Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
25 verses
1اور بنی اِسرائیل کو جس دن مُلِک مصر سے نکلے تین مہینے ہو ئے اُصی دن وہ سینا کے بیابان میں آئے ۔
2اور جب وہ رفیدیم سے روانہ ہو کر سِینا کے بیابان میں آئے تو بیا بان ہی میں ڈیرے لگالئے ۔ سو وہیں پہاڑ کے سامنے اِسرائیلیوں کے ڈیرے لگے ۔
3اور مُوسیٰ اُس پر چڑھکر خُدا کے پاس گیا اور خُداوند نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا کہ تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اِسرائیل کو سُنا دے ۔
4کہ تُم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تُمکا گویا عُقاب کے پروں بیٹھاکر اپنے پاس لے آیا ۔
5سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے ۔
6اور تم میرے لئے کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مقدس قوم ہوگے ۔ ان ہی باتوں کو تو بنی اِسرائیل کو سنا دینا ۔
7تب مُوسیٰ نے آکر اور اُن لوگوں کے بزرگوں کو بلا کر اُنکے رُوبرو وہ سب باتیں جو خُدا وند نے اسے فرمائی تھیں بیان کیں۔
8اور سب لوگوں نے ملکر جواب دیا کہ جو کچھ خُداوند نے فرمایا ہے وہ سب ہم کر ینگے اور مُوسیٰ نے لوگوں کا جواب خُداوند کو جا کر سنا یا۔
9اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ دیکھ میں کالے بادل میں اسلئے تیرے پاس آتا ہوں کہ جب میں تُجھ سے باتیں کروں تو یہ لوگ سُنیںاور سدا تیرا یقین کریں اور مُوسیٰ نے لوگوں کی باتیں خُداوند سے بیان کیں ۔
10اور خُداوند نے مُوسیٰ کہا کہ لوگوں کے پاس جا اور آج اور کل اُنکو پاک کر اور وہ اپنے کپڑے دھولیں ۔
11اور تیسرے دان تیار رہیں کیونکہ خُداوند تیسرے دن لوگوں کو دیکھتے دیکھتے کوہ سینا پر اتریگا۔
12اور تو لوگوں کے لئے طرف حد باندھ کر اُن سے کہہ دینا کہ خبردار تُم نہ اس پہاڑ پر چڑھنا اور نہ اسکے دامن کو چھونا ۔ جو کوئی پہاڑ کو چھوئے ضرور جان سے مارڈلا جائے۔
13مگر اُسے کوئی ہاتھ نہ لگائے بلکہ وہ لا کلام سنگسار کیا جائے یا تیرے چھیدا جائے خواہ وہ انسان ہو خواہ ہو حیوان وہ جیتا نہ چھوڑا جائے اور جب نر سنگا دیر تک پھونکا جائے تو وہ سب پہاڑ کے پاس آجائیں ۔
14تب مُوسیٰ پہاڑ پر سے اُترکر لوگوں کے پاس گیا اور اُس نے لوگوں کو پاک صاف کیا اور اُنہوں نے اپنے کپڑے دھولئے ۔
15اور اُس نے لوگوں سے کہہ کہ تیسرے دن تیار رہنا اور عورت کے نزدیک نہ جانا۔
16جب تیسرا دن آیا تو صبح ہوتے ہی بادل گرجنے اور بجلی چمکنے لگی اور پہاڑ پر کالی گھٹا چھا گئی اور قرناکی آواز بہت بلند ہوئی اور سب لوگ ڈیروں میں کانپ گئے ۔
17اور مُوسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خُدا سے مِلائے اور وہ پہاڑ سے نیچے آکھڑے ہوئے ۔
18اور کوہ سینا اُوپر سے نیچے تک دُھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خُداوند شُعلہ میں ہو کر اُس پر اُترا اور دھواں تنُور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا ۔
19اور جب قرناکی آواز نہایت ہی بلند ہوتی گئی تو مُوسیٰ بولنے لگا اور خُدانے آواز کے ذریعہ سے اُسے جواب دیا ۔
20اور خُداوند کوہ سینا کی چوٹی پر اُترااور خُدواند نے پہاڑ کی چوٹی پر مُوسیٰ کو بلایا۔سو مُوسیٰ اُوپر چڑھ گیا۔
21اور خُداوند نے موسیٰ سے کہا کہ نیچے اتر کر لوگوں کو تاکید اًً سمجھا دے تا ایسا نہ ہو کہ وہ دیکھنے کے لئے حدوں کو توڑ کر خُداوند کے پاس آجائیں اور اُن میں سے بہتیرے ہلاک ہو جائیں۔
22اور کاہن بھی جو خُداوند کے نز دیک آیا کرتے ہیں اپنے تئیں پاک کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ خُاوند اُن پر ٹوٹ پڑے۔
23تب مُوسیٰ نے خُداوند سے کہا کہ لوگ کوہ سینا پر نہیں چڑھ سکتے کیونکہ تو نے تو ہمکو تاکیداًً کہا ہے کہ پہاڑ کے چوگرد حد بندی کرکے اُسے پاک رکھو ۔
24خُادوند نے اُسے کہا نیچے اُتر جا اور ہارون کو اپنے ساتھ لیکرآ پر کاہن اور عوام حدیں توڑ کر خُداوند کے پاس اوپر نہ آئیں تا نہ پڑ ے۔
25چنانچہ مُوسیٰ نیچے اتر کر لوگوں کے پاس گیا اور یہ باتیں اُنکو بتائیں ۔