Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
50 verses
1ایک دن ساؤل کا بیٹا یُونتن نو جوان آدمی سے جو اسکا ہتھیا ر لئے ہو ئے تھا بات کر رہا تھا ۔ یونتن نے کہا ، " ہم لوگوں کو وادی کی دوسری طرف فلسطینیوں کے خیمہ میں چلنا چا ہئے ۔" لیکن یونتن نے اس کے بارے میں اپنے باپ سے نہ کہا ۔
2ساؤل جبعہ کے نکاس پر مُجرون میں انار کے درخت کے نیچے بیٹھا تھا ۔ یہ کھلیان کے قریب تھا ۔ ساؤل کے ساتھ تقریباً ۶۰۰ آدمی تھے ۔
3ان لوگوں کے درمیان اخیاہ نامی آدمی تھا ۔ وہ کا ہن کا چغہ پہنے تھا ۔ اخیاہ یکبود کے بھا ئی اخیطوب کا بیٹا تھا ۔ یکبود فینحاس کا بیٹا تھا ۔ فینحاس عیلی کا بیٹا تھا ۔ عیلی شیلاہ میں کا ہن تھا ۔ ان لوگوں نے نہیں جانا کہ یوُنتن وہاں سے پہلے ہی نکل گیا ہے ۔
4پہا ڑی راستے کے ہر طرف جس سے ہو کر یونتن فلسطینی خیمہ میں جانے کا منصوبہ بنا یا تھا بڑی بڑی نکیلی چٹانیں تھی نکیلی چٹان کا نام بوصیص تھا ۔ دوسری طرف کی بڑی چٹان کا نام سنہ تھا ۔
5ایک چٹان کا رُ خ شمال کی طرف مکماس کا جانب تھا اور دوسری بڑی چٹان کا رُخ جنوب کی جبع کی جانب تھا ۔
6یونتن نے اس کے نوجوان مددگار سے کہا ، " جو اس کا ہتھیار لئے ہو ئے تھا ۔ " آؤ ! ہم اجنیوں کی فوجوں کے خیمہ کی طرف چلیں ۔ ہو سکتا ہے خداوند ہمیں ان لوگوں کو شکست دینے میں مدد کریگا ۔ کو ئی بھی چیز خداوند کو نہیں رو ک سکتی انلوگوں کو بچانے سے ، چا ہے ہم لوگوں کے پاس سپا ہی کم ہو ں یا زیادہ ۔"
7نوجوان آدمی جو یونتن کا ہتھیار لئے ہو ئے تھا ان سے کہا ، " جو آپ بہتر سمجھیں وہی کریں آپ جو بھی فیصلہ کریں میں اس میں آپ کے ساتھ رہوں گا ۔"
8یونتن نے کہا ، " چلو ہم وادی کو پار کریں اور فلسطینی محافظین کے پاس جا ئیں ۔ ہم انہیں اپنے آپ کو دیکھنے دیں گے ۔
9اگر وہ ہم سے کہتے ہیں ، ' وہاں ٹھہرو جب تک ہم تمہا رے پاس نہ آئیں،' تو ہم جہاں ہیں وہیں ٹھہریں گے ۔ ہم اوپر ان لوگو ں تک نہیں جا ئیں گے ۔
10لیکن اگر فلسطینی آدمی کہتے ہیں ،' اوپر یہاں آ ؤ،' ہم اوپر ان کے پاس کود پڑیں گے کیوں کہ وہ خدا کی طرف سے نشان ہو گا اس کے معنی ہوں گے خداوند نے ہمیں ان کو شکست دینے کی اجازت دی ہے ۔"
11اس لئے ان دونوں نے فلسطینیوں کو خیمہ میں اپنے آپ کو دکھا ئے ۔ محافظین نے کہا ، " دیکھو ! عبرانی سوراخوں سے باہر آئے ہیں جس میں وہ چھپے ہو ئے تھے ۔"
12فلسطینیوں نے قلعہ میں یونتن اور اس کے مددگار کو پکا را " یہاں اوپر آ ؤ ہم تم کو سبق سکھا ئیں گے ۔" یونتن نے اس کے مددگار کو کہا ، " میرے ساتھ پہا ڑی کے اوپر آؤ خداوند اسرا ئیل کو فلسطینیوں کی شکست دینے کے لئے موقع دے رہا ہے ۔"
