Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
21 verses
1شاہ یہُوداہ یہُو یقیم کی سلطنت کے تیسرے سال میں شاہ بابل نبُوکد نضر نے یروشلیم پر چڑاھائی کر کے اُس کا مُحاصرہ کیا۔
2اور خُداوند نے شاہ یہُوداہ یہُو یقیم کو اور خُدا کے گھر کے بعض ظروُف کو اُس کے حوالہ کر دیا اور وہ اُن کو سنعار کی سر زمین میں اپنے بُت خانہ میں لے گیا چُنانچہ اُس نے طروُف کو اپنے بُت کے خزانہ میں داخل کیا۔
3اور بادشاہ نے اپنے خواجہ سراوں کے سردار اسپنز کو حُکم کیا بنی اسرائیل میں سے اور بادشاہ کی نسل میں سے اور شرفا میں سے لوگوں کو خاضر کرے۔
4وہ بے عیب جوان بلکہ خُوب صورت اور حکمت میں ماہر اور ہرطرح سے دانش ور اور صاحب علم ہوں جن میں یہ لیاقت ہو کہ شاہی قصر میں کھڑے رہیں اور وہ اُن کو کسدیوں کے علم اور اُن کی زُبان کی تعلیم دے۔
5اور بادشاہ نے اُن کے لے شاہی خُوراک سے اور اپنے بیٹے کی مے میں سے روزانہ و ظیفہ مُقرر کیا کہ تین سال تک اُن کی پرورش ہو تاکہ اس کے بعد وہ بادشاہ کےحضور کھڑے ہو سکیں۔
6اور میں اُن میں بنی یہُوداہ میں سے دانی ایل اور حننیاہ اور میساایل اور عزریاہ تھے۔
7اور خواجہ سراوں کے سردار نے اُن کے نام رکھے۔ اُس نے دانی ایل کو بیلطشضر اور حننیاہ کو سدرک اور مسیاایل کو میسک اور عزریاہ کو عبدنجو کہا۔
8لیکن دانی ایل نے اپنے دل میں ارادہ کیا کہ اپنے آپ کو شاہی خُوراک سے اور اُس کی مے سے جو وہ پیتا تھا ناپاک نہ کرے اس لے اُس نے خواجہ سراوں کے سردار سے درخواست کی کہ وہ اپنے آپ کو ناپاک کرنے سے معذور رکھا جائے۔
9اور خُدا نے دانی ایل کو خواجہ سراوں کے سرداری کی نظر میں مُقبول و محبُوب ٹھہرایا۔
10چنانچہ خواجہ سراوں کے سردار نے دانی ایل سے کہا کہ میں اپنے خُداوند بادشاہ سے جس نے تمہارا کھانا پینا مُقرر کیا ہے ڈرتا ہُوں ۔ تمہارے چہرے اُس کی نظر میں تمہارے ہم عُمروں کے چہروں سے کیوں زبُون ہُوں اور یُوں تم میرے سر کو بادشاہ کے حُضور خطرہ میں ڈالو؟۔
11تب دانی ایل نے داروغہ سے جس کو خُواجہ سراوں کے سردار نے دانی ایل اور حننیاہ اور میسا ایل اور عزریاہ پر مُقرر کیا تھا کہا۔
12میں تیری منت کرتا ہُوں کہ تو دس روز تک اپنے خادموں کو ُزما کر دیکھ اور کھانے کو ساگ پات اور پینے کو پانی ہم کودلوا۔
13تب ہمارے چہرے اور اُن لوگوں کے چہرے جو شاہی کھانا کھاتے ہیں تیرے حُضور دیکھے جائیں ۔ پھر اپنے خادموں سے جو تو مُناسب سمجھے سو کر۔
14چُنانچہ اُس نے اُن کی یہ بات قبُول کی اور دس روز تک اُن کو آزمایا۔
15اور دس روز کے بعد اُن کے چہروں پر اُن سب جوانوں کے چہروں کی نسبت جو شاہی کھانا کھاتے تھے زیادہ رونق اور تازگی نظر آئی۔
16تب داروغہ نے اُن کی خُوراک اور مے کو جو اُن کے لے مُقرر تھی موقوف تھی موقوف کیا اور اُن کو ساگ پات کھانے کو دیا۔
17تب خُدا نے اُن چاروں جوانوں کو معرفت اور ہر طرح کی حکمت اور علم میں مہارت بخشی اور دانی ایل ہر طرح کی رویا اور خواب فہم تھا۔
18اور جب وہ دن گُزر گئے جن کے بعد بادشاہ فرمان کے مُطابق اُن کو حاضر ہونا تھا تو خواجہ سراوں کا سردار اُن کو نبُوکد نضر کے حُضور لے گیا۔
19اور بادشاہ نے اُن سے گُفتگو کی اور اُن میں سے دانی ایل اور حننیاہ اور میساایل اور عزریاہ کی مانند کوئی نہ تھا۔ اس لے وہ بادشاہ کے حُضور کھڑے رہنے لگے۔
20اور ہر طرح کی خرد مندی اور دانش وری کے باب میں جو کُچھ بادشاہ نے اُن سے پُوچھا اُن کو تمام فالگیروں اور نُجومیوں سے جو اُس کے تمام مُلک میں تھے دس درجہ بہتر پایا۔
21اور دانی ایل خورس بادشاہ کے پہلے سال تک زندہ تھا۔