Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1اے اسرائیل کے خاندان اس کلام کو جس سے میں تم پر نوحہ کرتا ہوں سُنو۔
2اسرائیل کی کُنواری گر پڑی۔وہ پھر نہ اُٹھے گی۔ وہ اپنی زمین پر پڑی ہے۔اُس کا اُٹھانے والا کوئی نہیں۔
3کیونکہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ اسرائیل کے گھرانے کے لئے جس شہر سے ایک ہزار نکلتے تھے اُس میں ایک سورہ جائیں گے اور جس سے ایک سو نکلتے تھے اُس میں دس رہ جائیں گے۔
4کیونکہ خُداوند اسرائیل کے گھرانے سے یُوں فرماتا ہے کہ تم میرے طالب ہو اور زندہ رہو۔
5لیکن بیت ایل کے طالب نہ ہو اور جلجال میں داخل نہ ہو اور بیر سبع کو نہ جاو کیونکہ جلجال اسیری میں جائے گا اور بیت ایل ناچیز ہو گا۔
6تم خُداوند کے طالب ہو اور زندہ رہو۔ ایسا نہ ہو کہ یُوسف کے گھرانے میں آگ کی مانند بھڑکے اور اسے کھا جائے اور بیت ایل میں اُسے بُجھانے والا کوئی نہ ہو۔
7اے عدالت کو ناگدو نا بنانے والو اور صداقت کو خاک میں ملانے والو۔
8وہی ثریّا اور جبار ستاروں کا خالق ہےجو موت کے سایہ کو مطلع نُوراور روز روشن کو شب دیُجور بنادیتا ہےاور سُمندر کے پانی کو بُلاتااور رُوی زمین پر پھیلاتا ہےجس کا نام خُداوند ہے۔
9وہ جو زبر دستوں پر نا گہانی ہلاکت لاتا ہے۔ جس سے قلعوں پر تباہی آتی ہے۔
10وہ پھاٹک میں ملامت کرنے والوں سے کینہ رکھتے ہیں اور راست گو سے نفرت کرتے ہیں۔
11پس چونکہ تم مسکینوں کو پامال کرتے ہواور ظُلم کر کے اُن سے گیہوں چھین لیتے ہو اس لے جو تراشے ہوے پتّھروں کے مکان تم نے بناے اُن میں نہ بسو گے اور جو نفیس تاکستان تم نے لگاے ان کی مے نہ پیو گے۔
12کیونکہ میں تمہاری بے شمار خطاوں اور تمہارے بڑے بڑے گُناہوں سے آگاہ ہُوں ۔ تم صادقوں کو ستاتے اور رشوت لیتے ہو اور پھاٹک میں مسکینوں کی حق تلفی کرتے ہو۔
13اس لے ان ایّام میں پیش بین خاموش ہو رہیں گے کیونکہ یہ بُرا وقت ہے۔
14بدی کے نہیں بلکہ نیکی کے طالب ہو تا کہ زندہ رہو اور خُداوند ربُ الافواج تمہارے ساتھ رہے گا جیسا کہ تم کہتے ہو۔
15بدی سے عدالت کو قائم کرو۔ شاید خُداوند ربُ الا فواج نبی یُوسف کے بقیہ پر رحم کرے۔
16اس لے خُداوند ربُ الا فواج یُوں فرماتا ہے کہ سب بازاروں میں نوحہ ہو گا اور سب گلیوں میں افسوس افسوس! کہیں گے اور کسانوں کو ماتم کے لے اور اُن کو جو نوحہ گری میں مہارت رکھتے ہیں نوحہ کے لے بُلائیں گے۔
17اور سب تاکستانوں میں ماتم ہوگا کیونکہ میں تجھ میں سے ہو کر گزروں گا خُداوند فرماتا ہے۔
18تم پر افسو جو خُداوند کے دن کی آرزو کرتے ہو! تم خُداوند کے دن کی آرزو کیوں کرتے ہو؟ وہ تو تاریکی کا دن ہے روشنی کا نہیں۔
19جیسے کوئی شیر ببر سے بھاگے اور ریچھ اُسے ملے یا گھر میں جا کر اپنا ہاتھ دیوار پر رکھے اور اُسے سانپ کاٹ لے۔
20کیا خُداوند کا دن تاریکی نہ ہو گا؟اُس میں روشنی نہ ہو گی بلکہ سخت ظُلمت ہو گی اور نور مُطلق نہ ہو گا۔
21میں تمہاری عیدوں کو مکروہ جانتا اور اُن سے نفرت رکھتا ہُوں اور میں تمہاری مُقدس محفلوں سے بھی خُوش نہ ہوں گا۔
22اور اگرچہ تم میرے حُضور سو ختنی اور نذر کی قربانیاں گُزرا نوگے تو بھی میں اُن کو قبول نہ کُروں گا اور تمہارے فربہ جانوروں کی شُکرانہ کی قربانیاں کو خاطر میں نہ لاوں گا۔
23تو اپنے سُرود کا شور میرے حُضور سے دور کر کیونکہ میں تیرے رباب کی آواز نہ سُنوں گا۔
24لیکن عدالت لو پانی کی مانند اور صداقت کو بڑی نہر کی مانند جاری رکھ۔
25اے بنی اسرائیل کیا تم چالیس برس تک بیابا میں میرے حضُور ذبحیے اور نذر کی قربانیاں گُزرانتے رہے؟۔
26تم تو ملکوں کا خیمہ اور کیوان کے بُت جو تم نے اپنے لئے بنائے اُٹھائے پھرتے تھے۔
27پس خُداوند جس کا نام ربُ لاافواج ہے فرماتا ہے میں تم کو دمشق سے بھی آگے سیری میں بھیجوں گا۔