Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
54 verses
1پھر فِلستیوں نے جنگ کے لئے اپنی فَوجیں جمع کِیں اور یہُودؔا کے شہر شؔوکہ میں فراہم ہُوئے اور شؔوکہ اور عؔزیقہ کے درمیان افسؔدمیمِ میں خَیمہ زن ہوئے۔
2اور سؔاؤل اور اِؔسرائیل کے لوگوں نے جمع ہو کراؔیلہ کی وادی میں ڈیرے ڈالے اور لڑائی کے لئے فِلستیِوں کے مُقابل صف آرائی کی۔
3اور ایک طرف کے پہاڑ پر فِلستی اور دُوسری طرف کے پہاڑ پر بنی اِسرائیل کھڑے ہُوئے اور اِن دونوں کے درمیان وادی تھی۔ (۴) اور فِلستیوں کے لشکر سے ایک پہلوان نِکلا جسکا نام جاتی جوؔلیت تھا۔ اُسکا قد چھ ہاتھ اور ایک بالشِت تھا۔
5اور اُسکے سر پر پِتیل کا خود تھا اور وہ پیتل ہی کی زِرہ پہنے ہُوئے تھا جو تول میں پانچ ہزار پیتل کی مِثقال کے برابر تھی۔ اور اُسکی ٹانگوں پر پَیتل کے دو ساق پوش تھے اور اُسکے دونوں شانوں کے درمیان پیتل کی برچھی تھی۔
7اور اُسکے بھالے کی چھڑ اَیسی تھی ج،جَیسے جُلا ہے کا شہتیر اور اُسکے نیزہ کا پھل چھ سَو مِثقال لوہے کا تھا اور ایک شخص سِپر لئے ہوئے اُسکے آگے آگے چلتا تھا۔
8وہ کھرا ہُؤا اور اِسؔرائیل کے لشکروں کو پُکا کر اُن سے کہنے لگا کہ تُم نے آکر جنگ کے لئے کیوں صف آرائی کی ؟ کیا مَیں فلِستی نہیں اور تُم سؔاؤل کے خادِم نہیں ؟ سو اپنے لئے کِسی شخص کو چُنو جو میرے پاس اُتر آئے ۔
9اگر وہ مُجھ سے لڑ سکے اور مُجے قتل کر ڈالے تو ہم تُمہارے خادِ م ہو جائینگے پر اگر مَیں اُس پر غالب آؤ ں اور اُسے قتل کر ڈالوُں تو تُم ہمارے خادِم ہو جانا اور ہماری خِدمت کرنا ۔ پھر اُس فِلستی نے کہا کہ مَیں آج کے دِن اِسرائیلی فَوجوں کی فِضیحت کرتا ہُوں ۔ کوئی مرد نِکالو تاکہ ہم لڑیں ۔
11جب سؔاؤل اور سب اِسرائیلیوں نے اُس فِلستی کی باتیں سُنیں تو ہراسان ہوئے اور نہایت ڈر گئے ۔
12اور دؔاؤد بیَت ؔالحم یُہوؔداہ کے اُس افراتی مرد کا بیٹا تھا جسکا نام یؔسّی تھا۔ اُسکے آٹھ بیٹے تھے اور وہ آپ سؔاؤل کے زمانہ کے لوگوں کے درمیان بُڈھا اور عُمر رِسیدہ تھا۔
13اور یؔسّی کے تین بڑے بیٹے سؔاؤل کے پیچھے پیچھے جنگ میں گئے تھے اور اُسکے تینوں بیٹوں کے نام جو جنگ میں گئے تھے یہ تھے اؔلیاب جو پہلوٹھا تھا ۔ دُوسرا اؔبینداب اور تِیسرا سؔمہّ۔
14اور دؔاؤد سب سے چھوٹا تھا اور تینوں بڑے بیٹے سؔاؤل کے پیچھے پیچھے تھے۔
15اور دؔاؤد بیتؔ لحم میں اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چرانے کو سؔاؤل کے پاس سے آیا جایا کرتا تھا ۔
16اور وہ فِلستی صُبح اور شام نزدِیک آتا اور چالِیس دِن تک نِکلکر آتا رہا۔
