے۔
16یہ سب دوپہر کو نکلے اور بن ہدد اور بتیس باداہ جو اُسکے مددگار تھے سایبانوں میں پی پی کر مست ہوتے جاتے تھے ۔
17سو صوبوں کے سرداروں کے جوا ن پہلے نکلے اور بن ہدد نے آدمی بھیجے اور اُنہوں نے اُسے خبر دی کہ سامریہ سے لوگ نکلے ہیں۔
18اُس نے کہااگر وہ صلح کے لیے نکلے ہوں تو اُن کو جیتا پکڑ لو اور اگر وہ جنگ کو نکلے ہوں تو بھی اُنکو جیتا پکڑو ۔
19تب صوبوں کے سرداروں کے جوان اور وہ لشکر جو اُنکے پیچھے ہو لیا تھا شہر سے باہر نکلے ۔
20اور اُن میں سے ایک ایک نے اپنے مُخالف کو ق��ل کیا ۔ سو ارامی بھاگے اور اسرائیل نے اُنکا پیچھا کیا اور شاہِ اِرام بن ہدد ایک گھوڑے پر سوار ہو کر سواروں کے ساتھ بھاگ کر بچ گیا ۔
21اور شاہِ اسرائیل نے نکل کر گھوڑوں اور رتھوں کو مارا اور ارامیوں کو بڑی خونریزی کے ساتھ قتل کیا ۔
22اور وہ نبی شاہِ اسرائیل کے پاس آیا اور اُس سے کہا جا اپنے کو مضبوط کر اور جو کچھ تو کرے اُسے غورسے دیکھ لینا کیونکہ اگلے سال شاہِ ارام پھر تُجھ پر چڑھائی کرے گا۔
23اور شاہِ ارا م کے خادموں نے اُس سے کہا اُنکا خُدا پہاڑی خُدا ہے اِس لیے وہ ہم پر غالب آئے لیکن ہم کو اُنکے ساتھ میدان میں لڑنے دے تو ضرور ہم اُن پر غالب ہونگے ۔
24اور ایک کام یہ کر کہ بادشاہوں کو ہٹا دے یعنی ہر ایک کو اُسکے عہدہ سے معزول کر دے اور اُنکی جگہ سرداروں کو مقرر کر ۔
25اور اپنے لیے ایک لشکر اپنی اُس فوج کی طرح جو تباہ ہو گئی گھوڑے کی جگہ گھوڑا اور رتھ کی جگہ رتھ گِن گِن کر تیار کر لے اور ہم میدان میں اُن سے لڑیںگے اور ضرور اُن پر غالب ہونگے۔ سو اُس نے اُنکا کہا مانا اور ایسا ہی کیا ۔
26اور اگلے سال بن ہدد نے ارامیوں کی موجودات لی اور اسرائیل سے لڑنے کے لیے افیق کو گیا ۔
27اور بنی اسرائیل کی موجودات بھی لی گئی اور اُنکی رسد کا انتظام کیا گیا اور یہ اُن سے لڑنے کو گئے اور بنی اسرائیل اُنکے برابر خیمہ زن ہو کر ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے حلوانوں کے دو چھوٹے دیوڑ پر ارامیوں سے وہ مُلک بھر گیا تھا ۔
28تب ایک مردِ خدا اسرائیل کے بادشاہ کے پاس آیا اور اُس سے کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ چونکہ ارامیوں نے یوں کہا ہے کہ خداوند پہاڑی خُدا ہے اور وادیوں کا خُدا نہیں اِس لیے میں اِس سارے بڑے ہجوم کو تیرے ہاتھ میں کر دونگا اور تُم جان لو گے کہ میں خداوند ہوں ۔
29اور وہ ایک دوسرے کے مقابل سات دن تک خیمہ زن رہے اور ساتویں دن جنگ چھڑ گئی اور بنی اسرائیل نے ایک دن میں ارامیوں کے ایک لاکھ پیادے قتل کر دیے ۔
30اور باقی افیق کو شہر کے اندر بھاگ گئے اور وہاں ایک دیوار ستائیس ہزار پر جو باقی رہے تھے گِری اور بن ہدد بھاگ کر شہر کے اندر ایک اندرونی کوٹھری میں گھُس گیا ۔