13اس لئے یونتن اپنے ہا تھوں اور پیروں کے سہا رے اوپر پہا ڑی پر چڑھ گیا اس کا مدد گار اس کے پیچھے تھا ۔ یونتن اور اس کے مددگار نے فلسطینیو ں پر حملہ کیا ۔ پہلے حملے میں انہوں نے تقریباً ڈیڑھ ایکڑ کے رقبہ میں بیس فلسطینیوں کو ہلاک کیا ۔ یونتن نے فلسطینیو ں پر حملہ کیا اور انہیں گرادیا۔ اس کا مددگار اس کے پیچھے آیا اور ان کو ہلاک کیا ۔
15کھیت میں ، خیمہ میں اور سبھی سپا ہیوں میں خوف کا لہر پھیلا ہوا تھا ۔ حتیٰ کہ محافظ فوج اور چھا پہ مار سپا ہی بھی ڈرگئے تھے ۔ زمین ہلنے لگی تھی ہر ایک آدمی خوفزدہ تھا ۔
16بنیمین کی زمین میں جبعہ میں ساؤل کے محافظین نے فلسطینیوں کو دیکھا کہ وہ ��دھر اُدھر بھا گ رہے ہیں ۔
17تب ساؤل نے اس فوج سے کہا ، " جو کہ اس کے ساتھی تھے آدمیوں کو گِنو میں جا ننا چا ہتا ہوں کہ کس نے چھا ؤنی چھو ڑا ۔" انہوں نے آدمیوں کو گنا ۔ تب انہوں نے جانا کہ یونتن اور اس کا ہتھیار لے جانے وا لا پہلے ہی جا چکا ہے ۔
18ساؤل نے اخیاہ سے کہا ، " حدا کا مقدس صندوق لا ؤ ۔" ( اس وقت خدا کا صندوق وہاں اسرا ئیلیوں کے پاس تھا ۔)
19ساؤل اخیاہ کاہن سے بات کر رہا تھا ۔ ساؤ ل خدا کی جانب سے نصیحت کا منتظر تھا لیکن پریشانی اور شور فلسطینی خیمہ میں بڑھتا ہی جارہا تھا ۔ ساؤل بے چین ہو رہا تھا ۔ آ خرکار ساؤل نے کا ہن اخیاہ سے کہا ، " یہ کا فی ہے اپنے ہا تھ نیچے کرو اور دعا کرنا بند کرو۔"
20ساؤ ل نے اس کی فوج کو اکٹھا کیا اورجنگ پر گیا ۔ فلسطینی سپاہی حقیقت میں پریشان تھے وہ انکی ہی تلواروں سے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے ۔
21وہا ں وہ عبرانی تھے جنہوں نے ماضی میں فلسطینیوں کی خدمت کی تھی اور فلسطینی خیمہ میں ٹھہرے تھے ۔ لیکن اب یہ عبرانی اسرا ئیلیوں میں ساؤل اور یونتن کے ساتھ مل گئے ۔
22تمام اسرا ئیلی جو افرائیم کے پہا ڑی شہر میں چھپے تھے سنا کہ فلسطینی سپا ہی بھاگ رہے ہیں اس لئے یہ اسرا ئیلی بھی جنگ میں شریک ہو ئے اور فلسطینیوں کا پیچھا کرنا شروع کیا ۔
23اس لئے خداوند نے اس دن اسرا ئیلیوں کو بچا یا ۔ جنگ بیت آون کے پار پہونچ گئی ۔ پو ری فوج ساؤل کے ساتھ تھی سا کے پاس تقریبا ً ۰۰۰،۱۰ آدمی تھے ۔ جنگ افرا ئیم کے پہا ڑی ملک سمیت ہر ایک شہر میں پھیل گئی۔
24اُس دن ساؤل نے ایک بڑی غلطی کی ۔ اس نے اپنے آدمیوں کو مجبور کیا کہ وہ عہد پرچلے ۔ اس لئے اسرا ئیلی سپا ہی اس دن کمزوری اور پریشانی میں تھے کیونکہ ساؤل ان لوگوں کو اس عہد کے بندھن میں رکھا تھا کہ اگر کو ئی آدمی آج رات کے پہلے کچھ کھاتا ہے تو وہ ملعون ہو گا ۔ پہلے میں اپنے دشمن سے بدلہ لینا چا ہتا ہوں ۔ اس لئے کو ئی بھی اسرا ئیلی سپا ہی کھانا نہیں کھا یا ۔
25لڑا ئی ہو نے کی وجہ سے لوگ جنگلوں میں چلے گئے تب انہوں نے دیکھا کہ زمین پر شہد کا چھتّہ ہے ۔ اسرا ئیلی شہد کے چھتّہ کے پاس گئے لیکن وہ اس کو کھا نہ سکے کیونکہ وہ عہد کو توڑنے سے ڈرتے تھے ۔
