Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
42 verses
1تب سلیمان نے کہا خُداوند نے فرمایا ہے کہ وہ گہری تاریکی میں رہے گا ۔
2لیکن میں نے ایک گھر تیرے رہنے کے لیئے بلکہ کہ تیری دائمی سکونت کے واسطے ایک جگہ بنائی ہے۔
3اور بادشاہ نے اپنا منہ پھیرا اور اسرائیل کی ساری جماعت کو برکت دی اور اسرائیل کی ساری جماع کھڑے رہی۔
4سو اُس نے کہا خُداوند اسرائیل کا خُدا مُبارک ہو جس نے اپنے منہ سے میرے باپ داؤد سے کلام کیا اور اُسے اپنے ہاتھوں سے یہ کہکر پُورا کیا ۔
5کہ جس دن سے میں اپنی قوم کو مُلکِ مصر سے نکال لایا تب سے میں نے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے نہ تو کسی شہر کو چُنا تاکہ اُس میں گھر بنایا جائے اور وہاں میرا نام ہو اور نہ کسی مرد کو چُنا تاکہ وہ میری قوم اسرائیل کا پیشوا ہو۔
6پر میں یروشلیم کو چُنا کہ وہاں میرا نام ہو اور داؤد کو چُنا کہ وہ میری قوم سرائیل پر حاکم ہو۔
7اور میرے باپ داؤد کے دل میں تھا کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کے نام کے لیئے ایک گھر بنائے۔
8پر خُداوند نے میرے باپ داؤد سے کہا چونکہ میرے نام کے لیئے گھر بنانے کا خیال تیرے دل تھا سو تُو نے اچھا کیا کہ اپنے دل میں ایسا ٹھانا۔
9تُو بھی تُو اس گھر کو نہ بنانا بلکہ تیرا بیٹا جو تیرے صُلب سے نکلیگا وہی میرے نام کے لیئے گھر بنائے گا۔
10اور خُداوند نے اپنی وہ بات جو اُس نے کہی تھی پُوری کی کیونکہ میں اپنے باپ داؤد کی جگہ اُٹھا ہوں اور جیسا خُدا نے وعدہ کیا تھا میں اسرائیل کے تخت پر بیٹھا ہوں اور میں نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کے نام کے لیئے اس گھر کو بنایا ۔
11اور وہیں میں نے وہ صندوق رکھا ہے جس میں خُداوند کا وہ عہد جو اُس نے بنی اسرائیل سے کیا۔
12اور سلیمان نے اسرائیل کی ساری جمعت کے رُوبرُو خُداوند کے مذبح کے آگے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ پھیلائے۔
13کیونکہ سلیمان نے پانچ ہاتھ لمبا اور پانچ ہاتھ چوڑا اور تین ہاتھ اُونچا پیتل کا ایک ممبر ا کر صحن کے بیچ میں اُسے رکھا تھا۔ اُسی پر وہ کھڑا تھا۔سو اُس نے اسرائیل کی ساری جماعت کے رُوبرُو گُھٹنے ٹیکے اور آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے ۔
14اور کہنے لگا اے خُداوند اسرائیل کے خُدا تیری مانند نہ تو آسمان میں نہ زمین پر کوئی خُدا ہے۔تُو اپنے اُن بندوں کے لیئے جو تیرے حضوراپنے سارے دل سے چلتے ہیں عہد اور رحت کی نگاہ رکھتا ہے۔
15تُو نے اپنے بندہ میرے باپ داؤد کے حق میں وہ بات قائم رکھی جس کا تُو نے اُن سے وعدہ کیا تھا ۔تُو نے اپنے منہ سے فرمایا اور اُسے اپنے ہاتھ سے پُورا کیا جیسا آج کے دن ہے۔
