Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
36 verses
1داؔؤود کی آخری باتیں یہ ہیں۔ دؔاؤد بن یؔسّی کہتا ہے۔ یعنی یہ اُس شکص کا کلام ہے جو سرفراز کیا گیا اور یؔعقوب کے خُدا کا ممُسوح اور اِؔسرائیل کا شیر ین نغمہ ساز ہے۔
2خُداوند کی رُوھ نے میری معرفت کلام کیا اور اُسکا سُخن میری زبان پر تھا
3اِؔسرائیل کے خُدا نے فرمایا۔ اِسراؔئیل کی چٹان نے مجھ سے کہا ایک ہے جو صداقت سے لوگوں پر حکوُمت کرتا ہے ۔ جو خُدا کے خوف کے ساتھ حُکوُمت کرتا ہے۔
4وہ صُبح کی روشنی کی مانند ہوگا جب سُورج نِکلتا ہے۔ اَیسی صُبح جس میں بادل نہ ہوں۔ جب نرم نرم گھاس زمین میں سے بارش کے بعد کی صاف چمک کے باؑث نکلتی ہے۔
5میرا گھر تو سچ مُچ خُدا کے سامنے اَیسا ہے بھی نیں تو بھی اُس نے میرے ساتھ ایک دائمی عہد جسکی سب باتیں مُعیّن اور پایدار ہیں باندھا ہےکیونکہ یہی میری ساری نجات اور ساری مُراد ہے۔ گو وہ اُسکو بڑھاتا نہیں
6پر ناراست لوگ سب کے سب کانٹوں کی مانند ٹھہر ینگے جو ہٹا دیِئے جاتے ہیں کیونکہ وہ ہاتھ سے پکڑے نہیں جاسکتے
7بلکہ جو آدمی اُنکو چھُوئے ضرُور ہے کہ وہ لوہے اور نیزہ کی چھڑ سے مُسلّح ہو۔ سو وہ اپنی ہی جگہ میں آگ سے بالکہ بھسم کردئے جائینگے۔
8داؔؤد کے بہادروں کے نام یہ ہیں :أ یعنی تحکمونی یوشیؔب بشیبت جو سَپہ سالاروں کا سردار تھا۔ وہی ایزانی ادؔینو تھا جس سے آٹھ سَو ایک ہی وقت میں مقتول ہوئے۔
9اُسکے بعد ایک اخُوحی کے بیٹے دودؔے کا بیٹا الیعزر تھا۔ یہ اُن تینوں سورماآں میں سے ایک تھا جو داؔؤد کے ساتھ اُس وقت تھے جب اُنہوں نے اُن فلسِتِیوں کو جو لڑائی کے لئے جمع ہوُئے تھے للکار ا ھالنکہ سب بنی اِسرائیل چلے گئے تھے ۔
10اور اُس نے اُٹھ کر فلِستیوں کو اِتنا مارا کہ اُسکا ہتھ تھک کر تلوار سے چپک گیا اور خُداوند نے اُس دن بری فتح کرائی اور لوگ پھر کر فقط لُوٹنے کے لئے اُسکے پیچھے ہولئے۔
11بعد اُسکے ہراری اؔجی کا بیٹا سمؔہّ تھا اور فلِستیوں نے اُس قطعہٗ زمین کے پاس جو مُسور کے پیڑوں سے بھرا تھا جمع ہو کر دل باندھ لیا تھا اور لوگ فلِستیوں کے آگے سے بھاگ گئے تھے۔
12لیکن اُس نے اُس قطعہ کے بیچ میں کھڑے ہو کر اُسکو بچایا اور فلِستیوں کو قتل کیا اور خُداوند نے بڑی فتح کرائی ۔
13اور اُن تیس سرداروں میں سے تین سردار نِکلے اور فصل کاٹنے کے مَوسم میں داؔؤد کے پاس عؔدُلاّم کے مغارہ میں آئے اور فلِستیوں کے پہرے کی چوکی بیتؔ لحم میں تھی ۔
