Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
33 verses
1پھر خداوند کا کلام مجھ پر ناز ل ہوا ۔
2کہ اے آدمزاد تو اپنی قوم کے فرزندوں سے مخاطب ہو اور ان سے کہہ جس وقت میں کسی سرزمین پر تلوار چلاﺅں اور اس کے لوگ اپنے بہادروں میں سے ایک کو لیں اور اسے اپنا نگہبان ٹھہرائےں ۔
3اور وہ تلوارکو اپنی سرزمین پر آتے دیکھ کر نرسنگا پھونکے اور لوگوں کو ہوشیار کرے ۔
4تب جو کوئی نرسنگے کی آواز سنے اور ہوشیار نہ ہو اور تلوار آئے اور قتل کرے تو اسکا خون اسی کی گردن پر ہوگا ۔
5اس نے نرسنگے کی آواز سنی اور ہوشیار نہ ہوا ۔اس کا خون اسی پر ہوگا حالا نکہ اگر وہ ہوشیار ہوتا تو اپنی جان بچاتا ۔
6پر اگر نگہبان تلوار آتے دیکھے اور نرسنگا نہ پھونکے اور لوگ ہوشیار نہ کئے جائیں اور تلوار آئے اور ان کے درمیان سے کسی کو لے جائے تو وہ اپنی بد کرداری میں ہلاک ہوا لیکن میں نگہبان سے اس کے خون کی باز پرس کرونگا ۔
7سو تو اے آدمزاد اسلئے کہ میں نے تجھے بنی سرائیل کا نگہبان مقرر کیا مےرے منہ کا کلام سن رکھ اور میری طرف سے ان کو ہوشیار کر ۔
8جب میں شرےر سے کہوں اے شرےر تو ےقینا مرےگا اس وقت اگر تو شرےر سے نہ کہے اور اسے اس کی روش سے آگاہ نہ کرے تو وہ شرےر تو اپنی بدکرداری میں مرےگا پر میں تجھ سے اس کے خون کی باز پرس کرونگا ۔
9لیکن اگر تو اس شرےر کو جتائے کہ وہ اپنی روش سے باز آئے اور وہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو وہ اپنی بدکرداری میں مرےگا لیکن تو نے اپنی جان بچا لی ۔
10اسلئے اے آدمزاد تو بنی اسرائیل سے کہہ تم ےوں کہتے ہو کہ فی الحقیقت ہماری خطائیں اور ہمارے گناہ ہم پر ہیں اور ہم ان میں گھلتے رہتے ہیں ۔پس ہم کیونکر زندہ رہیں گے ؟
11تو ان سے کہہ خداوند خدا فرماتا ہے تجھے اپنی حےات کی قسم شرےر کے مرنے میں تجھے کچھ خوشی نہیں بلکہ اس میں ہے کہ شرےر اپنی راہ سے باز آئے اور زندہ ہے ۔اے بنی اسرائیل باز آﺅ۔تم اپنی بری روش سے باز آﺅ۔تم کیوں مروگے ؟
12اسلئے اے آدمزاد اپنی قوم کے فرزندوں سے یوں کہہ کہ صادق کی صداقت اس کی خطا کاری کے دن اسے نہ بچائے گی اور شرےر کی شرارت جب وہ اس سے باز آئے تو اس کے گرنے کا سبب نہ ہو گی اور صادق جب گناہ کرے تو اپنی صداقت کے سبب سے زندہ نہ رہ سکے گا ۔
13جب میں صادق سے کہوں کہ تو ےقینا زندہ رہیگا اگر وہ اپنی صداقت پر تکیہ کرکے بدکرداری کرے تو اس کی صداقت کے کام فراموش ہو جائےنگے اور وہ اس بدکرداری کے سبب سے جو اس نے کی ہے مرےگا ۔
14اور جب شرےر سے کہوں تو ےقینا مرےگا اگروہ اپنے گناہ سے باز آئے اور وہی کرے جو جائزوروا ہے ۔
15اگر وہ شرےر گرو واپس کر دے اور جو اس نے لوٹ لیا ہے واپس دےدے اور زندگی کے آئین پر چلے اور ناراستی نہ کرے تو وہ یقینا زندہ رہیگا ۔وہ نہیں مرےگا ۔
16جو گناہ اس نے کئے ہیں اس کے خلاف محسوب نہ ہو نگے ۔اس نے وہی کیا جو جائزوروا ��ے ۔وہ یقینا زندہ رہیگا ۔
17پر تےری قوم کے فرزند کہتے ہیں کہ خداوند کی روش راست نہیں حالانکہ خود ان کی روش ناراست ہے ۔
