Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
32 verses
1پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ فِرعون کے پاس جا اور اُس سے کہہ خداوند یُوں فِرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کریں۔
2اور اگر تُو اُن کو جانے نہ دے گا تو دِیکھ میں تیرے مُلک کو مینڈکوں سے مارُونگا ۔
3اور دریا بےشمار مینڈکوں سے بھر جائے گا اور وہ آ کر تیرے گھر میں اور تیر ی آرام گاہ میں اور تیرے پلنگ پر اور تیرے ملازموں کے گھروں میں اور تیری رعنیت پر اور تیرے تنوروں اور آٹا گوندھنے کے لگنوں میں گھستے پھرینگے ۔
4اور تُجھ پر اور تیری رعیت اور تیرے نوکروں پر چڑھ جائینگے ۔
5اور خداوند نے موسیٰ کو فِرمایا کہ ہارُون سے کہہ اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ دریا اور نہروں اور جھیلوں پر بڑھا اور مینڈکوں کو مُلِک مصر پر چڑھا لا ۔
6چنانچہ جتنا پانی مصر میں تھا اُس پر ہارون نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور مینڈک چڑھ آے اور مُلِک مصر کو ڈھانک لیا ۔
7اور جادُوگروں نے بھی اپنے جادُو سے ایسا ہی کیا اور مُلِک مصر پر مینڈک چڑھا لائے ۔
8تب فِرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بُلوا کر کہا کہ خداوند سے شفاعت کرو کہ مینڈکوں کو مُجھ سے اور میری رعیت سے دفع کرے اور میں اُن لوگوں کو جانے دُونگا تاکہ وہ خداوند کے لئے قُربانی کریں ۔
9موسیٰ نے فِرعون سے کہا تجھے مجھ پر یہی فخر رہے میں تیرے اور تیرے نوکروں اور تیری رعیت کے واسطے کب کے لئے شفاعت کروں کہ مینڈک تجھ سے اور تیرے گھروں سے دفع ہوں اور دریا ہی میں رہیں ۔
10اُس نے کہا کل کے لئے ۔ تب اُس نے کہا تیرے ہی کہنے کے مطابق ہو گا تا کہ تُو جانے کے خداوند ہمارے خدا کی مانند کوئی نہیں ۔
11اور مینڈک تجھ سے اور تیرے گھروں سے اور تیرے نوکروں سے اور تیری رعیت سے دُور ہو کر دریا ہی میں رہا کریں گے ۔
12پھر موسیٰ اور فِرعون کے پاس سے نکل کر چلے گے اور موسیٰ نے خداوند سے مینڈکوں کے بارے میں جو اُس نے فِرعون پر بھیجے تھ فِریاد کی ۔
13اور خداوند نے موسیٰ کی درخواست کے موافق کیا اور سب گھروں اور صحنوں اور کھیتوں کے مینڈک مر گئے ۔
14اور لوگوں نے اُن کو جمع کر کر کے اُن کے ڈھر لگا دیے اور زمین سے بدبُو آنے لگی ۔
15پر جب فِرعون نے دِیکھا کہ چھٹکاکر مل گیا تو اُس نے اپنا دل سخت کر لیا اور جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اُن کی نہ سُنی ۔
16تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی بڑھا کر زمین کی گرد کو مار تاکہ وہ تمام مُلک مصر میں جُوئیں بن جائے ۔
17اُنہوں نے ایسا ہی کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور زمین کی گرد کو مارا اور انسان اور حیوان پر جُو ئیں ہوگئیں اور تمام مُلک مصر میں زمین کی ساری گرد جُوئیں بن گئی ۔
18اور جادُوگروں نے کوشش کی کہ اپنے جادُو سے جُوئیں پیدا کریں پر نہ کر سکے اور انسان اور حیوان دونوں پر جُوئیں چڑھی رہیں ۔
19تب جادُوگروں نے فِرعون سے کہا کہ یہ خداکا کام ہے پر فِرعون کا دل سخت ہو گیا اور جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اُس نے ان ک�� نہ سُنی ۔
20تب خداوند نے موسیٰ سے کہا صبح سویرے اُٹھ کر فِرعون کے آگے جا کھڑا ہو نا ۔ وہ دریا پر آئے گا ۔ سو تُو اُس سے کہنا خداوند یُوں فِرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے کہ وہ میری عبادت کریں ۔
21ورنہ اگر تُو اُن کو جانے نہ دے گا تو دِیکھ میں تجھ پر اور تیرے نوکروں اور تیری رعیت پر اور تیرے گروں میں مچھروں کے غول کے غول بھیجونگا اور مصریوں کے گھر اور تمام زمین جہاں جہاں وہ ہیں مچھروں کے غولوں سے بھر جائیگی ۔
22اور میں اُس دن جشن کے علاقہ کو جس میں میرے لوگ رہتے ہیں جدا کر ونگا اور اُس میں مچھروں کے غول نہ ہو نگےتا کہ تُو جان لے کہ دنیا میں خداوند میں ہی ہوں۔
23اور میں اپنے لوگوں اور تیرے لوگوں میں فرق کرونگا اور کل تک یہ نشان ظہور میں آئےگا۔
24چنانچہ خداوند نے ایسا ہی کیا اور فرعون کے گھر اور اُ س کے نوکرں کے گھروں اور سارے ملک مصر میں مچھروں کے غول کے غول بھر گےاور اُن مچھروں کے غولوں کے سبب سے ملک کا ناس ہو گیا۔
25تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلوا کر کہا کہ تم جائو اور اپنے خدا کےلئے اسی ملک میں قربانی کرو ۔
26مویٰ نے کہا ایسا کرنا مناسب نہیں کیونکہ ہم خداوند اپنےخدا کےلئے اُس چیز کی قربانی کریں گے جس چیز سے مصری نفرت کرتے ہیں۔سو اگر ہم مصریوں کی آنکھوں کے آگے اُس چیز کی قربانی کریں جس سے وہ نفرت رکھتے ہیں تو کیا وہ ہم کو سنگسار نہ کر ڈالینگے۔
27پس ہم تین دن کی راہ بیابان میں جا کر خداوند اپنے خدا کےلئے جیسا وہ ہم کو حکم دے گاقربانی کریں گے۔
28فرُعون نے کہا میں تم کو جانے دونگا تا کہ تم خداوند اپنے خدا کےلئے بیابان میں قربانی کرولیکن تم بہت دور مت جانااور میرے لئے شفاعت کرنا۔
29موسیٰ نے کہا دیکھ میں تیرے پاس سے جاکر خداوند سے شفاعت کرونگا کہ مچھروں کے غول فرُعون اوراُس کے نوکروں اور اُس کی رعیّت کے پاس سے کل ہی دور ہو جائے فقط اتنا ہو کہ فرعون آگے کو دُعا کر کہ لوگوں کو خداوند کے لئے قربانی کرنے کو جانےدینے سے انکار نہ کر دے۔
30اور موسیٰ نے فرعون کے پاس جا کر خداوند سے شفاعت کی ۔
31خداوند نے موسیٰ کی درخواست کے موافق کیا اور اُس نے مچھروں کے غولوں کو فرعون اور اُس کے نوکروں اور اُس کی رعّیت کے پاس سے دور کر دیا یہاں تک کے کہ ایک بھی باقی نہ رہا۔
32پر فرعون نے اس بار بھی اپنا دل سخت کر لیا اور اُن لوگوں کو جانے نہ دیا۔