Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
36 verses
1اور سامریہ میں اخی اب کے ستر بیٹے تھے ۔ سو یاہو نے سامریہ میں یزرعیل کے امیروں یعنی بزرگوں کے پاس اور اُنکے پاس جو اخی اب کے بیٹوں کے پالنے والے تھے خط لکھ بھیجے ۔
2کہ جس حال تمہارے آقا کے بیٹے تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے پاس رتھ اور گھوڑے اور فصیلدار شہر بھی اور ہتھیار بھی ہیں سو اِس خط کے پہنچتے ہی۔
3تُم اپنے آقا کے بیٹوں میں سب سے اچھے اور لائق کو چُن کر اُسے اُس کے باپ کے تخت پر بٹھاو اور اپنے آقا کے گھرانے کے لیے جنگ کرو۔
4لیکن وہ نہایت ہراساں ہوئے اور کہنے لگے دیکھو دو بادشاہ تو اُسکا مقابلہ نہ کر سکے پس ہم کیونکر کر سکیں گے ؟
5سو محل کے دیوان نے اور شہر کے حاکم نے اور بزرگوں نے بھی اور لڑکوں کے پالنے والوں نے یاہو کو کہلا بھیجا ہم سب تیر ے خادم ہیں اور جو کچھ تُو فرمائے گا وہ سب ہم کریں گے ہم کسی کو بادشاہ نہیں بنائیں گے ۔جو کچھ تیری نظر میں اچھا ہو سو کر ۔
6تب اُس نے دوسری بار ایک خط اُنکو لکھ بھیجا کہ اگر تُم میری طرف ہو اور میری بات ماننا چاہتے ہو تو اپنے آقا کے بیٹوں کے سر اُتار کر کل یزرعیل میں اِسی وقت میرے پاس آ جاو۔ اُس وقت شہزادے جو ستر آدمی تھے شہر کے اُن بڑے آدمیوں کے ساتھ تھے جو اُن کو پالنے والے تھے ۔
7سو جب یہ نامہ اُنکے پس آیا تو اُنہوں نے شہزادوں کو لیکر اُنکو یعنی اُن ستر آدمیوں کو قتل کیا اور اُن کے سر ٹوکروں میں رکھ کر اُنکو اُس کے پاس یزرعیل میں بھیج دیا ۔
8تب ایک قاصد نے آکر اُسے خبر دی کہ وہ شہزادوں کے سر لائے ہیں ۔ اُس نے کہا کہ تُم شہر کے پھاٹک کے مدخل پر اُنکی دو ڈھیریاں لگا کر کل صبح تک رہنے دو۔
9اور صبح کو ایسا ہوا کہ وہ نکل کر کھڑا ہوا اور سب لوگوں سے کہنے لگا تُم تو راست ہو ۔ دیکھو میں نے تو اپنے آقا کے بر خلاف بندش باندھی اور اُسے مارا پر اِن سبھوں کو کس نے مارا؟
10سو ا جان لو کہ خُداوند کے اُس سخن میں سے جسے خُداوند نے اخی اب کے گھرانے کے حق میں فرمایا کوئی بات خاک میں نہیں ملے گی کیونکہ خُداوند نے جو کچھ اپنے بندہ ایلیاہ کی معرفت فرمایا تھا اُسے پُورا کیا ۔
11سو یا ہو نے اُن سب کو جو اخی اب کے گھرانے سے یزرعیل میں بچ رہے تھے اور اُس کے سب بڑے بڑے آدمیوں اور مُقرب دوستوں اور کاہنوں کو قتل کیا یہاں تک کہ اُس نے اُسکے کسی آدمی کو باقی نہ چھوڑا ۔
12پھر وہ اُٹھ کر روانہ ہوا اور سامریہ کو چلا اور راستہ میں گڈریوں کے با ل کترنے کے گھر تک پہنچا ہی تھا کہ
13یا ہو کو شاہِ یہوداہ اخزیاہ کے بھائی مِل گئے ۔ اِس نے پوچھا کہ تُم کون ہو ؟ اُنہوں نے کہا ہم اخزیاہ کے بھائی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ بادشاہ کے بیٹوں اور ملکہ کے بیٹوں کو سلام کریں ۔
14تب اُس نے کہا کہ اُنکو جیتا پکڑ لو ۔ سو اُنہوں نے اُنکو جیتا پکڑ لیا اور اُنکو جو بیالیس آدمی تھے بال کترنے کے گھر کے حوض پر قتل کیا ۔ اُس نے اُن میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑا ۔
15پھر جب وہ وہاں سے رخصت ہوا تو یہوناداب بن ریکاب جو اُس کے استقبال کو آ رہا تھا اُسے مِلا ۔ تب اُس نے اُسے سلام کیا اور اُس سے کہا کیا تیرا دل ٹھیک ہے جیسا میرا دل تیرے دل کے ساتھ ہے ؟ یہوناداب نے جواب دیا کہ ہے ۔ سو اُس نے کہا اگر ایسا ہے تو اپنا ہاتھ مجھے دے ۔ سو اُس نے اُسے اپنا ہاتھ دیا اور اُس نے اُسے رتھ میں اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔
16اور کہا میرے ساتھ چل اور میری غیرت کو جو خُداوند کے لیے ہے دیکھ ۔ سو اُنہوں نے اُسے اُس کے ساتھ رتھ پر سوار ��رایا ۔