17اور یؔسّی نے اپنے بیٹے دؔاؤد سے کہا کہ اِس بُنے اناج میں سے ایک ایفہ اور یہ دس روٹیاں اپنے بھائیوں کے لئے لیکر اِنکو جلد لشکر گاہ میں اپنے بھائیوں کے پاس پُہنچا دے ۔ اور اُنکے ہزاری سردار کے پاس پِنیر کی یہ دس ٹِکیاں لے جا اور دیکھ کہ تیرے بھائیوں کا کیا حال ہے اور اُنکی کچھ نشانی لے آ۔
19اور سؔاؤل اور وہ بھائی اور سب اِسرائیلی مرد ایلہؔ کی وادی میں فِلستیوں سے لڑرہے تھے۔
20اور دؔاؤد صبح کو سویرے اُٹھا اور بھیڑ بکریوں کو ایک نگِہبان کے پاس چھوڑ کر یؔسّی کے حُکم کے مُطابق سب کچھ لیکر روانہ ��ُؤا اور جب وہ لشکر جو لڑنے جا رہا تھا جنگ کے لئے للکار رہا تھا اُس وقت وہ چھکڑوں کے پڑاؤ میں پُہنچا۔
21اور اِسرائیلیوں اور فِلستیوں نے اپنے اپنے لشکر کو آمنے سامنے کر کے صف آرائی کی۔
22اور دؔاؤد اپنا سامان اسباب کے نِگہبان کے ہاتھ میں چھوڑ کر آپ لشکر میں دَوڑ گیا اور جا کر اپنے بھائیوں سے خَیر و عافیت پوچھی ۔
23اور وہ اُن سے باتیں کرتا ہی تھا کہ دیکھو وہ پہلوان جاؔت کا فِلستی جسکا نام جؔولیت تھا فِلستی صفوں میں سے نِکلا اور اُس نے پھر وَیسی ہی باتیں کہیں اور دؔاؤد نے اُنکو سُنا۔
24اور سب اسرئیلی مرد اُس شخص کو دیکھ کر اُسکے سامنے سے بھاگے اور بہت ڈر گئے۔
25تب اِسرائیلی مرد یُوں کہنے لگے تُم اِس آدمی کو جو نِکلا ہے دیکھتے ہو ؟ یقیناً یہ اِؔسرائیل کی فضِیحت کرنے کو آیا ہے۔ سو جو اُسکو مار ڈالے اُسے بادشاہ بڑی دَولت سے نِہال کریگا اور اپنی بیٹی اُسے بیاہ دیگا اور اُسکے باپ کے گھرانے کو اِؔسرائیل کے دریمان آزاد کردیگا۔
26اور دؔاؤد نے اُن لوگوں سے جو اُسکے پاس کھڑے تھے پُوچھا کہ جو شخص اِس فِلستی کو ماکر یہ ننگ اِؔسرائیل سے دُور کرے اُس سے کیا سَلوُک کِیا جائیگا؟ کیونکہ یہ نامخُتون فِلستی ہو تاکہ کَون ہے کہ وہ زِندہ خُد ا کی فَوجوں کی فضِیحت کرے؟۔
27اور لوگوں نے اُسے یہی جواب دِیا کہ اُس شخص سے جو اُسے مار ڈالے یہ سُلُوک کِیا جائیگا۔
28اور اُسکے سب سے بڑے بھائی الؔباب نے اُسکی باتوں کو جو وہ لوگوں سے کرتا تھا سُنا اور اؔلباب کا غُصہّ دؔاؤد پر بھڑکا اور وہ کہنے لگا تُو یہاں کیوں آیا ہے اور وہ تھوڑی سی بھیڑ بکریاں تُو نے جنگل میں کِس کے پاس چھوڑیں ؟ مَیں تیرے گھمنڈ اور تیرے دِل کی شرارت سے واقِف ہُوں ۔ تُو لڑائی دیکھنے آیا ہے ۔
29دؔاؤد نے کہا مَیں نے اب کیا کیا؟ کیا بات ہی نہیں ہو رہی ہے؟ ۔
30اور وہ اُسکے پاس سے پھِر کر دُوسرےکی طرف گیا اور وَیسی ہی باتیں کرنے لگا اور لوگوں نے اُسے پھر پہلے کی طرح جواب دِیا۔