31اور اُسکے خادموں نے اُس سے کہا دیکھ ہم نے سُنا ہے کہ اسرائیل ے گھرانے کے بادشاہ رحیم ہوتے ہیں ۔ سو ہم کو ذرا اپنی کمروں پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسیاں باندھ کر شاہِ اسرائیل کے حضور جانے دے ۔ شاید وہ تیری جان بخشی کرے۔
32سو اُنہوں نے اپنی کمروں پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسیاں باندھیں اور شاہِ اسرائیل کے حضور آکر کہا کہ تیرا خادم بن ہدد یوں عرض کرتا ہے کہ مہربانی کر کے مجھے جینے دے ۔ اُس نے کہا کیا وہ اب تک جیتا ہے ؟ وہ میرا بھائی ہے ۔
33وہ لوگ بڑی توجہ سے سُن رہے تھے ۔ سو اُنہوں نے اُسکا دلی منشا دریافت کرنے کے لیے جھٹ اُس سے کہا کہ تبھائی بن ہدد ۔ تب اُس نے فرمایا کہ جاو اُسے لے آو ۔ تب بن ہدد اُس سے ملنے کو نکلا اور اُس نے اُسے اپنے رتھ پر چڑھا لیا ۔
34اور بن ہدد نے اُس سے کہا جن شہروں کو میرے باپ نے تیرے باپ سے لے لیا تھا میں اُنکو پھیر دونگا اور تُو اپنے لیے دمشق میں سڑکیں بنوا لینا جیسے میرے باپ نے سامریہ میں بنوائیں ۔ اخی اب نے کہا میں اِسی عہد پر تُجھے چھوڑ دونگا ۔ سو اُس نے اُس سے عہد باندھا اور اُسے چھوڑ دیا ۔
35سو انبیا زادوں میں سے ایک نے خُداوند کے حکم سے اپنے ساتھی سے کہا مُجھے مار پر اُس نے اُسے مارنے سے انکار کیا ۔
36تب اُس نے اُس سے کہا اِس لیے کہ تُو نے خداوند کی بات نہیں مانی سو دیکھ جیسے ہی تو میرے پاس سے روانہ ہو گا ایک شیر تُجھے مار ڈالے گا ۔ سو جیسے ہی وہ اُس کے پاس سے روانہ ہوا اُسے ایک شیر مِلا اور اُسے مار ڈالا ۔
37پھر اُسے ایک اور شخص مِلا ۔ اُس نے اُس سے کہا مجھے مار ۔ اُس نے اُسے مارا اور مار کر زخمی کر دیا ۔
38تب وہ نبی چلا گیا اور بادشاہ کے انتظار میں راستہ پر ٹھہرا رہا اور اپنی آنکھوں پر اپنی پگڑی لپیٹ لی اور اپنا بھیس بدل ڈالا۔
39جیسے ہی بادشاہ اُدھر سے گُذرا اُس نے بادشاہ سے دُہائی دی اور کہا کہ تیرا خادم جنگ ہوتے میں وہاں چلا گیا تھا اور دیکھ ایک شخص اُدھر مُڑ کر ایک آدمی کو میرے پاس لے آیا اور کہا کہ اِ س آدمی کی حفاظت کر ۔ اگر یہ کسی طرح غائب ہو جائے تو اُسکی جان کے بدلے تیری جان جائے گی اور نہیں تو تُجھے ایک قنطا ر چاندی دینی پڑے گی۔
40جب تیرا خادم اِدھر اُدھر مصروف تھا وہ چلتا بنا شاہِ اسرائیل نے اُس سے کہا تُجھ پر ویسا ہی فتویٰ ہو گا تُو نے آپ اِس کا فیصلہ کیا ۔
41تب اُس نے جھٹ اپنی آنکھوں پر سے پگڑی ہٹا دی اور شاہِ اسرائیل نے اُسے پہچانا کہ وہ نبیوں میں سے ہے۔
42اور اُس نے اُس سے کہا خداوند یوں فرماتا ہے اِس لیے کہ تُو نے اپنے ہاتھ سے ایک ایسے شخص کو نکل جانے دیا جسے میں نے واجب القتل ٹھہرایا تھا ، سو تُجھے اُس کی جان کے بدلے اپنی جان اور اُس کے لوگوں کے بدلے اپنے لوگ دینے پڑیں گے ۔
43سو شاہِ اسرائیل اُداس اور نا خوش ہو کر اپنے گھر کو چلا اور سامریہ میں آٰیا ۔