27لیکن یونتن کو اس عہد کے متعلق معلوم نہ تھا ۔ اس نے اپنے باپ کولوگو ں سے عہد کو پورا کرنے کے لئے مجبوراً وعدہ کراتے ہو ئے نہیں سنا تھا ۔ یونتن کے ہا تھ میں ایک چھڑی تھی اس نے چھڑی کے سِرے سے اس شہد کے چھتّہ کو دبا دیا اور کچھ شہد نکالا اس نے کچھ شہد کھا یا اور اپنی طاقت کو دو بارہ حاصل کیا ۔
28سپا ہیوں میں سے ایک نے یونتن سے کہا ، " تمہا رے والد نے سپا ہیوں سے زبردستی عہد کیا ہے تمہا رے والد نے کہا ہے کو ئی بھی آدمی جو آج کھا ئیگا اسکو سزا ملے گی اس لئے آدمیوں نے کو ئی چیز نہیں کھا ئی اسی وجہ سے آدمی کمزور ہیں ۔ "
29یونتن نے کہا ، " میرے والد نے سرزمین پربڑی تکلیف لا ئی ہیں۔ دیکھو میں شہد کو تھو ڑا سا چکھنے سے کس قدر بہتر محسوسو کر رہا ہوں۔
30اگر لوگ دشمنوں کی لوٹ میں سے اتنا کھا تے جتنا کھانا چاہتے تھے تو وہ ان میں سے اور زیادہ لوگوں کو مارتے ۔"
31اس دن اسرا ئیلیوں سے فلسطینیوں کو شکست دی وہ ہر طرح سے ان سے مکماس سے ایالون تک لڑے ۔ اس لئے لوگ بہت تھکے ہو ئے اور بھو کے تھے ۔
32انہوں نے فلسطینیوں سے بکریاں ، گا ئے اور بچھڑے لئے تھے ۔ اتنے بھو کے ہو نے کی وجہ سے لوگوں نے وہیں جانوروں کو ذبح کیا ، اور اسے کھا ئے ۔ اور خون ابھی تک ان جانوروں میں تھا ہی ۔
33ایک شخص نے ساؤل سے کہا ، " دیکھو لوگ خدا وند کے خلاف گناہ کر رہے ہیں وہ گوشت کھا رہے ہیں جس میں ابھی تک خون ہے ۔" ساؤل نے کہا ، " تم نے گناہ کئے ! اب یہاں پر ایک بڑے پتھر کو لُڑھکا ؤ۔"
34تب ساؤل نے کہا ، " آدمیوں کے پاس جا ؤ اور ان سے کہو ہر آدمی میرے سامنے بکریوں اور بیلوں کو لا ئے اور اسے ذبح کرے اور اسے کھا ئے ۔ لیکن ان گوشت کو کھا کر جس میں ابھی خون ہو خداوند کے خلاف گناہ مت کرو۔" اس رات ہر شخص اپنا جانور لا یا اور اسے وہیں ذبح کیا گیا ۔
35تب ساؤل نے ایک قربان گا ہ خداوند کے لئے بنا ئی ۔ یہ پہلی قربانگاہ تھی ۔ جسے اس نے خداوند کے لئے بنا ئی ۔
36ساؤل نے اپنے تمام لوگوں کو حکم دیا ، " آج رات ہم لوگ فلسطینیوں کا تعاقب کرینگے اور صبح اجالا ہو نے تک لوَ ٹیں گے ، تب پھر ان سبھوں کو مار دینگے ۔" فوج نے جواب دیا ، " جو آپ بہتر سمجھیں وہ کر سکتے ہیں ۔" لیکن کاہن نے کہا ، " یہ بہتر ہو گا کہ خدا سے پو چھ لیں،
37اس لئے ساؤل نے خداوند سے پو چھا " کیا مجھے فلسطینیوں کا تعاقب کرنا چا ہئے ؟ " کیا تم ہمارے ذریعہ فلسطینیوں کو شکست دیگا ۔ لیکن خدانے ساؤل کو کو ئی جواب نہ دیا ۔
38اس لئے ساؤل نے حکم دیا ، " تمام قائدین کو میرے پاس لا ؤ ۔ ہمیں معلوم کرنے دو کہ وہ کیا گناہ ہے جس کی وجہ سے خدانے ہمیں جواب نہ دیا ۔
