Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1ان پر افسوس جو بے انصافی سے فیصلے کرتے ہیں اور ان پر جو ظلم کی روبکائیں لکھتے ہیں۔
2تاکہ مسکینوں کو عدالت سے محروم کریں اور جو میرے لوگوں میں محتاج ہیں انکا حق چھین لیں اور بیواؤں کو لوٹیں اور یتیم ان کا شکار ہوں! ۔
3سو تم مطالبہ کے دن اور اُس خرابی کے دن جو دور سے آئیگی کیا کرو گے ؟ تم کمک کے لیے کس کے پاس دوڑو گے؟ اور تم اپنی شوکت کہاں رکھ چھوڑو گے؟۔
4وہ قیدیوں میں گھسینگے اور مقتولوں کے نیچےچھپینگے ۔ باوجود اسکے اسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوزبڑھا ہوا ہے ۔
5اسور یعنی میرے قہر کے عصا پر افسوس! جو لٹھ اسکے ہاتھ میں ہے سو میرے قہر کا ہتھیار ہے ۔
6میں اسے ایک ریا کارقوم پر بھیجونگا اور اُن لوگوں کی مخالفت میں جن پر میرا قہر ہے میں اُسے حکم قطعی دونگا کہ مال لوٹے اور غنیمت لے لے اور انکو بازاروں کی کیچڑ کی مانند لتاڑے۔
7لیکن اسکا یہ خیال نہیں ہے اور اسکے دل میں یہ خواہش نہیں کہ ایساکرے بلکہ اسکا دل یہ چاہتا ہے کہ قتل کرے اور بہت سی قوموں کو کاٹ ڈالے۔
8کیونکہ وہ کہتا ہے کہ کیا میرے امرا سب کے سب بادشاہ نہیں؟۔
9کیا کلنو کرکمیس کی مانند نہیں ہے؟ اور حمات ارفاد کی مانند نہیں؟ اور سامریہ دمشق کی مانندنہیں ہے ؟۔
10جس طرح میرے ہاتھوں نے بتوں کی مملکتیں حاصل کیں جنکی کھودی ہوئی مورتیں یروشلم اور سامریہ کی مورتوں سے کہیں بہتر ہیں۔
11کیا جیسا میں نے سامریہ اور اس کے بتوں سے کیا ویسا ہی یروشلیم اور اسکےبتوں سے نہیں کرونگا؟ ۔
12لیکن یوں ہو گا کہ جب خداوند کوہ صیون پر اور یروشلیم میں اپنا سب کام مکمل کرچکے گا تب ( وہ فرماتا ہے ) میں شاہ اسور کو اسکے گستاخ دل کے ثمرہ کی اور اسکی بلند نظری اور گھمنڈ کی سزا دونگا۔
13کیونکہ وہ کہتا ہے میں نے اپنے زور بازو سے اور اپنی دانش سے یہ کیا ہے کیونکہ میں دانشمند ہوں ۔ ہاں میں نے قوموں کی حدود کو سرکا دیا اور انکے خزانے لوٹ لیے اور میں نے جنگی مرد کی مانند تخت نشینوں کو اُتار دیا۔
14اور میرے ہاتھ نے لوگوں کی دولت کو گھونسے کی طرح پایا اور جیسے کوئی ان انڈوں کو جو متروک پڑے ہوں سمیٹ لے ویسے ہی میں ساری زمین پر قابض ہوا اور کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ پر ہلائے یا چونچ کھولے یا چہچہائے ۔
15کیا کلہاڑا اس کے روبرو جو اُس سے کاٹتا ہے لاف زنی کر��گا ؟ کیا ارّہ ارّہ کش کے سامنے شیخی مارے گا ؟ گویا عصا اپنے اٹھانے والے کو حرکت دیتا ہے اور چھڑی آدمی کو اٹھاتی ہے۔
