Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
57 verses
1پوُرے دو برس کے بعد فرؔعون نے خواب میں دیکھا کہ وہ لبِ دریا کھڑا ہے ۔
2اور اُس دریا میں سے سات خُوبصُورت اور موٹی موٹی گائیں نِکل کر نیستان میں چرنے لگیں ۔
3اُنکے بعد اَور سات بدشکل اور دُبلی دُبلی گائیں دریا سے نکلی اور دوُسری گایوں کے برابر دریا کے کنارے جا کھڑی ہُؤئیں ۔
4اور یہ بد شکل اور دُبلی دُبلی گائیں اُن ساتوں خُوبصورت اور موٹی موٹی گایوں کو کھا گِئیں ۔ تب فرؔعون جاگ اُٹھا۔
5اور وہ پھر سو گیا اور اُس نے دُوسرا خواب دیکھا کہ ایک ڈنٹھی میں اناج کی سات موٹی اور اچھّی اچھّی بالیں نِکلیں ۔
6اُنکے بعد اَور سات پتلی اور پُوربی ہوا کی ماری مُرجھائی ہُؤئی بالیں نِکلیں۔
7یہ پتلی بالیں اُن ساتوں موٹی اور بھری ہُؤئی بالوں کو نِگل گئیِں اور فرؔعون جاگ گیا اور اُسے معلوم ہُوا کہ یہ خواب تھا۔
8اور صُبح کو یُوں ہُؤا کہ اُسکا جی گھبرایا ۔ تب اُس نے مِصؔر کے سب جادُوگروں اور سب دانشمندوں کو بُلوا بھیجا اور اپنا خواب اُنکو بتایا پر اُن میں سے کوئی فرؔعون کے آگے اُنکی تعبیر نہ کر سکا۔
9اُس وقت سردار ساقی نے فرؔعون سے کہا کہ میری خطائیں آج مجُھے یاد آئیں ۔
10جب فرؔعون اپنے خادِموں سے ناراض تھا اور اُس نے مجھے اور سردار نان پز کو جلوداروں کے سردار کے گھر میں نظر بند کروادِیا ۔
11مَیں نے اور اُس نے ایک ہی رات میں ایک ایک خُواب دیکھا یہ خواب ہم نے اپنے اپنے ہونہار کے مُطابق دیکھے۔
12وہاں ایک عِبری جوان جلوداروں کے سردار کا نوکر ہمارے ساتھ تھا۔ ہم نے اُسے اپنے خواب بتائے اور اُس نے اُنکی تعبیر کی اور ہم میں سے ہر ایک کو ہمارے خواب کے مُطابق اُس نے تعبیر بتائی۔
13اور جو تعبیر اُس نے بتائی تھی وَیسا ہی ہُؤا کیونکہ مُجھے تو اُس نے میرے منصب پر بحال کیا تھا اور اُسے پھانسی دی تھی۔
14تب فرؔعون نے یُوسُؔف کو بُلوا بھیجا۔ سو اُنہوں نے جلد اُسے قَید خانہ سے باہر نِکالا اور اُس نے حجامت بنوائی اور کپڑے بدل کر فرؔعون کے سامنے آیا۔
15فرؔعون نے یُوسُؔف سے کہا مَیں نے ایک خواب دیکھا ہے جسکی تعبیر کو ئی نہیں کر سکتا اور مُجھ سے تیرے بارے میں کہتے ہیں کہ تُو خواب کو سُن کر اُسکی تعبیر کرتا ہے۔
16یُوسُؔف نے فرعؔون کو جواب دِیا کہ میں کُچھ نہیں جانتا ۔ خُدا ہی فرعؔون کو سلامتی بخش جواب دیگا ۔
17تب فرعؔون نے یُوسُؔف سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں دریا کے کنارے کھڑا ہُوں۔
18اور اُس دریا میں سے ساتھ موٹی اور خُوبُصورت گائیں نِکل کر نیَستان میں چرنے لِگیں ۔
19اُن کے بعد اَور سات خراب اور نہایت بد شکل اور دُبلی گائیں نِکلیں اور وہ اِس قدر بُری تھ��ں کہ مَیں نے سارے مُلکِ مصؔر میں اَیسی کبھی نہیں دیکھیں۔