18اگر صادق اپنی صداقت چھوڑ کر بدکرداری کرے تو وہ یقینا اسی کے سبب سے مرےگا ۔
19اور اگر شرےر اپنی شرارت سے باز آئے اور وہی کرے جو جائز و روا ہے تو اس کے سبب سے زندہ رہیگے ۔
20پھر بھی تم کہتے ہو کہ خداوند کی روش راست نہیں ہے ۔ اے بنی اسرائیل میں تم میں سے ہر ایک کی روش کے مطابق تمہاری عدالت کروں گا۔
21ہماری اسیری کے بارھویںبرس کے دسویں مہینے کی پانچویں تاریخ کو یوں ہوا کہ ایک شخص جو یروشلیم کو بھاگ نکلا تھامیرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ شہر مسخر ہو گیا۔
22اور شام کے وقت اس فراری کے پہنچنے سے پیشتر خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس نے میرا منہ کھول دیا۔ اس نے صبح کو اس کے میرے پاس آنے سے پہلے میرا منہ کھول دیا اور میں پھر گونگا نہ رہا۔
23تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
24کہ اے آدمزاد ملک اسرائیل کے قیرانوں کے باشندے یوں کہتے ہیں کہ ابراہام ایک ہی تھا اور وہ اس ملک کا وارث ہوا پر ہم تو بہت سے ہیں۔ ملک ہم کو میراث میں دیا گیا ہے۔
25اس لئے تو ان سے کہہ دے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ تم لہو سمیت کھاتے اور بتوں کی طرف آنکھ اٹھا تے ہو اور خونریزی کرتے ہو۔ کیا تم ملک کے وارث ہو گے؟
26تم اپنی تلوار پر تکیہ کرتے ہو۔ تم مکروہ کام کرتے ہو اور تم میں سے ہر ایک اپنے ہمسایہ کی بیوی کو ناپاک کرتا ہے۔ کیا تم ملک کے وارث ہو گے؟
27تو ان سے یوں کہنا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم وہ جو ویرانوں میں ہیں تلوار سے قتل ہوں گے اور اسے جو کھلے میدان میں ہیں درندوں کو دوں گا کہ نگل جائیں اور ہ جو قلعوں اور غاروں میں ہیں وبا سے مریں گے۔
28کیونکہ میں اس ملک کو اجاڑ اور باعث حیرت بناﺅں گا اور اسکی قوت کا گھمنڈ جاتا رہے گااور اسرائیل کے پہاڑ ویران ہوں گے یہاں تک کہ کوئی ان پر سے گذر نہیں کرے گا۔
29اور جب میں ان کے تمام مکروہ کاموں کے سبب سے جو انہوں نے کئے ہیں ملک کو ویران اور باعث حیرت بناﺅں گا تو وہ جانیں گے کہ مَیں خداوند ہوں۔
30پر اے آدمزاد فی الحال تیری قوم کے فرزند دیواروں کے پاس اور گھروں کے آستانوں پر تیری بابت گفتگو کرتے ہیں اور ایک دوسرے کہتے ہیں ہاں ہر ایک اپنے بھائی سے یوں کہتا ہے چلو وہ کلام سنیں جو خداوند کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
31وہ امت کی طرح تیرے پاس آتے اور میرے لوگوں کی مانند تیرے آگے بیٹھتے اور تیری باتیں سنتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے منہ سے توبہت محبت ظاہر کرتے ہیں پر ان کا دل لالچ پر دوڑتا ہے۔
32اور دیکھ تو ان کےلئے نہایت مرغوب سرودی کی مانند ہے جو خوش الحان اور ماہر ساز بجانے والا ہو کیونکہ وہ تیری باتیں سنتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتے۔
33اور جب یہ باتیں وقوع میں آئیں گی(دیکھ وہ جلد وقوع میں آنے والی ہیں )تب وہ جانیں گے کہ ان کے درمیان ایک نبی تھا۔