15اور داؔؤد نے ترستے ہُوئے کہا اَے کاش کوئی مجھے بَیت الحم کے اُس کُوئیں کا پانی پینے کو دیتا جو پھاٹک کے پاس ہے!۔
16اور اُن تینوں بہادروں نے فلِستیوں کے لشکر میں سے جا کر بیؔت لحم کے کُوئیں سے جو پھا ٹک کے برابر ہے پانی بھر لیا اور اُسے داؔؤد کے پاس لائے لیکن اُس نے ہ چاہا کہ پئے بلکہ اُسے خُداوند کے حُضُور اُنڈیل دیا۔
17اور کہنے لگااَے خُداوند مجھ سے یہ ہر گزِ نہ ہو کہ مَیں اَیسا کروں ۔ کیا میں اُن لوگوں کا خُون پیُوں جنہوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈالی؟ اِسی لئے اُس نے نہ چاہا کہ اُسے پئے ۔ اُن تینوں بہادُروں نے اَیسے اَیسے کام کئے۔
18اور ضؔرویاہ کے بیٹے یُوآؔب کا بھائی اؔبیشے اُن تینوں میں مُعززّ نہ تھا؟ اِسی لئے وہ اُنکا سردار ہُؤا تو بھی وہ اُن پہلے تینوں کے برابر نہیں ہونے پایا ۔
20اور یہوؔیدع کا بیٹا بناؔیاہ قبضؔیل کے ایک سُ��رما کا بیٹا تھا جس نے بڑے بڑے کام کئے تھے۔ اِس نے مؔآب کے ارؔی ایل کے دونوں بیٹوں کو قتل کیا اور جاکر برف کے مَوسم میں ایک غار کے بیچ ایک شیر ببر کو مارا۔
21اور اُس نے ایک جِسیم مصری کو قتل کیا ۔ اُس مصر ی کے ہاتھ میں بھالا تھا پر یہ لاٹھی ہی لئے ہوئے اُس پر لپکا اور مصری کے ہاتھ سےبھالا چھین لیا اور اُسی کے بھالے سے اُسے مارا۔ (پس یہؔویدع کے بیٹے بناؔیاہ نے اَیسے اَیسے کام کئے اور تینوں بہادُروں میں نامی تھا۔
23وہ اُن تیِسوں سے زِیادہ معُززّ تھا پر وہ اُن پہلے تینوں کے برابر نہیں ہونےپایا اور داؔؤد نے اُسے اپنے مُحافظ سپاہیوں پر مقررّ کیا۔
24اور تِیسوں میں یُوآؔب کا بھائی عؔساہیل اور الؔحنان بیَت الحم کے دوؔدو کا بیٹا۔
25حرودی سؔمہ ۔ حرودی اِلقؔہ۔
26فلطی خؔلصِ ۔ عیراؔ بن عقؔیس تقوعی ۔
27عنتوتی ابؔی عزر۔حوساتیمبؔونی۔
28اخوحی ضؔلمون۔ نطوفاتی مہرؔی۔
29نطوفاتی بعنہؔ کا بیٹا حلِبؔ ۔ اِتیؔ بن ریبؔی بنی بینمین کے جبؔعہ کا۔
30فرعاتونی بنایاؔہ اور جعؔس کے نالوں کا ہّدؔی ۔
31عرباتی ابؔی علبوُن ۔ برحُومی عزؔماوت ۔
32سعلبونی اؔلیخبہ بنی یسین یُونتؔن ۔
33ہراری سؔمہّ۔ اخیؔ آم بن سرؔار ہراری۔
34الیفلؔط بن اؔحسبی معکاتی کا بیٹا الؔی عام بن اؔخیتفُل جلونی۔
35کرمی حؔصرو ۔ اربی فؔعری ۔
36ضؔوباہ کے ناتؔن کا بیٹا اِجؔال۔ جدی باؔنی۔
37عُمونی صِؔلق۔ بیروتی نؔحری۔ ضرؔویاہ کے بیٹے یوُآؔب کے سِلح بردار۔
38اِتری عؔیرا۔ اِتری جرؔیب۔
39اور حِتّی اورؔیاّہ ۔ یہ سب سَینتیِس تھے۔