20اور وہ دُبلی اور بد شکل گائیں اُن پہلی ساتوںموٹی گایوں کو گھا گئیں۔
21اور اُنکے کھا جانے کے بعد یہ معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ اُنہوں نے اُنکو کھا لیا ہے بلکہ وہ پہلے کی طرح جَیسی کی تیسی بد شکل رہیں ۔ تب مَیں جاگ گیا۔
22اور پھر خواب میں دیکھا کہ ایک ڈنٹھی میں سات بھری اور اچھّی اچھّی بالیں نکلیں۔
23اور اُنکے بعد اَور سات سُکھی اور پتلی اور پُوربی ہوا کی ماری مُرجھائی ہُوئی بالیں نِکلیں ۔
24اور یہ پتلی بالیں اُن ساتوں اچھّی اچھّی بالوں کو نِگل گئیں اور مَیں نے اِن جادُوگروں سے اِسکا بیان کِیا پر اَیسا کوٹی نہ نِکلا جو مُجھے اِسکا مطلب بتاتا۔
25تب یُوسُؔف نے فرعؔون سے کہا کہ فرعؔون کا خواب ایک ہی ہے ۔ جو کُچھ خُدا کرنے کو ہے اُسے اُس نے فرعؔون پر ظاہر کِیا ہے ۔
26وہ سات اچھّی اچھّی گائیں سات برس ہیں اور وہ سات اچھّی اچھّی گائیں سات برس ہیں اور وہ سات اچھّی اچھّی بالیں بھی سات برس ہیں خواب ایک ہی ہے۔
27اور وہ سات بدشکل اور دُبلی گائیں جو اُنکے بعد نِکلیںاور وہ سات خالی اور پُوربی ہوا کی ماری مُرجھا ئی ہُؤئی بالیں بھی سات برس ہیں مگر کال کے سات برس۔
28یہ وہی بات ہے جو مَیں فرعؔون سے کہ چُکا ہُوں کہ جو کُچھ خُدا کرنے کو ہے ہے اُسے اُس نے فرعؔون پر ظاہر کِیا ہے۔
29دیکھ ! سارے مُلکِ مصؔر میں سات برس تو پیداوارِ کثیر کے ہونگے۔
30اُنکے بعد سات برس کال کے آئینگے اور تمام مُلکِ مصؔر میں لوگ اِس ساری پیداوار کو بھُول جائینگے اور یہ کال مُلک کو تباہ کردیگا۔
31اور ارزانی مُلک میں یاد بھی نہیں رہیگی کیونکہ جو کال بعد میں پڑیگا وہ نہایت ہی سخت ہوگا۔
32اور فرؔعون نے جو یہ خواب دو دفعہ دیکھا تو اِسکا سبب یہ ہے کہ یہ بات خُدا کی طرف سے مُقرر ہو چُکی ہے اور خُدا اِسے جلد پُورا کریگا۔
33اَسلئِے فرؔعون کو چاہیتے کہ ایک دانشور اور عقلمند آدمی کو تلاش کر لے اور اُسے مُلکِ مِصؔر پر مُختار بنائے۔
34فرؔعون یہ کرے تاکہ اُس آدمی کو اِختیار ہو کہ وہ مُلک میں ناظِروں کو مُقرر کر دے اور ارزانی کے سات برسوں میں سارے مُلکِ مِصؔر کی پَیداوار کا پانچوں حصّہ لیلے۔
35اور اُن اچھّے برسوں میں جو آتے ہیں سب کھانے کی چیزیں جمع کریں اور شہر شہر میں غلّہ جو فرؔعون کے اِختیار میں ہو خُورِش کے لِئے فراہم کرکے اُسکی حِفاظت کریں ۔
36یہی غلّہ مُلک کے لئِے ذخیرہ ہوگا اور ساتوں برس کے لئے جب تک مُلک میں کال رہیگا کافی ہوگا تا کہ کال کی وجہ سے مُلک برباد نہ ہو جائے ۔
37یہ بات فرؔعون اور اُسکے سب خادِموں کو پسند آئی ۔
38سو فرعؔون نے اپنے خادِموں سے کہا کہ کیا ہمکو اَیسا آدمی جَیسا یہ ہے جس میں خُدا کی رُوح ہے مِل سکتا ہے؟۔
39اور فرؔعون نے یُوسُؔف سے کہا چونکہ خُدا نے تجھے یہ سب کُچھ سمجھا دیا ہے اِسلئِے تیری مانِند دانِشور اور عقلمند کوئی نہیں ۔
