Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
49 verses
1اور اب اے اسرائیلیو ! جو آئین اور احکام میں تمکو سکھاتا ہوں تُم اُن پر عمل کر نے کے لیے اُنکو سُن ل تاکہ تُم زندہ رہو اور اُس ملک میں جسے خداوند تمہارے باپ دادا کا خدا تُمکو دیتا ہے داخل ہو کر اُس پر قبضہ کر لو ۔
2جس بات کا میں تُمکو حکم دیتا ہوں اُس میں نہ تو کچھ بڑھانا اور نہ کچھ گھٹانا تاکہ تُم خداوند اپنے خدا کے احکام کو جو میں تُمکو بتاتا ہوں مان سکو ۔
3جو کچھ خداوند نے بعلؔ فغور کے سبب سے کیا وہ تُم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے یونکہ اُن سب آدمیوں کو جنہوں نے بعل فغور کی پیروی کی خداوند تیرے خدا نے تیرے بیچ سے نابود کر دیا ۔
4پر تُم جو خداوند اپنے خدا سے لپٹے رہے ہو سب کے سب آج تک زندہ ہو ۔
5دیکھو ! جیسا خداوند میرے خدا نے مجھے حکم دیا اُس کے مطابق میں نے تُمکو آئین اور احکامسکھا دئے ہیں تاکہ اُس مُلک میں اُن پر عمل کرو جس پر قبضہ کرنے کے لیے جا رہے ہو۔
6سو تُم اِنکو ماننا اور عمل میں لانا کیونکہ اور قوموں کے سامنے یہی تمہاری عقل اور دانش ٹھہریں گے ۔ وہ اِن تمام آئین کو سُنکر کہیں گی کہ یقینا یہ بزرگ قوم نہایت عقلمند اور دانشور ہے ۔
7کیونکہ ایسی بڑی قوم کون ہے جسکا معبود اِس قدر اُسکے نزدیک ہو جیسا خداوند ہمارا خدا کہ جب کبھی ہم اُس سے دعا کریں ہمار ے نزدیک ہو ۔
8اور کون ایسی بزرگ قوم ہے جسے آئین اور احکام ایسے راست ہیں جیسی یہ ساری شریعت ہے جسے میں آج تمہارے سامنے رکھتا ہوں ۔
9سو تُو ضرور ہی اپنی احتیاط رکھنا اور بڑی حفاظت کرنا تا نہ ہو کہ تُو وہ باتیں جو تُو نے اپنی آنکھ سے دیکھی ہیں بھُول جائے اور وہ زندگی بھر کے لیے تیرے دل سے جاتی رہیں بلکہ تُو اُنکو اپنے بیٹوں اور پوتوں کو سکھانا ۔
10خصوصاً اُس دن کی باتیں جب تُو خداوند اپنے خدا کے حضور حوربؔ میں کھڑا ہوا کیونکہ خداوند نے مجھ سے کہا تھا کہ قوم کو میرے حضور جمع کر اور میں اُنکو اپنی باتیں سُناونگا تاکہ میرا خوف مانیں او ر اپنے بال بچوں کو بھی یہی سکھائیں ۔
11چنانچہ تُم نزدیک جا کر اُس پہاڑ کے نیچے کھڑے ہوئے اور وہ پہاڑ آگ سے دہک رہا تھا اور اُسکی لَو آسمان تک پہنچتی تھی اور گِردا گرد تاریکی اور گھٹا اور ظپلمت تھی ۔
12اور خداوند نے اُس سٓگ میں سے ہو کر تُم سے کلام کیا ۔ تُم نے باتیں تو سُنیں لیکن کوئی صورت نہ دیکھی ۔ فقط آواز ہی آواز سُنی ۔
13اور اُس نے تُمکو اپنے عہد کے دسں احکام بتا کر اُنکے ماننے کا حکم دیا اور اُنکو پتھر کی دو لوحوں پر لکھ بھی دیا ۔
14اُس وقت خداوند نے مجھے حکم دیا کہ تُمکو یہ آئین اور احکام سکھاوں تاکہ تُم اُس مُلک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے جا رہے ہو اُن پر عمل کرو ۔
15سو تُم اپنی خوب ہی احتیاط رکھنا کیونکہ تُم نے اُس دن جب خداوند نے آگ میں سے ہو کر حورب میں تُم سے کلام کیا کسی طرح کی کوئی صورت نہیں دیکھی ۔