16اب اَے خُداوند اسرائیل کے خُدا اپنے بندہ میرے باپ داؤد کے ساتھ اُس قول کو بھی پُورا کر جو تُو نے اُس سے کیا تھا کہ تیر ہاں میرے حضور اسرائیل کے تخت پر بیٹھنے کے لیئے آدمی کی کمی نہ ہو گی بشرطیکہ تیری اولاد جیسے تُو میرے حضور چلتا رہا ویسے ہی میری شریعت پر عمل کرنے کے لیئے اپنی راہ کی اھتیاط رکھے۔
17اور اب اَے خُداوند اسرائیل کے خُدا جو قول تُو نے اپنے بندہ داؤد سے کیا تھا وہ سچا ثابت کیا جائے۔
18لیکن کیا خُدا فی الحقیقت آدمیوں کے ساتھ زمین پر سکونت کریگا؟دیکھ آسمان بلکہ آسمانوں ک آسمان میں تُو سما نہیں سکتا تو یہ گھر تو کُچھ بھی نہیں جسے میں نے بنایا۔
19تَو بھی اَے خُداوند میرے خُدا اپنے کی دُعا اور مُناجات کا لِحاظ کر کے اُس دُعا اور فریاد کو سُن لے جو تیرا بندہ تیرے حضور کرتا ہے۔
20تاکہ تیری اآنکھیں اس گھر کی طرف یعنی اُسی جگہ کی طرف جس کی بابت تُو نے فرمایا کہ میں اپنا نام وہاں رکھونگا دِن اور راتُ ھلی رہیں تاکہ تُو اُس دُعا کو سُنے جو تیرا بندہ اِس مقام کی طرف رُخ کر کے تُجھ سے کریگا۔
21اور تُو اپنے بندہ اور اپنی قوم اسرائیل کی مُناجات کو جب وہ اس جگہ کی طرف رُخ کر کے کریں تو سُن لینا بلکہ تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ سُن لینا اور سُن کر معاف کر دینا ۔
22اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کا گناہ کرے اور اُسے قسم کھلانے کے لیئے آسکو حلف دیا جائے اور وہ آکر اس گھر میں تیرے مذبح کے آگے قسم کھاے۔
23تو تُو آسمان پر سے سُن کر عمل کرنا اور اپنے بندوں کا انصاف کر کے بدکار کو سزا دینا تاکہ اُس کے اعمال کو اُسی کے سر ڈالے اور صادق کو راست ٹھہرانا تاکہ اُس کی صداقت کے مُطابق اُسے جزا دے ۔
24اور اگر تیری قوم اسرائیل تیرا گناہ کرنے کے باعث اپنے دشمنوں سے شکست کھائے اور پھر تیری طرف رجوع لائے اور تیرے نام کا اقرار کر کے اس گھر میں دُعا مُناجات کرے ۔
25تو تُو آسمان پر سے سُن کر اپنی قوم اسرائیل کے گناہ کو بخش دینا اور اُن کو اس مُلک میں جو تُو نے اُن کو اور اُن کے باپ دادا کو دیا پھر لے آنا۔
26اور جب اس سبب سے کہ انہوں نے تیرا گناہ کیا ہو آسمان بند ہو جائے اور بارش نہ ہو اور وہ اِس مقام کی طرف رُخ کرکے دُعاکریں اور تیرے نام کا اقرار کریں اور اپنے گناہ سے باز آئیں جب تُو ان کو دُکھ دے۔
27تو تُو آسمان پر سے سُنکر اپنے بندوں اور اپنی قوم اسرائیل کا گناہ معاف کر دینا کیونکہ تُونے اُنکو اُس اچھی راہ کی تعلیم دی جس پر اُنکو چلنا فرض ہے اور اپنے مُلک پر جسے تُو نے اپنی قوم کو میراث کے لیئے دیا ہے مینہ برسانا۔
28اگر مُلک میں کال ہو ۔اگر وبا ہو۔ اگر بادِ سمُوم یا گیروئی ۔ٹڈی یا کملا ہو۔ اگر اُن کے دشمن اُن کے شہروں کے مُلک میں اُنکو گھیر لیں۔ غرض کیسی ہی بلا یا کیسا ہی روگ ہو۔
