Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
46 verses
1جب اِضؔحاق ضیعف ہوگیا اور اُسکی آنکھیں اَیسی دُھندلا گئیں کہ اُسے دِکھائی نہ دیتا تھا تو اُس نے اپنے بڑے بیتے عؔیسو کو بُلایا اور کہا اَے میرے بیٹے! اُس نے کہا مَیں حاضِر ہُوں۔
2تب اُس نے کہا دیکھ! مَیں تو صعیف ہو گیا اور مُجھے اپنی مَوت کا دِن معلوم نہیں ۔
3سو اب تُو ذرا اپنا ہتھیار اپنا ترکش اور اپنی کمان لیکر جنگل کو نِکل جا اور میرے لئِے شکار مار لا۔
4اور میری حسبِ پسند لذیذ کھانا میرے لئِے تیاّر کر کے میرے آگے لے آتا کہ مَیں کھاؤں اور اپنے مَرنے سے پہلے دِل سے تُجھے دُعا دوُں۔
5اور جب اِضؔحاق اپنے بیٹے عؔیسو سے باتیں کر رہا تھا تو رِبؔقہ سُن رہی تھی اور عؔیسو جنگل کو نِکل گیا کہ شکار مار کر لائے ۔
6تب رِبؔقہ نے اپنے بیٹے یعقؔوب سے کہا کہ دیکھ مَیں نے تیرے باپ کو تیرے بھائی عؔیسو سے یہ کہتے سُنا کہ ۔
7میرے لئَےشِکار مار کر لذید کھانا میرے واسطے تیار کر تا کہ مَیں کھاؤں اور اپنے مرنے سے پیشتر خُداوند کے آگے تجھے دُعا دُوں ۔
8سو اَے میرے بیٹے اِس حُکم کے مُطابق جو مَیں تجھے دیتی ہُوں میری بات کو مان۔
9اور جا کر ریوڑ میں سے بکری کے دو اچھّے اچھّے بچےّ مجھے لا دے اور مَیں اُنکو لیکر تیرے باپ کے لئِے اُسکی حسبِ پسند لزید کھانا تیاّر کر دُونگی ۔
10اور تُو اُسے اپنے باپ کے آگے لیجانا تا کہ وہ کھائے اور پنے مرنے سے پیشتر تجھے دُعا دے ۔
11تب یعقؔوب نے اپنی ماں رِؔبقہ سے کہا دیکھ میرے بھائی عیؔسو کے جس پر بال لیں اور میرا جِسم صاف ہے ۔
12شاید میرا باپ مجھے ٹٹولے تو مَیں اُسکی نظر میں ڈغا باز ٹھہر ؤنگا اور برکت نہیں بلکہ لعنت کماؤنگا۔
13اُسکی ماں نے اُسے کہا اَے میرے بیٹے ! تیری لعنت مجھ پر آئے ۔ تُو صِرف میری بات مان اور جا کر وہ بچے مجھے لادے۔
14تب وہ گیا اور اُنکو لا کر اپنی ماں کو دیا اور اُسکی ماں نے اُسکے باپ کی حسبِ پسند لذیذ کھانا تیار کیا ۔
15اور رِؔبقہ نے اپنے بڑے بیٹے عؔیسو کے نفِیس لِباس جو اُسکے پاس گھر میں تھے لیکر اُنکو اپنے چھوٹے بیٹے یعقؔوب کو پہنایا ۔
16اور بکری کے بچّوں کی کھالیں اُسکے ہاتھوں اور اُسکی گردن پر جہاں بال نہ تھے لپیٹ دیں۔
17اور وہ لِذیذ کھانا اور روٹی جو اُس نے تیاّر کی تھی اپنے بیٹے یعقؔوب کے ہاتھ میں دیدی۔
18تب اُس نے باپ کے پاس آکر کہا اَے میرے باپ ! اُس نے کہا مَیں حاضرِ ہُوں ۔ تُو کون ہے میرے بیٹے؟۔