16تا نہ ہو کہ تُم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لئے بنا لو جسکی شبیہ کسی مرد یا عورت ۔
17یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اُڑنے والے پرندے ۔
18یا زمین کے رینگنے والے جاندار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہے مل��ی ہو ۔
19یا جب تُو آسمان کی طرف نظر کرے اور تمام اجرامِ فلک یعنی سورج اور چاند اور تاروں کو دیکھے تو گمراہ ہو کر اُن ہی کو سجدہ اور اُنکی عبادت کرنے لگے جنکو خداوند تیرے خدا نے رویِ زمین کی سب قوموں کے لیے رکھا ہے ۔
20لیکن خداوند نے تُمکو چُنا اور تُمکو گویا لوہے کی بھٹی یعنی مصر سے نکال لے آیا ہے تاکہ تُم اُسکی میراث کے لوگ ٹھہرو جیسا آ ج ظاہر ہے ۔
21اور تمہارے ہی سبب سے خداوند نے مجھ سے ناراض ہو کر قسم کھائی کہ میں یردن پار نہ جاوں اور نہ اُس اچھے مُلک میں پہنچنے پاوں جسے خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے ۔
22بلکہ مجھے اِسی مُلک میں مرنا ہے ۔ میں یردن پار نہیں جا سکتا ۔ لیکن تُم پار جا کر اُس اچھے مُلک پر قبضہ کرو گے ۔
23سو تُم احتیاط رکھو تا نہ ہو کہ تُم خداوند اپنے خدا کے اُس عہد کو جو اُس نے تُم سے باندھا ہے بھول جاو اور اپنے لیے کسی چیز کی شبیہ کی کھودی ہوئی مورت بنا لو جس سے خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو منع کیا ہے ۔
24کیونکہ خداوند تیرا خدا بھسم کرنے والی آگ ہے ۔ وہ غیور خدا اے ۔
25اور جب تجھ سے بیٹے اور پوتے پیدا ہوں اور تُمکو اُس مُلک میں رہتے ہوئے ایک مدت ہو جائے اور تُم بگڑ کر کسی چیز کی شبیہ کی کھودی ہوئی مورت بنا لو اور خداوند اپنے خدا کے حضور شرارت کر کے اُسے غصہ دلاو ۔
26تو میں آج کے دن تمہارے بر خلاف آسمان اور زمین کو گواہ بناتا ہوں کہ تُم اُس مُلک سےجس پر قبضہ کرنے کو یردن پار جانے پر جلد بالکل فنا ہو جاو گے ۔ تُم وہاں بہت دن رہنے نہ پاو گے بلکہ بالکل نابود کر دئے جاو گے ۔
27اور خداوند تُمکو قوموں میں تتر بتر کرے گا اور جن قوموں کے درمیان خداوند تُم کو پہنچائے گا اُن میں تم تھوڑے سے رہ جاو گے ۔
28اور وہاں تُم آدمیوں کے ہاتھ سے بنے ہوئے لکڑی اور پتھر کے دیوتاوں کی عبادت کرو گے جو نہ دیکھتے نہ سُنتے نہ کھاتے نہ سونگھتے ہیں ۔
29لیکن وہاں بی اگر تُم خداوند اپنے خدا کے طالب ہو تو وہ تجھ کو مل جائے گا بشرطیکہ تُو اپنے پورے دل سے اور اپنی ساری جان سے اُسے ڈھونڈے۔
30جب تُو مصیبت میں پڑے گا اور یہ سب باتیں تجھ پر گذریں گی تو آخری دنوں میں تو خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے گا اور اُسکی مانے گا ۔
31کیونکہ خداوند تیرا خدا رحیم خدا ہے ۔ وہ تجھ کو نہ چھوڑے گا اور نہ ہلاک کرے گا اور نہ اُس عہد کو بھُولے گا جسکی قسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی ۔
32اور جب سے انسان کو زمین پر پیدا کیا تب سے شروع کر کے تُو اُن گذرے ایام کا حال جو تجھ سے پہلے ہو چُکے پوچھ اور آسمان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دریافت کر کہ اتنی بڑی واردار کی طرح کبھی کوئی بات ہوئی یا سُننے میں بھی آئی ۔
