Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
29 verses
1اور الیشع نے اُس عورت سے جس کے بیٹے کو اُس نے جِلایا تھا یہ کہا تھا کہ اُتھ اور اپنے کنبہ سمیت جا اور جہاں کہیں تُو رہ سکے وہاں رہ کیونکہ خُداوند نے کال کا حکم دیا ہے اور وہ مُلک میں سات برس تک رہے گا بھی ۔
2تب اُس عورت نے اُٹھ کر مردِ خُد ا کے کہنے کے مطابق کیا اور اپنے کنبہ سمیت جا کر فلستیوں کے مُلک میں سات برس تک رہی ۔
3اور ساتویں سال کے آخر میں ایسا ہوا کہ یہ عورت فلستیو ں کے مُلک سے لوٹی اور بادشاہ کے پاس اپنے گھر اور اپنی زمین کے لیے فریاد کرنے لگی ۔
4اُس وقت بادشاہ مردِ خُدا کے خادم جیحازی سے باتیں کر رہا اور یہ کہہ رہا تھا کہ ذرا وہ سب بڑے بڑے کام جو الیشع نے کیے مجھے بتا ۔
5اور ایسا ہوا کہ جب وہ بادشاہ کو بتا ہی رہا تھا کہ اُس نے ایک مُردہ کو جِلایا تو وہی عورت جس کے بیٹے کو اُس نے جِلایا تھا آکر بادشاہ کے حضور اپنے گھر اور اپنی زمین کے لیے فریاد کرنے لگی۔ تب جیحازی بول اُٹھا اے میرے مالک ! اے میرے بادشاہ یہی وہ عورت ہے اور یہی اُس کا بیٹا ہے جسے الیشع نے جِلایا تھا ۔
6جب بادشاہ نے اُس عورت سے پوچھا تو اُس نے اُسے سب کچھ بتا دیا ۔ تب بادشادہ نے ایک خواجہ سرا کو اُس کے لیے مقرر کر دیا اور فرمایا کہ سب کچھ جو اِس کا تھا اور جب سے اِس نے اِس مُلک کو چھوڑا اُس وقت سے اب تک کی کھیت کی ساری پیداوار اِس کو پھیر دو ۔
7اور الیشع دمشق میں آیا اور شاہ ارام بن ہدد بیمارتھا اور اُسکو خبر ہوئی کہ وہ مردِ خُدا اِدھر آیا ہے ۔
8اور بادشاہ نے حزائیل سے کہا کہ اپنے ہاتھ میں ہدیہ لیکر مردِ خُدا کے استقبال کو جا اور اُسکی معرفت خُداوند سے دریافت کر کہ میں اِس بیماری سے شفا پاونگا یا نہیں ۔
9پس حزائیل اُس سے مِلنے کو چلا اور اُس نے دمشق کی ہر نفیس چیز میں سے چالیس اونٹوں پر ہدیہ لدوا کر اپنے ساتھ لیا اور آکر اُس کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا تیرے بیٹے بن ہدد شاہ ارام نے مجھ کو تیرے پاس یہ پوچھنے کو بھیجا ہے کہ میں اِس بیماری سے شفا پاوں گا یا نہیں ؟
10الیشع نے اُس سے کہا جا اُس سے کہہ تو ضرور شفا پائے گا تو بھی خُداوند نے مجھ کو یہ بتایا ہے کہ وہ یقینا مر جائے گا ۔
11اور وہ اُس کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ شرما گیا ۔ پھر مردِ خُدارونے لگا ۔
12اور حزائیل نے کہا میرا مالک روتا کیوں ہے ؟ اُس نے جواب دیا اِس لیے کہ میں اُس بدی سے جو تُو بنی اسرائیل سے کرے گا آگاہ ہو ں۔ تُو اُنکے قلعوں میں آگ لگائے گا اور اُنکے جوانوں کو تہ تیغ کرے گا اور اُنکے بچوں کو پٹک پٹک کر ٹکڑے ٹکڑے کرے گا اور اُنکی حاملہ عورتوں کو چِیر ڈالے گا ۔
13حزائیل نے کہا تیرے خادم کی جو کُتے کے برابر ہے حقیقت ہی کیا ہے جو وہ ایسی بڑی بات کرے ؟ الیشع نے جواب دیا خُداوند نے مجھے بتایا ہے کہ توُ اراما کا بادشاہ ہو گا ۔