31اور جب وہ باتیں جو دؔاؤد نے کِہیں سُننے میں آئیں تُو اُنہوں نے سؔاؤل کے آگے اُس کا چرچا کیا اور اُس نے اُسے بُلا بھیجا ۔
32اور دؔاؤد نے سؔاؤل سے کہا کہ اُس شخص کے سبب سے کِسی کا دِل نہ گھبرائے ۔ تیرا خادِ م جا کر اُس فِلستی سے لڑیگا۔
33ساؔؤل نے دؔاؤد سے کہا کہ تُو اِس قابِل نہیں کہ اُس فِلستی سے لڑنے کو اُسکے سامنے جائے کیونکہ تُو محض لڑکا ہے اور وہ اپنے بچپن سے جنگی مرد ہے ۔
34تب دؔاؤد نے سؔاؤل کو جواب دِیا کہ تیرا خادِم اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور جب کبھی کوئی شیر یا ریچھ آکر جُھنڈ میں سے کوئی برّہ اُٹھا لے جاتا۔
35تو مَیں اُسکے پیچھے پیچھے جا کر اُسے مارتا اور اُسے اُسکے مُنہ سے چُھڑا لاتا تھا اور جب وہ مُجھ پر جھپٹتا تو مَیں اُسکی داڑی پکڑ کر اُسے مارتا اور ہلاک کر دیتا تھا۔
36تیرے خادِم نے شیر اور رِیچھ دونوں کو جان سے مارا۔ سو یہ نامختُون فِلستی اُن میں سے ایک کی مانند ہوگا اِسلئِے کہ اُس نے زندہ خُدا کی فَوجوں کی فضِیحت کی ہے۔
37پھر دؔاؤد نے کہا کہ خُداوند نے مُجھے شیر اور ریچھ کے پنجہ سے بچایا ۔ وُہی مُجھ کو اِس فِلستی کے ہاتھ سے بچائیگا۔ سؔاؤل نے دؔاؤد سے کہا جا خُداوند تیرے ساتھ رہے۔
38تب سؔاؤل نے اپنے کپڑے دؔاؤد کو پہنائے اور پیتل کا خد اُسکے سر پر رکھّا اور اُسے زِرہ بھی پہنائی ۔
39اور دؔاؤد نے اُسکی تلوار اپنے کپڑوں پر کس لی اور چلنے کی کوشِش کی کیونکہ اُس نے اِنکو آزمایا نہیں تھا۔ تب دؔاؤد نے سؔاؤل سے کہا مَیں اِنکو پہنکر چل نہیں سکتا کیونکہ میں نے اِن کو آزمایا نہیں ہے۔ سو دؔاؤد نے اُن سب کو اُتار دِیا۔
40اور اُس نے اپنی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لی اور اُس نالہ سے پانچ چکنے پتھر اپنے واسطے چُن کر اُنکو چرواہے کے تھیلے میں جو اُسکے پاس تھا یعنی جھولے میں ڈال لیا اور اُسکا فلاخن اُسکے ہاتھ میں تھا ۔ پھِر وہ اُس فِلستی کے نزدیک چلا۔
41اور وہ فِلستی بڑھا اور دؔاؤد کے نزدیک آیا اور اُسکے آگے آگے اُسکا سِپر برادر تھا۔
42اور جب اُس فلِستی نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور دؔاؤد کو دیکھا تو اُسے ناچیز جانا کیونکہ وہ محض لڑکا تھا اور سُرخ رُو اور نازُک چہرہ کا تھا۔
43سو فِلستی نے دؔاؤد سے کہا کیا مَیں کُتاّ ہوُں جو تُو لاٹھی لیکر میرے پاس آتا ہے۔ ؟ اور فلسِتی نے اپنے دیوتاؤں کا نام لیکر دؔاؤد پر لعنت کی ۔
44اور اُس فِلستی نے دؔاؤد سے کہا تُو میرے پاس آ اور مَیں تیرا گوشت ہوائی پرنِدوں اور جنگلی دِرندوں کو دُونگا۔