16اس سبب سے خداوند رب الافواج اسکے فربہ جوانوں پر لاغری بھیجے گا اور اسکی شوکت کے نیچے ایک سوزش آگ کی سوزش کی مانند بھڑکائیگا۔
17بلکہ اسرائیل کا نور ہی آگ بن جائے گا اور اس کا قدوس ایک شعلہ ہو گا اور وہ اسکے خس و خار کو ایک دن میں جلا کر بھسم کر دے گا۔
18اور اس کے بن اور باغ کی خوشنمائی کو بالکل نیست ونابود کردیگا اور وہ ایساہو جائیگا جیسا کوئی مریض جو غش کھائے ۔
19اور اسکے باغ کے درخت ایسے تھوڑے باقی بچینگے کہ ایک لڑکابھی اُنکو گن کرلکھ لے ۔
20اور اسوقت یوں ہو گا کہ وہ جو بنی اسرائیل میں سے باقی رہ جائینگے اوریعقوب کے گھرانے میں بچ رہینگے اُس پر جس نے اُنکو مارا پھر تکیہ نہ کرینگےبلکہ خداوند اسرائیل کے قدوس پر سچےدل سےتوکل کرینگے ۔
21ایک بقیہ یعنی یعقوب کا بقیہ خدایِ قادر کی طرف پھریگا۔
22کیونکہ اے اسرائیل اگرچہ تیرے لوگ سمندر کی ریت کی مانند ہوں تو بھی ان کا صرف ایک بقیہ واپس آئے گا اور بربادی پورے عدل سےمقرر ہو چکی ہے۔
23کیونکہ خداوند رب الافواج مقررہ بربادی تمام رُوی زمین پر ظاہر کریگا ۔
24لیکن خداوند رب الافواج فرماتا ہے اے میرے لوگو جو صیون میں بستے ہو اسور سے نہ ڈرو۔ اگرچہ وہ تم کو لٹھ سے مارے اور مصر کی طرح تم پر اپنا عصا اُٹھائے۔
25لیکن تھوڑی ہی دیر ہےکہ جوش و خروش موقوف ہو گا اور انکی ہلاکت سے میرےقہر کی تسکین ہو گی۔
26کیونکہ رب الافواج مدیان کی خونریزی کے مطابق جو عوریب کی چٹان پر ہوئی اُس پر ایک کوڑا اُٹھائیگا ۔ اسکا عصا سمندر پر ہو گا ہاں وہ اسے مصر کی طرح اٹھائیگا ۔
27اور اسوقت یوں ہو گا کہ اسکا بوجھ تیرے کندھے پر سے اور اسکا جوا تیری گردن پر سے اٹھا لیا جائیگا اور وہ جوا مسح کے سبب سے توڑا جائیگا ۔
28وہ عیات میں آیا ہے ۔ مجرون میں سے ہو کر گذر گیا ۔ اُس نے اپنا اسباب مِکماس میں رکھا ہے۔
29وہ گھاٹی سے پار گئے ۔ انہوں نے جبعہ میں رات کاٹی ۔ رامہ ہراسان ہے جبعہ ساؤل بھاگ نکلا ہے ۔
30اے حلیم کی بیٹی چیخ مار! اے مسکین عنتوت اپنی آواز لیس کو سنا۔
31مدمینہ چل نکلا جیبیم کے رہنے والے نکل بھاگے۔
32وہ آج کے دن نوب میں خیمہ زن ہو گا ۔ تب وہ دختر صیون کے پہاڑ یعنی کوہ یروشلیم پرہاتھ اُٹھا کر دھمکائیگا۔
33دیکھو خداوند رب الافواج ہیبتناک طور سے مار کر شاخوں کو چھانٹ ڈالیگا۔ قد آور کاٹ ڈالے جائینگے اور بلند پست کیے جائینگے۔
34اور وہ جنگل کی گنجان جھاڑیوں کو لوہے سے کاٹ ڈالیگا اور لُبنان ایک زبردست کے ہاتھ سے گر جائیگا۔