19یعؔقوب نے اپنے باپ سے کہا مَیں تیرا پہلوٹھا بیٹا عؔیسوہُوں ۔ مَیں نے تیرے کہنے کے مُطابق کِیا ہے ۔ سو ذرا اُٹھ اور بیٹھ کر میرے شِکار کا گوشت کھا تا کہ تُو چِل سے مُجھے دُعا دے۔
20تب اِضؔحاق نے اپنے بیٹے سے کہا بیٹا! تُجھے یہ اِس قدر جلد کَیسے مل گیا؟ اُس نے کہا اَسلئِے کہ خُداوند تیرے خُدا نے میرا کام بنا دیا۔
21تب اَضؔحاق نے یعقؔوب سے کہا اَے میرے بیٹے ذرا نزدیک آکہ مَیں تُجھے ٹٹولوں کہ تُو میرا بیٹا عؔیسو ہے یا نہیں
22اور یعؔقوب اپنے باپ اِضؔحاق کے نزدیک گیا اور اُس نے اُسے ٹٹول کر کہا کہ آواز تو یعؔقوب کی ہے پر ہاتھ عؔیسو کے ہیں ۔
23اور اُس نے اُسے نہ پہچانا اِسلئِے کہ اُسکے ہاتھو ں پر اُسکے بھائی عؔیسو کے ہاتھوں کی طرح بال تھے۔ سو اُس نے اُسے دُعا دی۔
24اور اُس نے پوچھا کہ کیا تو میرا بیٹا عؔیسو ہی ہے۔ اُس نے کہا مَیں وہی ہُوں۔
25تب اُس نے کہا کھانا میرے آگے لے آ اور مَیں اپنے بیٹے کے شِکار کا گوشت کھاؤنگا تکہ دِل سے تجھے دُعا دُوں ۔ سو وہ اُسے اُسکے نزدیک لے آیا اور اُس نے کھایا اور وہ اُسکے لئِے مَے لایا اور اُس نے پی۔
26پھر اُسکے باپ اِضؔحاق نے اُس سے کہا اَے میرے بیٹے ! اب پاس آکر مجھے چُوم ۔
27اُس نے پاس جا کر اُسے چوُما۔ تب اُس نے اُسکے لباس کی خُوشُبو پائی اور اُسے دُعا دیکر کہا دیکھو ! میرے بیٹے کی مہک اُس کھیت کی مہک کی مانِند ہےجِسے خُداوند نے برکت دی ہو۔
28خُدا آسمان کی اوس اور زمین کی فربہی اور بہت سا اناج اور مَے تجھے بخشے ۔
29قَومیں تیری خدمت کریں اور قبیلے تیرے سامنے جُھکیں!تُو اپنے بھائیوں کا سردار ہواور تیری ماں کے بیٹے تیرے آگے جُھکیں !جو تُجھ پر لعنت کرے وہ خُد لعنتی ہواور جو مُجھے دُعا دے وہ برکت پائے!۔
30جب اِضؔحاق یعقؔوب کو دُعا دے چُکا اور یعقؔوب اپنے باپ اِضؔحاق کے پاس سے نِکلا ہی تھا کہ اُسکا بھائی عؔیسو اپنے شِکار سے ۔لَوٹا ۔
31وُہ بھی لذیذ کھانا پکا کر اپنے باپ کے پاس لایا اور اپس نے اپنے باپ سے کہا میرا باپ اُٹھ کر اپنے بیٹے کے شِکار کا گوشت کھائے تا کہ چِل سے مجھے دُعا دے۔
32اُسکے باپ اِضحاق نے اُس سے پُوچھا کہ تُو کَون ہے؟ اُس نے کہا مَیں تیرا پہلوٹھا بیٹا عؔیسو ہوُں۔
33تب تو اَضحاؔق بشِدت کانپنے لگا اور اُس نے کہا پھر وہ کَون تھا جو شِکار مار کر میرے پاس لے آیا اور مَیں نے تیرے آنے سے پہلے سب میں سے تھوڑا تھوڑا کھایا اور اُسے دُعا دی ؟ اور مُبارک بھی وہی ہوگا۔
