Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
25 verses
1اور زیفی جبؔعہ میں ساؔؤل کے پاس جا کر کہنے لگے کیا داؔؤد حِکیلہ کے پہاڑ میں جو دشت کے سامنے ہے چھپا ہُؤا نہیں ؟۔
2تب ساؔؤل اُٹھا اور تین ہزار چُنے ہوُئے اِسرائیلی جوان اپنے ساتھ لیکر دشتِ زِیف کو گیا تاکہ اُس دشت میں داؔؤد کو تلاش کرے۔
3اور ساؔؤل حِکیلہ کے پہاڑ میں جو دشت کے سامنے ہے راستہ کے کنارہ خَیمہ زن ہُؤا پر داؔؤد دشت میں رہا اور اُس نے دیکھا کہ ساؔؤل اُسکے پیچھے دشت میں آیا ہے۔
4پس داؔؤد نے جاسُوس بھیجکر معلُوم کر لیا کہ ساؔؤل فی الحقیقت آیا ہے۔
5تب داؔؤد اُٹھ کر ساؔؤل کی خَیمہ گاہ میں آیا اور وہ جگہ دیکھی جہاں ساؔؤل اور نؔی کا بیٹا ابنیرؔ بھی جو اُسکے لشکر کا سردار تھا آرام کر رہے تھے اور ساؔؤل گاڑیوں کی جگہ کے بیچ سوتا تھا اور لوگ اُسکے گرِد اِگرد ڈیرے ڈالے ہُوئے تھے۔
6تب داؔؤد ؛نے حتیّ اخؔیملک اور ضؔرویا کے بیٹے ابیشے اسے جو یؔوآب کا بھائی تھا کہا کَون میرے ساتھ ساؔؤل کے پاس خَیمہ گاہ میں چلیگا؟۔ ابیشے نے کہا میں تیرے ساتھ چلوُنگا۔
7ابیشے رات کو لشکر میں گھسے اور دیکھا کہ ساؔؤل گاڑیوں کی جگہ کے بیچ میں پڑا سو رہا ہے اور اُسکا نیزہ اُسکے سرہانے زمین میں گڑا ہُؤا ہے اور ابؔنیر اور لشکر کے لوگ اُسکے گِرد پرے ہیں ۔
8تب اؔبیشے نے دؔاؤد سے کہا خُدا نے آج کے دِن تیرے دُشمن کو تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے سو اب تُو ذرا مجھ کو اجازت دے کہ نیزہ کے ایک ہی وار میں اُسے زمین سے پیوند کر دُوں اور مَیں اُس پر دُوسرا وار کرنے کا بھی نہیں ۔
9داؔؤد نے ابِیشؔے سے کہا اُسے قتل نہ کر کیونکہ کَون ہے جو خُداوند کے ممسُوح پر ہاتھ اُٹھائے اور بے گُناہ ٹھہرے ۔؟۔
10اور داؔؤد نے یہ بھی کہا کہ خُداوند کی حیات کی قسم خُداوند آپ اُسکو ماریگا یا اُسکی مَوت کا دِن آئیگا یا وہ جنگ میں جا کر مر جائیگا ۔
11لیکن خُداوند نہ کرے کہ مَیں خُداوند کے ممسُوح پر ہاتھ چلاؤں پر ذرا اُسکے سرہانے سے یہ نیزہ اور پانی کی صُراحی اُٹھا لے ۔ پھر ہم چلے چلیں ۔
12سو داؔؤد نے نیزہ اور پانی کی صُراحی ساؔؤل کے سرہانے سے اُٹھا لی اور وہ چل دِئے اور نہ کسی آدمی نے یہ دیکھا اور نہ کِسی کی خبر ہُوئی اور نہ کو ئی جاگا کیونکہ وہ سب کے سب سوتے تھے اِسلئے کہ خُداوند کی طرف سے اُن پر گہری نیند آئی ہُوئی تھی ۔
13پھر داؔؤد دُوسری طرف جا کر اُس پہاڑ کی چوٹی پر دُور کھڑا رہا اور اُنکے درمیان ایک بڑا فاصِلہ تھا۔