14پھر وہ الیشع سے رخصت ہوا اور اپنے آقا کے پاس آیا ۔ اُس نے پوچھا الیشع نے تجھ سے کیا کہا ؟ اُس نے جواب دیا کہ اُس نے مجھے بتایا کہ تُو ضرور شفا پائے گا ۔
15اور دوسرے دن ایسا ہوا کہ اُس نے بالا پوش کو لیا اور اُسے پانی میں بھگو کر اُسکے منہ پر تان دیا ایسا کہ وہ مر گیا اور حزائیل اُسکی جگہ سلطنت کرنے لگا ۔
16اور شاہِ اسرائیل اخی اب کے بیٹے یورام کے پانچویں سال جب یہوسفط یہوداہ کا بادشاہ تھا شاہ یہوداہ یہوسفط کا بیٹا یہورام سلطنت کرنے لگا ۔
17اور جب وہ سلطنت کرنے لگا تو بتی�� برس کا تھا اور اُس نے یروشلیم میں آٹھ برس بادشاہی کی ۔
18اور وہ بھی اخی اب کے گھرانے کی طرح اسرائیل کے بادشاہوں کی راہ پر چلا کیونکہ اخی اب کی بیٹی اُسکی بیوی تھی اور اُس نے خداوند کی نظر میں بدی کی ۔
19تو بھی خداوند نے اپنے بندہ داود کی خاطر نہ چاہا کہ یہوداہ کو ہلاک کرے کیونکہ اُس نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُسے اُس کی نسل کے واسطے ہمیشہ کے لیے ایک چراغ دے گا ۔
20اُسی کے دنوں میں ادوم یہوداہ کی اطاعت سے منحرف ہو گیا اور اُنہوں نے اپنے لیے ایک بادشاہ بنا لیا ۔
21تب یورام صعیر کو گیا اور اُس کے سب رتھ اُس کے ساتھ تھے اور اُس نے رات کو اُٹھ کر اُدومیوں کو جو اُسے گھیرے ہوئے تھے اور رتھوں کے سرداروں کو مارا اور لو گ اپنے ڈیروں کو بھاگ گئے۔
22سو ادوم یہوداہ کی اطاعت سے آج تک منحرف ہے اور اپسی وقت لبناہ بھی منحرف ہو گیا ۔
23اور یُورام کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
24اور یورام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داود کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہوا اور اُس کا بیٹا اخزیاہ اُس کی جگہ بادشاہ ہُوا۔
25اور شاہ اسرائیل اخی اب کے بیٹے یوراام کے بارھویں برس سے شاہِ یہوداہ یہورام کا بیٹا اخزیاہ سلطنت کرنے لگا ۔
26اخزیاہ بائیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلیم میں ایک برس سلطنت کی ۔ اُس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو شاہِ اسرائیل عمری کی بیٹی تھی ۔
27اور وہ بھی اخی اب کے گھرانے کی راہ پر چلا اور اُس نے اخی اب کے گھرانے کی مانند خداوند کی نظر میں بدی کی کیونکہ وہ اخی اب کے گھرانے کا داماد تھا ۔
28اور و ہ اخی اب کے بیٹے یورام کے ساتھ رامات جلعاد میں شاہ ِ ارام حزائیل سے لڑنے کو گیا اور ارامیوں نے یورام کو زخمی کیا ۔
29سو یورام بادشاہ لوٹ گیا تاکہ وہ یزرعیل میں اُن زخمیوں کا علاج کرائے جو شاہ ارام حزائیل سے لڑتے وقت رامہ میں ارامیوں کے ہاتھ سے لگے تھے اور شاہِ یہودا ہ یہورام کا بیٹا اخزیاہ اخی اب کے بیٹے یُورام کو دیکھنے کے لیے یزرعیل میں آیا کیونکہ وہ بیمار تھا ۔