Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1جب ہم پہُنچ گئے تو جانا کہ اِس ٹاپُو کا نام مِلِتے ہے۔
2اور اُن اجنبِیوں نے ہم پر خاص مہربانی کی کِیُونکہ مینہ کی جھڑی اور جاڑے کے سبب سے اُنہوں نے آگ جلاکر ہم سب کی خاطِر کی۔
3جب پولُس نے لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے آگ میں ڈالا تو ایک سانپ گرمی پاکر نِکلا اور اُس کے ہاتھ پر لپٹ گیا۔
4جِس وقت اُن اجنبِیوں نے وہ کِیڑا اُس کے ہاتھ سے لٹکا ہُؤا دیکھا تو ایک دوُسرے سے کہنے لگے کہ بیشک یہ آدمِی خُونی ہے۔ اگرچہ سُمندر سے بچ گیا تَو بھی عدل اُسے جِینے نہِیں دیتا۔
5پَس اُس نے کِیڑے کو آگ میں جھٹک دِیا اور اُسے کُچھ ضررنہ پہُنچا۔
6مگر وہ مُنتظِر تھے کہ اِس کا بَدَن سُوج جائے گا یایہ مرکر یکایک گِرپڑیگا لیکِن جب دیر تک اِنتظار کِیا اور دیکھا کہ اُس کو کُچھ ضرر نہ پہُنچا تو اَور خیال کر کے کہ یہ تو کوئی دیوتا ہے۔
7وہاں سے قرِیب پُبلیُس نام اُس ٹاپو کے سَردار کی مِلک تھی اُس نے گھر لیجا کر تین دِن تک بڑی مہربانی سے ہماری مِہمانی کی۔
8اور اَیسا ہُؤا کہ پُبلیُس کا باپ اور پیِچش کی وجہ سے بِیمار پڑا تھا۔ پولُس نے اُس کے پاس جا کر دُعا کی اور اُس پر ہاتھ رکھ کر شِفادی۔
9جب اَیسا ہُؤا تو باقی لوگ جو اُس ٹاپُو میں بِیمار تھے آئے اور اچھّے کِئے گئے۔
10اور اُنہوں نے ہماری بڑی عِزّت کی اور چلتے وقت جو کُچھ ہمیں درکا تھا جہاز پر رکھ دِیا۔
11تِین مہِینے کے بعد ہم اِسکندریہ کے ایک جہاز پر روانہ ہُوئے جو جاڑے بھر اُس ٹاپُو میں رہا تھا اور جِس کا نِشان دیسُکُوری تھا۔
12اور سُرَکُوسہ میں جہاز ٹھہرا کر تِین دِن رہے۔
13اور وہاں سے پھیر کھا کر ریگیُم میں آئے ایک روز بعد دکھِّنا چلی تو دُوسرے دِن پُتیُلی میں آئے۔
14وہاں ہم کو بھائِی مِلے اور اُن کی مِنّت سے ہم سات دِن اُن کے پاس رہے اور اِسی طرح رومہ تک گئے۔
15وہاں سے بھائِی ہماری خَبر سُن کر اَپّیُس کے چوک اور تِین سرای تک ہمارے اِستقبال کو آئے اور پولُس نے اُنہِیں دیکھ کر خُدا کا شُکر کِیا اور اُس کی خاطِر جمع ہُوئی۔
16جب ہم رومہ میں پہُنچے تو پولُس کو اِجازت ہُوئی کہ اکیلا اُس سِپاہی کے ساتھ رہے جو اُس پر پہرا دیتا تھا۔
17تِین روز کے بعد اَیسا ہُؤا کہ اُس نے یہُودِیوں کے رئِسیوں کو بُلوایا اور جب جمع ہوگئے تو اُن سے کہا اَے بھائِیو! ہر چند مَیں نے اُمّت کے اور باپ دادا کی رسموں کے خِلاف کُچھ نہِیں کِیا تُو بھی یروشلِیم سے قَیدی ہوکر رُومیوں کے ہاتھ حوالہ کِیا گیا۔
18اُنہوں نے میری تحقِیقات کر کے مُجھے چھوڑ دینا چاہا کِیُونکہ میرے قتل کا کوئی سبب نہ تھا۔
19مگر جب یہُودِیوں نے مُخالفت کی تو مَیں نے لاچار ہوکر قیصر کے ہاں اِپیل کی مگر اِس واسطے نہِیں کہ اپنی قَوم پر مُجھے کُچھ اِلزام لگانا تھا۔
20پَس اِس لِئے مَیں نے تُمہیں بُلایا ہے کہ تُم سے مِلُو اور گُفتگُو کرُوں کِیُونکہ اِسرائیل کی اُمِید کے سبب سے مَیں اِس زنجِیر سے جکڑا ہُؤا ہُوں۔
21اُنہوں نے اُس سے کہا نہ ہمارے پاس یہُودیہ سے تیرے بارے میں خط آئے نہ بھائِیوں میں سے کِسی نے آ کر تیری کُچھ خَبر دی نہ بُرائی بیان کی۔
22مگر ہم مُناسب جانتے ہیں کہ تُجھ سے سُنیں کہ تیرے خیالات کیا ہیں کِیُونکہ اِس فِرقہ کی بابت ہم کو معلُوم ہے کہ ہر جگہ اِس کے خِلاف کہتے ہیں۔
23اور وہ اُس سے ایک دِن ٹھہرا کر کثرت سے اُس کے ہاں جمع ہُوئے اور وہ خُدا کی بادشاہی کی گواہی دے دے کر اور مُوسٰی کی توریت اور نبِیوں کے صحِیفوں سے یِسُوع کی بابت سَمَجھا سَمَجھا کر صُبح سے شام تک اُن سے بیان کرتا رہا۔
24اور بعض نے اُس کی باتوں کو مان لِیا اور بعض نے مانا۔
25جب آپس میں مُتفِق نہ ہُوئے تو پولُس کے اِس ایک بات کے کہنے پر رُخصت ہُوئے کہ رُوحُ القُدس نے یسعیاہ کی معرفت تُمہارے باپ دادا سے خُوب کہا کہ۔
26اِس اُمّت کے پاس جا کر کہہ کہ تُم کانوں سے سُنو گے اور ہرگِز نہ سَمَجھو گے اور آنکھوں سے دیکھو گے اور ہرگِز معلُوم نہ کرو گے۔
27کِیُونکہ اِس اُمّت کے دِل پر چربی چھاگئی ہے اور وہ کانوں سے اُونچا سُنتے ہیں اور اُنہوں نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں کہِیں اَیسا نہ ہوکہ آنکھوں سے معلُوم کریں اور کانوں سے سُنیں اور دِل سے سَمَجھیں اور رُجُوع لائیں اور مَیں اُنہِیں شِفا بخشُوں۔
28پَس تُم کو معلُوم ہوکہ خُدا کی اِس نِجات کا پَیغام غَیر قَوموں کے پاس بھیجا گیا ہے اور وہ اُسے سُن بھی لیں گی۔
29[جب اُس نے کہا تو یہُودی آپس میں بہُت بحث کرتے چلے گئے].
30اور وہ پُورے دو برس اپنے کرایہ کے گھر میں رہا۔
31اور جو اُس کے پاس آتے تھے۔ اُن سب سے مِلتا رہا اور کمال دِلیری سے بغَیر روک ٹوک کے خُدا کی بادشاہی کی منادی کرتا اور خُدا یِسُوع مسِیح کی باتیں سِکھاتا رہا۔