Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
14 verses
1آسا کی سلطنت کے چھتیسویں برس اسرائیل کا بادشاہ بعشا یہوداہ پر چڑھ آیا اور رامہ کو تعمیرکیا تا کہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کے ہاں کسی کو آنے جانے نہ دے۔
2تب آسا نے خُداوند کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں میں سے چاندی اور سونا نکال کر ارام کے بادشاہ بن ہدد کے پاس جو دمشق میں رہتا تھاروانہ کیا اور کہلا بھیجا کہ۔
3میرے اور تیرے درمیان اور میرے باپ اور تیرے باپ کے درمیان عہد و پیمان ہے۔دیکھ میں نے تیرے لیئے چاندی اور سونا بھیجا ہے۔ سو تُو جا کر شاہ اسرائیل بعشا سے عہد شکنی کر تاکہ وہ میرے پاس سے چلا جائے۔
4اور بن ہدد نے آسا بادشاہ کی بات مانی اور اپنے لشکروں کے سرداروں کو اسرائیلی شہروں پر چڑھائی کرنے کو بھیجا۔سو انہوں نے عیون اور دان اور ابیل مائم اور نفتالی کے ذخیرہ کے سب شہروں کو غارت کیا۔
5جب بعشا نے یہ سُنا تو رامہ کا بنانا چھوڑا اور اپنا کام بند کر دیا۔
6تب آسا بادشاہ نے سارے یہوداہ کو ساتھ لیا اور وہ رامہ کی پتھروں اور لکڑیوں کو جن سے بعشا تعمیر کر رہا تھا اُٹھا لے گئے اور اُس نے اُن سے جبعہ اور مِصفاہ کر تعمیر کیا۔
7اُس وقت حنانی غیب بین یہوداہ کے بادشاہ آسا کے پاس آکر کہنے لگا چونکہ تُو نے ارام کے بادشاہ پر بھروسہ کیا اور خُداوند اپنے خُدا پر بھروسہ نہ رکھا اِسی سبب سے ارام کیبادشاہ کا لشکر تیرے ہاتھ سے بچ نکلا ہے ۔
8کیا کَوشی اور لَوبی انبوہِ کثیر نہ تھے جن کے ساتھ گاڑیاں اور سوار بڑی کثرت سے تھے ؟ تَو بھی چونکہ تُو نے خُداوند پر بھروسہ رکھا اُس نے اُنکو تیرے ہاتھ میں کر دیا۔
9کیونکہ خُداوند کی آنکھیں ساری زمین پر پھرتی ہیں تاکہ وہ اُن کی امداد میں جن کا دل اُس کی طرف کامل ہے اپنے تئیں قوی دکھائے۔ اس بات میں تُو نے بیوقوفی کی کیونکہ اب سے تیرے لیئے جنگ ہی جنگ ہے۔
10تب آسا نے اُس غیب بین سے خفا ہو کر اُسے قید خانے میں ڈال دیا کیونکہ وہ اس کلام کے سبب سے نہایت غضبناک ہوا اور آسا نے اُس وقت لوگوں میں سے بعض اوروں پر بھی ظُلم کیا۔
11اور دیکھو آسا کے کام شروع سے آخر تک یہوداہ اور اسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں۔
12اور آسا کی سلطنت کے اُنتالیسویں برس اُس کے پاؤں میں ایک روگ لگا اور وہ روگ بُہت بڑھ گیا تو بھی وہ اپنی بیماری میں خُداوند کا طاپب نہیں بلکہ طبیبوں کا خواہاں ہوا۔
13اور آسا اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا ۔اُس نے اپنی سلطنت کے اکتالیسویں بر میں وفات پائی۔
14اور انہوں نے اُسے اُن قبروں میں جو اُس نے اپنے لیئے داؤد کے شہر میں کھدوائی تھیں دفن کیا اور اُسے اُس تابوت میں لٹا دیا جو عِطروں اور قسم قسم کے مصالج سے بھرا تھا جنکو عطاروں کی حکمت کے مُطابق تیار کیا تھا اور اُنہوں نے اُس کے لیئے اُن کو خُوب جلایا۔