40سو تُو میرے گھر کا مُختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حُکم پر چلیگی ۔ فقط تخت کا مالِک ہونے کے سبب سے میں بُزرگتر ہُونگا۔
41فرؔعون نے یُوسُؔف سے کہا کہ دیکھ مَیں تجھے سارے مُلکِ مِصؔر کا حاکم بناتا ہُوں ۔
42اور فرؔعون نے اپنی انگُشتری اپنے ہاتھ سے نِکالکر یُوسُؔف کے ہاتھ میں پہنا دی اور اُسے باریک کتان کے لباس میں ّراستہ کراکر سونے کا طُوق اُس کے گلے میں پہنایا ۔
43اور اُس نے اُسے اپنے دُوسرے رتھ میں سوار کرا کر اُسکے آگے آگے یہ منادی کروادی کہ گُھٹنے ٹیکو اور اُس نے اُسے سارے مُلکِ مِصؔر کا حکام بنا دِیا۔
44اور فرؔعون نے یُوسُؔف سے کہا مَیں فرؔعون ہُوں اور تیرے حُکم کے بغیر کوئی آدمی اِس سارے مُلکِ مِصؔر میں اپنا ہاتھ یا پاؤں ہِلانے نہ پائیگا۔
45اور فَرؔعون نے یُوسُؔف کا نام صِفناؔت فعنیح رکھّا اور اُس نے اؔون کے پُجاری فوطِؔفیرع کی بیٹی آسِؔناتھ کو اُس سے بیا ہ دِیا اور یُوسُؔف مُلکِ مصِؔر میں دَورہ کرنے لگا۔
46اور یُوسُؔف تِیس برس کا تھا جب وہ مِصؔر کے بادشاہ فرؔعون کے سامنے گیا اور اُس نے فرؔعون کے پاس سے رُخصت ہو کر سارے مُلکِ مصِؔر کا دَورہ کِیا ۔
47اور ارزانی کے ساتھ برسوں میں اِفراط سے فصل ہُوئی ۔
48اور وہ لگاتار ساتوں برس ہر قِسم کی خُورِش جو مُلکِ مِصؔر میں پیدا ہوتی تھی جمع کر کرکے شہروں میں اُسکا ذخیرہ کرتا گیا۔ ہر شہر کی چاروں اطراف کی خُرِش وہ اُسی شہر میں رکھتا گیا۔
49اور یُوسُؔف نے غلّہ سمندر کی ریت کی مانِند نہایت کثرت سے ذخیرہ کِیا یہاں تک کہ حساب رکھنا بھی چھوڑ دِیا کیونکہ وہ بے حساب تھا۔
50اور کال سے پہلے اوؔن کے پُجاری فو طِؔیفر ع کی بیٹی آسِؔناتھ کے یُوسُؔف سے دو بیٹے پیدا ہُوئے ۔
51اور یُوسُؔف نے پہلوٹھے کا نام مُنسّؔیی یہ کہہ کر رکھّا کہ خُدا نے میری اور میرے باپ کے گھر کی سب مُشقت مُجھ سے بھُلا دی ۔
52اور دُوسرے کا نام اِفؔرائیم یہ کہکر رکھا کہ خُدا نے مجھے میری مُصیبت کے مُلک میں پھلدار کِیا ۔
53اور ارزانی کے وہ سات برس جومُلکِ مصِؔر میں ہُوئے تمام ہو گئے اور یُوسُؔف کے کہنے کے مُطابق کال کے ساتھ برس شروع ہُوئے ۔
54اور اَور سب مُلکوں میں تو کال تھا پر مُلکِ مصِؔر میں ہر جگہ خُرِش موجود تھی۔
55اور جب مُلکِ مصر میں لوگ بُھوکوں مرنے لگے تو روٹی کے لئِے فرؔعون کے آگے چِلاّئے ۔ فرؔعون نے مِصریوں سے کہا کہ یُوسُؔف کے پاس جاؤ۔ جوکُچھ وہ تُم سے کہے سو کرو۔
56اور تمام روِٰ ی زمین پر کال تھا اور یُوسُؔف اناج کے کھتوں کو کُھلوا کر مِصریوں کے ہاتھ بیچنے لگا اور مُلکِ مصؔر میں سخت کال ہوگیا۔
57اور سب مُلکوں کے لوگ اناج مول لینے کے لئِے یُوسُؔف کے پاس مِصؔر میں آنے لگے کیونکہ ساری زمین پر سخت کال پڑا تھا۔