Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
18 verses
1ان سب باتوں پر میں نے دل سے غور کیا اور سب حال کی تفتیش کی اور معلوم ہُوا کہ صادق اور دانش مند اور اُن کے کام خُدا کے ہاتھ میں ہیں۔ سب کُچھ انسان کے سامنے ہے لیکن وہ نہ مُحبت جانتا ہے نہ عداوت۔
2سب کُچھ سب پر یکساں گُزرتا ہے۔ صادق اور شریر پر۔ نیکوکار اور پاک اور ناپاک پر ۔ اُس پر جو قُربانی گُزرانتا ہے اور اُس پر جو قربانی نہیں گُزرانتا ایک ہی حادثہ واقع ہوتا ہے۔ جیسا نیکوکار ہے ویسا ہی گُہنگار ہے ۔جیسا وہ جو قسم کھاتا ہے ویسا ہی وہ جو قسم سے ڈرتا ہے۔
3سب چیزوں میں جو دُنیا میں ہوتی ہیں ایک زبوُنی یہ ہے کہ ایک ہی حادثہ سب گُزرتا ہے۔ وہاں بنی آدم کا دل بھی شرارت سے بھرا ہے اور جب تک وہ جیتے ہیں حماقت اُن کے دل میں رہتی ہے اور اس کے بعد مُردوں میں شامل ہوتے ہیں۔
4چونکہ جو زندوں کے ساتھ ہے اُس کے لے اُمید ہے اس لے زندہ کُتا مُردہ شیر سے بہتر ہے۔
5کیونکہ زندہ جانتے ہیں کہ وہ مریں گے پر مُردے کُچھ نہیں جانتے اور اُن کے لے اور کُچھ اجر نہیں کیونکہ اُن کی یاد جاتی رہی ہے۔
6اب اُن کی مُحبت اور عداوت و حسد سب نیست ہو گے اور تا ابد اُن سب کاموں میں جو دُنیا میں کئے جاتے ہیں اُن کا کوئی حصہ بخرہ نہیں۔
7اپنی راہ چلا جا۔ خُوشی سے اپنی روٹی کھا اور خُوش دلی سے اپنی مے پی کیونکہ خُدا تیرے اعمال کو قبُول کر چُکا ہے۔
8تیرا لباس ہمیشہ سفید ہو اور تیرا سر چکناہٹ سے خالی نہ رہے۔
9اپنی بطالت کی زندگی کے سب دن جواُس نے دُنیا میں تجھے بخشی ہے ہاں اپنی بطالت کے سب دن اُس کی بیوی کے ساتھ جو تیری پیاری ہے عیش کر لے کہ اس زندگی میں اور تیری اُس محنت کے دوران میں جو تو نے دُنیا میں کی تیرا یہی بخرہ ہے۔
10جو کام تیرا ہاتھ کرنے کو پائے اُسے مقدوربھر کر کیونکہ پاتال میں جہاں تو جاتا ہے نہ کام ہے نہ منصوبہ ۔ نہ علم نہ حکمت۔
11پھر میں نے توجہ کی اور دیکھا کہ دُنیا میں نہ تو دوڑ میں تیز رفتار کو سبقت ہے نہ جنگ میں زور آور کو فتح اور نہ روٹی دانش مند کو ملتی ہے نہ دولت عقل مندوں کو اور نہ عزت اہل خرد کو بلکہ اُن سب کے لے وقت اور حادثہ ہے۔
12کیونکہ انسان اپنا وقت بھی نہیں پہچانتا۔ جس طرح مچھلیاں جو مُصیبت کے جال میں گرفتار ہوتی ہیں اور جس طرح چڑیاں پھندے میں پھنسائی جاتی ہیں اُسی طرح بنی آدم بھی بدبختی میں جب اچانک اُن پر آپڑتی ہے پھنس جاتے ہیں۔
13میں نے یہ بھی دیکھا کہ دُنیا میں حکمت ہے اور یہ مُجھے بڑی چیز معلُوم ہوئی۔
14ایک چھوٹا شہر تھا اور اُس میں تھوڑے سے لوگ تھے۔ اُس پر ایک بڑا بادشاہ چڑھ آیا اور اُس کا مُحاصرہ کیا اور اُس کے مُوابل بڑے بڑے دمدمے باندھے۔
15مگر اُس شہر میں ایک کنگال دانشور مرد پایا گیا اور اُس نے اپنی حکمت سے اُس شہر کو بچا لیا تو بھی کسی شخص نے اس مسکین مرد کو یاد نہ کیا۔
16تب میں نے کہا حکمت زور سے بہتر ہے تو بھی مسکین کی حکمت تحیقر ہوتی ہے اور اُس کی باتیں سُنی نہیں جاتیں۔
17دانشوروں کی باتیں جو آہستگی سے کہی جاتی ہیں احمقوں کے سردار کے شور سے زیادہ سُنی جاتی ہیں۔
18حکمت لڑائی کے ہتھیاروں سے بہتر ہے۔ لیکن ایک گُہنگار بُہت سی نیکی کو برباد کر دیتا ہے۔