39میں قسم سے کہتا ہوں( حلف ) خداوند کی کہ کون اسرا ئیل کو بچاتا ہے ۔ حتیٰ کہ میرا بیٹا یونتن بھی اگر گناہ کرے گا تو اس کو مرنا ہو گا۔" لوگوں میں سے کسی نے بھی ایک۔آ لفظ نہ کہا ۔
40تب ساؤل نے تمام اسرا ئیلیوں سے کہا ، " تم اس طرف کھڑے رہو میں اور میرا بیٹا یونتن دوسری طرف کھڑے رہیں گے ۔ " سپا ہیوں نے جواب دیا " جیسی آپ کی مرضی جناب ۔"
41تب ساؤل نے دعا کی ، " خداوند اسرا ئیل کے خدا تو نے آج اپنے خادموں کو کیوں جواب نہیں دیا ؟ اگر میں یا میرا بیٹا یونتن نے گنا ہ کیا ہے توخداوند اسرا ئیل کے خدا اور یم دے ۔ اگر تمہا رے بنی اسرا ئیلیوں نے گناہ کئے ہیں تو تمیم دے ۔" ساؤل اور یونتن کو چن لیا گیا اور لوگ آزاد رہے تھے ۔
42ساؤل نے کہا ، " ان کو دوبارہ پھینکو یہ بتانے کے لئے کہ کون قصور وار ہے میں یا میرا بیٹا یونتن ۔" یونتن چنا گیا ۔
43ساؤ ل نے یونتن سے کہا ، " مجھے کہو تم نے کیا کیا ہے ؟ " یونتن نے جواب دیا ، " میں نے اپنی چھڑی کے سِرے سے تھو ڑا شہد چکھا ، میں یہاں ہوں اور مرنے کے لئے تیار ہوں۔"
44ساؤل نے کہا ، " میں نے خدا سے قسم کھا ئی اور کہا کہ اگر میں قسم میں پو را نہ ہوا تو یونتن مر جا ئے ۔"
45لیکن سپا ہیوں نے ساؤل سے کہا ، " یونتن آج اسرا ئیل کے لئے عظیم فتح اور جلال لا یا ہے ۔ کیا یونتن کو مرنا چا ہئے ؟ کبھی نہیں ، ہم خدا کی حیات کی قسم کھا تے ہیں کو ئی بھی یونتن کو نقصان نہ پہو نچا ئے گا۔ یونتن کے سر کا ایک بال بھی زمین پر نہ گریگا ۔ خدا نے فلسطینیوں کے خلاف لڑنے میں اس کی مدد کی ۔" اس طرح لوگوں نے یونتن کو بچا لیا اور وہ ما را نہیں گیا ۔
46ساؤل نے فلسطینیوں کا تعاقب نہیں کیا ۔ فلسطینی واپس ان کی جگہ چلے گئے۔
47ساؤل نے مکمل اسرا ئیل پر قابو پا لیا ۔ساؤل نے تمام دشمنوں سے لڑا جو اسرا ئیل کے اطراف رہتے تھے ۔ ساؤل نے موآب ، عمونین ، ادوم ضوباہ کا بادشاہ اور فلسطینیوں سے لڑا ۔ ساؤل نے اسرا ئیل کے دشمنوں کو جہاں بھی گیا شکست دی ۔
48ساؤل بہت بہادر تھا وہ عمالیقیوں کو شکست دی اور وہ اسرا ئیل کو دشمنوں سے بچا یا جو ان کو لوٹنے کی کو شش کر رہے تھے ۔
49ساؤل کے بیٹے یونتن اِسوی اور ملکیشوع تھے ۔ ساؤل کی بڑی بیٹی کانام میرب تھا اور چھو ٹی لڑکی کانام میکل تھا ۔
50ساؤل کی بیوی کانام اخینوعم تھا ۔ اخینوعم اخیمعص کی بیٹی تھی ۔ ساؤل کی فوج کے سپہ سالا ر کانام ابنیر تھا وہ نیر کا بیٹا ۔ نیر ساؤل کا چچا تھا ۔
51ساؤل کا باپ قیس تھا ۔ اور نیر کا باپ ابنیر تھا ۔ ابنیر کا باپ ابی ایل تھا ۔
52ساؤل کی پو ری دورِ حکومت میں فلسطینیو ں کے خلاف ہمیشہ گھمسان کی جنگ ہو تی تھی ۔ جہاں کہیں بھی ساؤل نے اگر اچھا سپا ہی یا بہا در آدمی دیکھا تو اس نے اسے اپنے کام میں لے لیا ۔