45اور دؔاؤد نے اُس فِلستی سے ککہا کہ تُو تلوار بھالا اور برچھی لئے ہوُئے میرے پاس آتا ہے پر مَیں ربُّ الافواج کے نام سے جو اؔسرائیل کے لشکروں کا خُدا ہے جِسکی تُو نے فضیحت کی ہے تیرے پاس آتا ہُوں ۔
46اور آج لی کے دِن خُداوند تُجھ کو میرے ہاتھ میں کر دیگا اور مَیں تُجھ کو مار کر تیرا سر تُجھ پر سے اُتار لوُ نگا اور مَیں آج کے دِن فِلسِتیوں کے لشکر کی لاشیں ہوائی پرنِدوں اور زمین کے جنگلی جانوروں کو دُونگا تاکہ دُنیا جان لے کہ اِؔسرائیل میں ایک خُدا ہے ۔
47اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خُداوند تلوار اور بھالے کے ذریعہ سے نہیں بچاتا اِسلئے کہ جنگ تو خُداوند کی ہے اور وُہی تُم کو ہمارے ہاتھ میں کریدگا۔
48اور اَیسا ہُؤا کہ جب وہ فِلستی اُٹھا اور بڑھ کر دؔاؤد کے مُقابلہ کے لئے نزدیک آیا تو دؔاؤد نے جلدی کی اور لشکر کی طرف اُس فِلستی سے مُقابلہ کرنے کو دَوڑا۔
49اور دؔاؤد نے اپنے تَھیلے میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اُس میں سے ایک پتّھر فلاخن میں رکھکر اُس فِلستی کے ماتھے پر مارا ااور وہ پتّھر اُسکے ماتھے کے اندر گُھس گیا اور وہ زمین پر مُنہ کے بل گِر پڑا ۔
50سو دؔاؤد اُس فلاخن اور ایک پتّھر سے اُس فلِستی پر غالب آیا اور اُس فِلستی کو مارا اور قتل کیا اور دؔاؤد کے ہاتھ میں تلوار نہتھی۔
51اور دؔاؤد دَوڑ کر اُس فِلستی کے اُوپر کھڑا ہوگیااور اُسکی تلوار پکڑ کر مِیان سے کھینچی اور اُسے قتل کیا اور اُسی سے اُسکا سر کاٹ ڈالا اور فِلسِتیوں نے جو دِیکھا کہ اُنکا پہلوان مارا گیا تو وہ بھاگے۔
52اِؔسرائیل اور یؔہُوداہ کے لوگ اُٹھے اور للکار کر فِلسِتیوں کو گؔٹی اور عؔقرُون تک گِرتے گئے۔
53تب بنی اؔسرائیل فِلستیوں کے تعاقب سے اُلٹے پھرے اور اُنکے خَیموں کو لُوٹا۔
54اور دؔاؤد اُس فلِستی کا سر لیکر اُسے یؔروشلِیم میں لایا اور اُسکے ہتھیاروں کو اُس نے اپنے ڈیرے میں رکھ دیا۔
55جب سؔاؤل نے دؔاؤد کو اُس فِلستی کا مُقابلہ کرنے کے لئے جاتے دیکھا تو اُس نے لشکر کے سردار اؔبنیر سے پُوچھا اؔبنیر یہ لڑکا کِس کا بیٹا ہے ؟ ابؔنیر نے کہا اَے بادشاہ تیری جان کی قسم مَیں نہیں جانتا۔
56تب بادشاہ نے کہا تُو تحقیق کر کہ یہ نَوجوان کِس کا بیٹا ہے۔
57اور جب دؔاؤد اُس فِلستی کو قتل کر کے پھرا تو اؔبینر اُسے لیکر سؔاؤل کے پاس لایا اور فِلستی کا سر اُسکے ہاتھ میں تھا ۔
58تب سؔاؤل نے اُس سے کہا اَے جوان تو کِس کا بیٹا ہے؟ داؔؤد نے جواب دِیا مَیں تیرے خادِم بَیت لحمی یؔسّی کا بیٹا ہُوں ۔