29تو جو دُعا یا مُناجات کسی ایک شخص یا تیری ساری قوم اسرائیل کی طرف سے ہو جن میں سے ہر شخص اپنے دُکھ اور رنج کو جان کر اپنے ہاتھ اس گھر کی طرف پھیلائے ۔
30تو تُو آسمان پر سے جو تیر سکونت گاہ ہے سُن کر معاف کر دینا اور ہر شخص کے دل کو جسکے کو تُوجانتا ہیاُس کی سب روش کے مُطابق بدلہ دینا ( کیونکہ فقط تُو ہی بنی آدم کے دلوں کو جانتا ہے(۔
31تاکہ جب تک وہ اس مُلک میں جسے تُو نے ہمارے باپ دادا کو دیا جیتے رہیں تیرا خوف مان کر تیری راہوں پر چلیں۔
32اور وہ پردیسی بھی جو جو تیری قوم اسرائیل میں سے نہیں ہے جب وہ تیرے بزرگ نام اور قوی ہاتھ اور بُلند بازو کے سبب سے دور مُلک سے آئے اور آکر اس گھر کی فرط رُخ کر کے دُعا کرے۔
33تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے سُن لینا اور جس جس بات کے لیئے وہ پردیسی تُوجھ سے فریاد کرے اُس کے مُطابق کرنا تاکہ زمین کی سب قومیں تُجھ کو پہچانیں اور تیری قوم اسرائیل کی طرح تیرا خوف مانیں اور جان لیں کہ یہ گھر جسے میں نے بنایا ہے تیرے نام کا کہلاتا ہے۔
34اگر تیرے لوگ خواہ کسی راستے سے تُو اُنکو بھیجے اپنے دُشمن سے لڑنے کو نکلیں اور اس شہر کی طرف جسے تُو نے چُنا ہے اور اس گھر کی فرط جسے میں نے تیرے نام کے لیئے بنایا ہے رُخ کر کے تُجھ سے دُعا کریں ۔
35تو تُو آسمان پر سے اُن کی دُعا اور مُناجات کو سُن کر اُن کی حمایت کرنا ۔
36اگر وہ تیرا گناہ کریں (کیونکہ کوئی انسان نہیں جو گناہ نہ کرتا ہو( اور تُو اُن سے ناراض ہو کر اُن کو دشمن کے حوالہ کردے ایسا کہ وہ دشمن اُنکو اسیر کر کے دور یا نزدیک مُلک میں لے جائے۔
37تو بھی اگر وہ اُس مُلک میں جہاں سیر ہو کر پُہنچائے گئے ہوش میں آئیں اور رجوع لائیں اور اپنی اسیر ی کے مُلک میں تُجھ سے مُناجات کریں اور کہیں کہ ہم نے گناہ کیا ۔ہم ٹیڑھی چال چلے اور ہم نے شرارت کی۔
38سو اگر وہ اپنی اسیری کے مُلک میں جہاں اُنکو اسیر کر کے لے گئے ہوں اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے تیری طرف پھریں اور اپنے مُلک کی طرف جو تُو نے اُنکے باپ دادا کو دیا اور اُس شہر کی طرف جسے تُو نے چُنا ہے اور اِس گھر کی طرف جو میں نے تیرے نام کے لیئے بنایا ہے رُخ کر کے دُعا کریں۔
39تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے اُنکی دُعا اور مُناجات سُن کر اُن کی حمایت کرنا اور اپنی قوم کو جس نے تیرا گناہ کیا ہ معاف کر دینا۔
40پس اَے میرے خپدا میں تیری منت کرتا ہوں کہ اُس دُعا کی طرف جو اس مقام میں کی جائے تیری آنکھیں کُھلی اور تیری کان لگے رہیں ۔
41سو اب اَے خُداوند خُدا تُو اپنی قوت کے صندوق کے سمیت اُٹھکر اپنی آرامگاہ میں داخل ہو ۔اَے خُداوند خُدا تیرے کاہن نجات سے مُلبس ہوں اور تیرے مُقدس نیکی میں مگن رہیں۔
42اَے خُداوند خُدا تُو اپنے ممسُوح کی دُعا نہ منظور نہ کر ۔تُو اپنے بندہ داؤد کی رحمتیں یاد فرما۔