Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
29 verses
1اسرائیلیوں کے ساتھ جس عہد کے باندھنے کا حکم خداوند نے موسیٰ کو آمواب کے ملک میں دیا اُسی کی یہ باتیں ہیں ۔ یہ اُس عہد سے الگ ہے جو اُس نے اُنکے ساتھ ھورب میں باندھا تھا ۔
2سو موسیٰ نے سب سرائیلیوں کو بُلوا کر اُن سے کہا تُم نے سب کچھ جو خداوند نے تمہاری آنکھوں کے سامنے مُلک مصر میں فرعون اور اُسکے سب خادموں اور اُسکے سارے ملک سے کیا دیکھا ہے ۔
3امتحان کے وہ بڑے بڑے کام او ر نشان اور بڑے بڑے کرشمے تُو نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔
4لیکن خداوند نے تُمکو آج تک نہ تو ایسا دل دیا جو سمجھے اور نہ دیکھنے کی آنکھیں اور سُننے کے کان دیے ۔
5اور میں چالیس برس بیابان میں تمکو لیے پھرا اور نہ تمہارے تن کے کپڑے پُرانے ہوئے اور نہ تیرے پاوں کی جوتی پُرانی ہوئی ۔
6اور تُم اِسی لیے روٹی کھانے اور مَے یا شراب پینے نہیں پائے تاکہ تُم جان لو کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں ۔
7اور جب تُم اِسن جگہ آئے تو حسبون کا بادشاہ سیحون اور بسن کا بادشاہ عوج ہمارا مقابلہ کرنے کو نکلے اور ہم نے اُنکو مار کر ۔
8اُنکا ملک لے لیا اور اُسے روبینیوں کو اور جدیوں کو اور منسیوں کے آدھے قبیلہ کو میراث کے طور پر دے دیا ۔
9پس تُم اِس عہد کی باتوں کو ماننا اور اُن پر عمل کرنا تاکہ جو کچھ تُم کرو اُس میں کامیاب ہو ۔
10آج کے دن تُم اور تمہارے سردار تمہارے قبیلے اور تمہارے بزرگ اور تمہارے منصبدار اور سب اسرائیلی مرد۔
11اور تمہارے بچے اور تمہاری بیویاں اور وہ پردیسی بھی جو تیری خیمہ گاہ میں رہتا ہے خواہ وہ تیرا لکڑا ہارا ہو خواہ سقا سب کے سب خداوند اپنے خدا کے سامنے کھڑے ہو ۔
12تاکہ تُو خداوند اپنے خدا کے عہد میں جسے وہ تیرے ساتھ آج باندھتا اور اُسکی قسم میں جسے وہ آج تجھ سے کھاتا ہے شامل ہو ۔
13اور وہ تجھ کو آج کے دن اپنی قوم قرار دے اور وہ تیرا خدا ہو جیسا اُس نے تجھ سے کہا ۔ جیسی اُس نے تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھائی ۔
14اور میں اِس عہد اور قسم میں فقط تُم ہی کو نہیں ۔
15پر ُکو بھی جو آج کے دن خداوند ہمارے خدا کے حضور یہاں ہمارے ساتھ کھڑا ہے اور اُسکو بھی جو آج کے دن یہاں ہمارے ساتھ نہں اُن میں شامل کرتا ہوں ۔
16( تُم خود جانتے ہو کہ ملک مصر میں ہم کیسے رہے اور کیونکر اُن قوموں کے بیچ سے ہو کر آئے جنکے درمیان سے تُم گذر ے ۔
17اور تُم نے خود اُنکی مکروہ چیزیں اور لکڑی اور پتھر اور چاندی اور سونے کی مورتیں دیکھیں جو اُنکے ہاں تھیں )
18سو ایسا نہ ہو کہ تُم میں کوئی مرد یا عورت یا خاندا ن یا قبیلہ ایسا ہو جسکا دل آج کے دن خداوند ہمارے خدا سے برگشتہ ہو اور وہ جا کر اُن قوموں کے دیوتاوں کی پرستش کرے یا ایسا نہ ہو کہ تُم میں کوئی ایسی جڑ ہو جو اندراین اور ناگدونا پیدا کرے ۔
19اور ایسا آدمی لعنت کی یہ باتیں سُنکر دل ہی دل میں اپنے کو مبارکباد دے اور کہے کہ خواہ میں کیسا ہی ہٹی ہو کر تر ے ساتھ خُشک کو فنا کر ڈالونگا تو بھی میرے لیے سلامتی ہے ۔
20پر خداوند اُسے معا ف نہیں کرے گا بلکہ اُس وقت خداوند کا قہر اور اُسکی غیرت اُس آدمی پر بر انگیختہ ہو گی اور سب لعنتیں جو اِس کتاب میں لکھی ہیں اُس پر پڑیں گی اور خداوند اُنکے نام کو صفحہ روز گار سے مٹا دے گا ۔
21اور خداوند اِس عہد کی اُن سب لعنتوں کے مطابق جو اِس شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں اُسے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے بُری سزا کے لیے جُدا کرے گا ۔
22اور آنے والی پُشتوں میں تمہاری نسل کے لوگ جو تمہارے بعد پیدا ہونگے اور پردیسی بھی جو دور کے مُلک سے آئیں گے جب وہ اِس ملک کی بلاوں اور خداوند کی لگائی ہوئی بیماریوں کو دیکھیں گے ۔
23اور یہ بھی دیکھیں گے کہ سارا مُلک گویا گندھک اور نمک بنا پڑا ہے اور ایسا جل گیا ہے کہ اِس میں نہ تو کچھ بویا جاتا نہ پیدا ہوتا اور نہ کسی قسم کی گھاس اُگتی ہے اور وہ سدوم اور عمورہ اور ادمہ اور ضبوئیم کی طرح اُجڑ گا جنہو خداوند نے اپنے غضب اور قہر میں تباہ کر ڈالا ۔
24تب وہ بلکہ سب قومیں پوچھیں گی کہ خداوند نے اِس ملک سے ایس کیوں کیا ؟ اور ایسے بڑ ے قہر کے بھڑکنے کا سبب کیا ہے ؟
25اُس وقت لوگ جو اب دیں گے کہ خداوند اںکے باپ دادا کے خدا نے جو عہد اِن کے ساتھ انکو ملک مصر سے نکالتے وقت باندھا تھا اُسے اِن لوگوں نے چھوڑ دیا ۔
26اور جا کر اور معبودوں کی عبادت اور پرستش کی جن سے وہ واقف نہ تھے اور جنکو خداوند نے اِنکو دیا بھی نہ تھا ۔
27اِسی لیے اِس کتاب کی لکھی ہوئی سب لعنتوں کو اِس ملک پر نازل کرنے کے لیے خداوند کا غضب اِس پر بھڑکا ۔
28اور خداوند نے قہر اور غصہ اور بڑے غضب میں اِنکو اِنکے ملک سے اُکھاڑ کر دوسرے ملک میں پھینکا جیسا آج کے د ن ظاہر ہے ۔
29غیب کا مالک تو خداوند ہمارا خدا ہی ہے پر جو باتیں ظاہر کی گئی ہیں و ہ ہمیشہ تک ہمارے اور ہماری اولاد کے لیے ہیں تاکہ ہم اِس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں ۔