34عؔیسو اپنے باپ کی باتیں سُنتے ہی بڑی بلند اور حسترناک آواز سے چِلاّ اُٹھا اور اپنے باپ سے کہا مُجھ کو بھی دُعا دے۔ اَے میرے باپ! مُجھ کو بھی۔
35اُس نے کہا تیرا بھائی دغا سے آیا اور تیری برکت لے گیا۔
36تب اُس نے کہا کیا اُسکا نام یعؔقوب ٹھیک نہیں رکھّا گیا ؟کیونکہ اُس نے دوبارہ مُجھے اڑنگا مارا۔ اُس نے میرا پہلوٹھے کا حق تو لے ہی لِیا تھا اور دیکھ ! اب وہ میری برکت بھی لے گیا۔ پِھر اُس نے کہا کیا تُو نے میرے لئِے کوئی برکت نہیں رکھ چھوڑی ہے؟۔
37اِضؔحاق نے عؔیسو کو جواب دِیا کہ دیکھ مَیں نے اُسے تیرا سردار ٹھہرایا اور اُسکے سب بھائیوں کو اُسکے سپُرد کیا کہ خادم ہوں اور اناج اور مَے اُسکی پرورِش کے لئِے بتائی۔ اب اَے میرے بیٹے تیرے لئِے میں کیا کُروں ۔؟۔
38تب عؔیسو نے اپنے باپ سے کہا کیا تیرے پاس چِلاّ چِلاّ کر رویا۔
39تب اُسکے باپ اِضؔحاق نے اُس سے کہا دیکھ! زرخیز زمیں میں تیرا مسک ہواور اُوپر سے آسمان کی شبنم اُس پر پڑے!۔
40تیری اَوقات بسری تیری تلوار سے ہو اور تُو اپنے بھائی کی خِدمت کرے!اور جب تُو آزاد ہوتو اپنے بھائی کا جُوٗا اپنی گردن پر سے اُتار پھینکے۔
41اور عؔیسو نے یعؔقوب سے اُس برکت کے سبب سے جو اُسکے باپ نے اُسے بخشی کینہ رکّھا اور عؔیسو نے اپنے دِل میںکہا کہ میرے باپ کے ماتم کے دِن نزدیک ہیں ۔ پھر مَیں اپنے بھائی یعؔقوب کو ما ڈالوُنگا۔
42اور رِؔبقہ کو اُسکے بڑے بیٹے عؔیسو کی یہ باتیں بتائی گئیں ۔ تب اُس نے اپنے چھوٹے بیٹے یعقؔوب کو بُلوا کر اُس سے کہا کہ دیکھ تیرا بائی عؔیسو تجھے مار ڈالنے پر ہے اور یہی سوچ سوچ کر اپنے کو تسلی دے رہا ہے ۔
43سو اَے میرے بیٹے تُو میری بات مان اور اُٹھ کر حاؔران کو میرے بائی لؔبن کے پاس بھاگ جا۔
44اور تھوڑے دِن اُسکے ساتھ رہ جب تک کہ تیرے بائی کی خفگی اُتر نہ جائے
45یعنی جب تک تیرے بھائی کا قہر تیری طرف سے ٹھنڈا نہ ہو اور وہ اُس بات کو جو تُو نے اُس سے کی ہے بھُول نہ جائے ۔ تب مَیں تجھے وہاں سے بُلوا بھیجونگی۔ مَیں ایک ہی دِن میں تُم دونوں کو کیوں کھو بَیٹھوں؟۔(
46اور رِؔبقہ نے اِضؔحاق سے کہا مَیں حِتّی لڑکیوں کے سبب سے انی زندگی سے تنگ ہُوں ۔ سو اگر یعؔقوب حِتّی لڑکیوں میں سے جَیسی اِس مُلک کی لڑکیاں ہیں کِسی سے بیا ہ کر لے تو میری زندگی میں کیا لُطف رہیگا۔