14اور داؔؤد نے اُن لوگوں کو اور نیؔر کے بیٹے ابنؔیر کو پُکار کر کہا کہ اَے ابؔنیر تو جواب نہیں دیاتا ؟ ابؔنیر نے جواب دِیا تُو کَون ہے جو بادشاہ کو پُکارتا ہے؟۔
15داؔؤد نے ابؔنیر سے کہا کیا تُو بڑا بہادر نہیں اور کون بنی اِسرائیل میں تیرا نِظیر ہے ؟ پس کِس لئے تو نے اپنے مالک بادشاہ کی نگہبانی نہ کی؟ کیونکہ ایک شخص تیرے مالک بادشاہ کو قتل کرنے گُھس تھا ۔
16پس یہ کام تُو نے کُچھ اچھا نہ کیا ۔ خُداوند کی حیات کی قسم تُم واجب القتل ہو کیونکہ تُم نے اپنے مالک کی جو خُداوند کا ممسُوح ہے نگہبانی نہ کی ۔ اب ذرا دیکھ کہ بادشاہ کا بھالا اور پانی کی صُراحی جو اُسکے سرہانے تھی کہاں ہیں ۔
17تب ساؔؤل نے اُسکی آواز پہچانی اور کہا اَے میرے بیٹے داؔؤد کیا یہ تیری آ��از ہے ؟ داؔؤد نے کہا اَے میرے مالِک بادشاہ! یہ میری ہی آواز ہے۔
18اور اُس نے کہا میرا مالک کیون اپنے خادِ م کے پیچھے پڑا ہے؟ مَیں نے کیا کیا ہے اور مجھ میں کیا بدی ہے ؟۔
19سو اب ذرا میرا مالک بادشاہ اپنے بندہ کی باتیں سُنے اگر خُداوند نے تجھے کو میرے خِلاف اُبھارا ہو تو وہ کوئی ہدیہ منظور کرے اور اگر یہ آدمیوں کا کام ہو تو وہ خُداوند کے آگے ملُعون ہو کیونکہ اُنہوں نے آج کے دِن مجھکو خارج کیا ہے کہ مَیں خُداوند کی دی ہُوئی میراث میں شامل نہ رہُوں اور مجھ سے کہتے ہیں ج اور دیوتاؤں کی عبادت کر
20سو اب خُداوند کی حُضُوری سے الگ میرا خُون زمین پر نہ بہے کیونکہ بنی اِسرائیل کا بادشاہ ایک پسو ڈھونڈنے کو اِس طرح نِکلا ہے جَیسے کو ئی پہاڑوں پر تِیتر کا شکا کرتا ہو۔
21تب ساؔؤل نے کہا کہ مَیں نے خطا کی ۔ اَے میرے بیٹے داؔؤد لَوٹ آ کیونکہ مَیں پھر تجھے نقصان نہیں پہنچاؤنگا۔ اِسلئے کہ میری جان آج کے ددِن تیری نِگاہ میں قیمتی ٹھہری ۔ دیکھ میں نے حماقت کی اور نہایت بڑی گھُول مجھ سے ہُوئی ۔
22داؔؤد نے جواب دِیا اِے بادشاہ ! اِ س بھالا کو دیکھ ! سو جوانوں میں سے کوئی آکر اِسے لے جائے۔
23اور خُداوند ہر شخص کو اُسکی صداقت اور دیانتداری کے مُوافِق جزا دیگا کیونکہ خُدوند نے آج تجھے میرے ہاتھ میں کر دیا تھا پر میں نے نہ چا ہا کہ خُداوند کے ممسُوح پر ہاتھ اُٹھاؤں ۔
24اور دیکھ جس طرح تیری زِندگی آج میری نظر میں گِران قدر ٹھہری اِسی طرح میری زندگی خُداوند کی نگِاہ میں گرِان قدر ہو اور وہ مجھے سب تکلیفوں سے رہائی بخشے ۔
25تب ساؔؤل نے داؔؤد سے کہا اِے میرے بیٹے داؔؤد تو مُبارک ہو! تُو بڑے بڑے کام کریگا اور ضرور فتحمند ہوگا ۔ سو داؔؤد اپنی راہ چلا گیا اور ساؔؤل اپنے مکان کو لَوٹا۔