17اور جب وہ سامریہ میں پہنچا تو اخی اب کے سب باقی لوگوں کو جو سامریہ میں تھے قتل کیا یہاں تک کہ اُس نے جیسا خداوند نے ایلیاہ سے کہا تھا اُسکو نیست و نابود کر دیا ۔
18پھر یا ہو نے سب لوگوں کو فراہم کیا اور اُن سے کہا کہ اخی اب نے بعل کی تھوڑی پرستش کی ۔ یا ہو اُسکی بہت ہی پرستش کرے گا ۔
19سو اب تُم بعل کے سب نبیوں اور اُس کے سب پوجنے والوں اور سب پجاریوں کو میرے پاس بُلا لاو۔اُن میں سے کوئی غیر حاضر نہ رہے کیونکہ مجھے بعل کے لیے بڑی قُربانی کرنا ہے ۔ سو جو کوئی غیر حاضر رہے وہ جیتا نہ بچے گا۔ پر یا ہو نے اِس غرض سے بعل کے پُوجنے والوں کو نیست کر دے یہ حیلہ نکالا۔
20اور یاہو نے کہا کہ بعل کے لیے ایک خاص عید کی تقدیس کرو۔ سو اُنہوں نے اُسکی منادی کر دی ۔
21اور یاہو نے سارے اسرائیل میں لوگ بھیجے اور بعل کے سب پُوجنے والے آئے یہاں تک کہ ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو نہ آیا ہو اور وہ بعل کے مندر میں داخل ہوئے اور بعل کا مندر اِس سرے سے اُس سرے تک بھر گیا ۔
22پھر اُس نے اُسکو جو توشہ خانہ پر مُقرر تھا حکم کیا کہ بعل کے سب پُوجنے والوں کے لیے لِباس نکال لا ۔ سو وہ اُنکے لیے لباس نکال لایا ۔
23تب یاہو اور یہوناداب بن ریکاب بعل کے مندر کے اندر گئے اور اُس نے بعل کے پُوجنے والوں سے کہا کہ تفتیش کرو اور دیکھ لو کہ یہاں تمہارے ساتھ خُداوند کے اندر خادموں میں سے کوئی نہ ہو فقط بعل ہی کے پُوجنے والے ہوں۔
24اور وہ ذبیحے اور سوختنی قُربانیاں گذراننے کو اندر گئے اور یاہو نے باہر اَسی جوان مُقرر کر دئے اور کہا کہ اگر کوئی اِن لوگوں میں سے جنکو میں تمہارے ہاتھ میں کر دوں نکل بھاگے تو چھوڑنے والے کی جان اُس کی جان کے بدلے جائے گی۔
25اور جب وہ سوختنی قُربانی چڑھا چُکا تو یاہو نے پہرے والوں اور سرداروں سے کہا کہ گھُس جاو اور اُنکو تہ تیغ کیا اور پہرے والوں اور سرداروں نے اُنکو باہر پھینک دیا اور بعل کے مندر کے شہر کو گئے ۔
26اور اُنہوں نے بعل کے مندر کے ستونوں کو باہر نکال کر اُنکو آگ میں جلایا ۔
27اور بعل کے سُتون کو چکنا چُور کیا اور بعل کا مندر ڈھا کر اُسے سنڈاس بنا دیا جیسا آج تک ہے ۔
28یوں یا ہو نے بعل کو اسرائیل کے درمیان سے نیست و نابود کر دیا ۔
29تو بھی نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا یا ہو باز نہ آیا یعنی اُس نے سونے کے بچھڑوں کو ماننے سے جو بیت ایل اور دان میں تھے کنارہ کشی نہ کی ۔
30اور خُداوند نے یاہو سے کہا چونکہ تُو نے یہ نیکی کی ہے کہ جو کچھ میری نظر میں بھلا تھا اُسے انجام دیا ہے اور اخی اب کے گھرانے سے میری مرضی کے مُطابق برتا و کیا ہے اِس لیے تیرے بیٹے چوتھی پُشت تک اسرائیل کے تخت پر بیٹھیں گے ۔
31پر یا ہو نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کی شریعت پر اپنے سارے دل سے چلنے کی فکر نہ کی ۔ وہ یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا الگ نہ ہوا۔
32اُن دنوں خپداوند اسرائیل کو گھٹانے لگا اور حزائیل نے اُنکو اسرائیل کی سب سرحدوں میں مارا۔
33یعنی یردن سے لیکر مشرق کی طرف جلعاد کے سارے مُلک میں اور جدیوں اور روبینیوں اور منسیوں کو عروعیر سے جو وادی ارنون میں ہے یعنی جلعاد اور بسن کو بھی ۔
34اور یاہو کے باقی کام اور سب جو اُس نے کیاا اور اُسکی ساری قوت کا بیان سو کیا وہ اسرائیل کے بادہشانوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟ ۔
35اور یاہو اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے سامریہ میں دفن کیا اور اُسکا بیٹا یہواخز اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا،
36اور وہ عرصہ جس میں یاہو نے سامریہ میں بنی اسرائیل پر سلطنت کی اٹھائیس برس کا تھا ۔