33کیا کبھی کوئی قوم خدا کی آواز جیسے تُو نے سُنی آگ میں سے آتی ہوئی سُنکر زندہ بچی ہے؟
34یا کبھی خدا نے ایک قوم کو کسی دوسری قوم کے بیچ سے نکالنے کا ارادہ کر کے امتحانوں اور نشانوں اور معجزوں اور جنگ اور زور آور ہاتھ اوربُلند باز اور ہولناک ماجروں کے وسیلہ سے اُنکو اپنی خار بر ھزیدہ کرنے کے لیے وہ کام کیے جو خداوند تمہارے خدا نے تمہاری آنکھوں کے سامنے مصر میں تمہارے لیے کئے ؟
35یہ سب کچھ تُجھ کو دکھایا گیا تا کہ تُو جانے کہ خداوند ہی خدا ہے اور اُس کے سِوا اور کوئی ہے ہی نہیں ۔
36اُس نے اپنی آواز آسمان میں سے تجھ کو سُنائی تاکہ تجھ کو تربیت کرے اور زمین پر اُس نے تجھ کو اپنی بڑی ااگ دکھائی اور تُو نے اُسکی باتیں آگ کے بیچ میں سے آتی ہوئی سُنیں ۔
37اور چونکہ اُسے تیرے باپ دادا سے محبت تھی اِسی لیے اُس نے اُنکے بعد اُنکی نسل کو چُن لیا اور تیرے ساتھ ہو کر اپنی بڑی قدرت سے تُجھ کو مصر سے نکال لایا ۔
38تاکہ تیرےسامنے سے اُن قوموں کو جو تُجھ سے بڑی اور زور آور ہیں دفع کرے اور تُجھ کو اُنکے مُلک میں پہنچائے اور اُسے تُجھکو میراث کے طورپردے جیسا آج کے دن ظاہر ہے ۔
39پس آج کے دن تُو جان لے اور اِس بات کو اپنے دل میں جما لے کہ اوپر آسمان میں اور نیچے زمین پر خداوند ہی خدا ہے اور کوئی دوسرا نہیں ۔
40سو تُو اُس کے آئین اور احکام کو جو میں تجھ کو آج بتاتا ہوں ماننا تاکہ تیرا اور تیرے بعد تیری اولاد کا بھلا ہو اور ہمیشہ اُس مُلک میں جو خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے تیری عمر دراز ہو ۔
41پھر موسیٰ نے یردن کے پار مشرق کی طرف تین شہر الگ کئے ۔
42تاکہ ایسا خونی جو انجانے بغیر قدیمی عداوت کے اپنے پڑوسی کو مار ڈالے وہ وہاں بھاگ جائے اور اِن شہروں میں سے کسی میں جا کر جیتا بچ رہے ۔
43یعنی روبینیوں کے لیے تو شہر بصر ہو جو ترائی میں بیابان کے بیچ واقع ہے اور جدیوں کے لیے شہر رامات جو جلعاد میں ہے اور منسیوں کے لیے بسن کا شہر جولان ۔
44یہ وہ شریعت ہے جو موسیٰ نے بنی اسرائیل کے آگے پیش کی ۔
45یہی وہ شہادتیں اور آئین اور احکام ہیں جنکو موسیٰ نے بنی اسرائیل کو اُنکے مصر سے نکنے کے بعد
46یردن کے پار اُس وادی میں جو بیت فغور کے مقابل ہے کہہ سُنا یا یعنی اموریوں کے بادشاہ سیحون کے مُلک میں جو حسبون میں رہتا تھا جسے موسیٰ اور بنی اسرائیل نے مُلک مصر سے نکلنے کے بعد مارا ۔
47اور پھر اُس کے مُلک کو اور بسن کے بادشاہ عوج کے مُلک کو اپنے قبضہ میں کر لیا ۔ اموریوں کے اِن دونوں بادشاہوں کا یہ مُلک یردن پار مشرق کی طرف ۔
48عروعیر ؔ سے جو وادری ارنون کے کنارے واقع ہے کوہِ سیون تک جسے حرمون بھی کہتے ہیں پھیلا ہوا ہے ۔
49اِسی میں یردن پار مشرق کی طر ف میدان کے دریا تک جو پسگہ کے ڈھال کے نیچے بہتا ہے وہاں کا سارا میدان شامل ہے ۔