Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
32 verses
1کیونکہ خداوند یعقوب پر رحم فرمائیگا بلکہ وہ اسرائیل کو ہنوز برگزیدہ کرے گا اور انکو انکے ملک میں پھر قائم کریگا اور پردیسی ان کے ساتھ میل کرینگے اور یعقوب کے گھرانے سے مل جائینگے۔
2اور لوگ انکو لا کر انکے ملک میں پہچائینگے اوراسرائیل کا گھرانہ خداوند کی سر زمین میں انکا مالک ہو کر انکو غلام اور لونڈیاں بنائےگا کیونکہ وہ اپنے اسیرکرنے والوں کو اسیرکرینگے اور اپنے ظلم کرنے والوں پر حکومت کرینگے ۔
3اور یوں ہو گا کہ جب خداوند تیری محنت و مشقت سے اورسخت خدمت سےجو انہوں نے تجھ سے کرائی راحت بخشے گا۔
4تب توشاہ بابل کے خلاف یہ مثل لائیگا اور کہیگا کہ ظالم کیسا نابود ہو گیا! اور غاصب کیسا نیست ہوا ! ۔
5خداوند نے شریروں کا لٹھ یعنی بےانصاف حاکموں کاعصا توڑڈالا۔
6وہی جو لوگوں کو قہر سے مارتا رہا اورقوموں پر غضب کے ساتھ حکمرانی کرتا رہا اور کوئی روک نہ سکا ۔
7ساری زمین پر آرام و آسائش ہے ۔ وہ یکایک گیت گانے لگتے ہیں۔
8ہاں صنوبر کےدرخت اور لبنان کے دیودار تجھ پر یہ کہتے ہوئے خوشی کرتے ہیں کہ جب سے تو گرایا گیا تب سے کوئی کاٹنے والا ہماری طرف نہیں آیا۔
9پاتال نیچے سے تیرےسبب سے جنبش کھاتا ہے کہ تیرے آتے وقت تیرا استقبال کرے وہ تیرے لئےمردوں کو یعنی زمین کے سب سرادروں کو جگاتا ہے۔ وہ قوموں کے سب بادشاہوں کو ان کے تختوں پر سے اٹھا کھڑا کرتا ہے۔
10وہ سب تجھ سے کہیں گے کیا تو بھی ہماری مانند عاجز ہو گیا؟ تو ایسا ہو گیا جیسے ہم ہیں؟ ۔
11تیری شان و شوکت اور تیرے سازوں کی خوش آوازی پاتال میں اتاری گئی تیرے نیچے کپڑوں کا فرش ہوا اور کپڑے ہی تیرے بالا پوش بنے۔
12اےصبح کے روشن ستارے تو کیونکرآسمان سے گر پڑا! اے قوموں کر پست کرنے والے توکیونکر زمین پر ٹپکا گیا ! ۔
13تُو تو اپنے دل میں کہتا تھا کہ میں آسمان پر چڑھ جاونگا میں اپنے تخت کو خدا کے ستاروں سے بھی اونچا کرونگا اور میں شمالی اطراف میں جماعت کے پہاروں پربیٹھوں گا۔
14میں بادلوں سے بھی اوپر چڑھ جاونگا ۔ میں خدا تعالیٰ کی مانند ہونگا۔
15لیکن تو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اتارا جائیگا۔
16اور جنکی نظر تجھ پر پڑےگی تجھے غور سے دیکھ کر کہیں گے کیا یہ وہی شخص ہے جس نے زمین کو لرزایا اور مملکتوں کو ہلا دیا��
17جس نے جہان کو ویران کیا اور اسکی بستیاں اجاڑ دیں ۔ جس نے اپنے اسیروں کو آزاد نہ کیا کہ گھر کی طرف جائیں؟ ۔
18قوموں کے تمام بادشاہ سب کے سب اپنے اپنےمسکن میں شوکت کے ساتھ آرام کرتے ہیں۔
19لیکن تو اپنی گور سے باہر نکمی شاخ کی مانند نکال پھینکا گیا۔ تو اُن مقتولوں کے نیچے دبا ہے جو تلوار سے چھیدے گئے اور گڑھے کے پتھروں پر گرے ہیں ۔ اُس لاش کی مانند جوجو پاؤں سے لتاڑی گئی ہو ۔
20تو انکے ساتھ کبھی قبر میں دفن نہ کیا جائے گا کیونکہ تو نے اپنے مملکت کو ویران کیا اور اپنی رعیت کو قتل کیا ۔بدکرداروں کی نسل کا نام باقی نہ رہیگا۔
21اسکے فرزندوں کے لئے انکے باپ دادا کےگناہوں کے سبب سے قتل کے سامان تیار کرو تاکہ وہ پھر ملک کے مالک نہ ہو جائیں اور رُویِ زمین کو شہروں سے معمور نہ کریں۔
22کیونکہ رب الافواج فرماتا ہے میں انکی مخالفت کو اٹھونگا اور میں بابل کا نام مٹاونگا اور انکو جو باقی ہیں بیٹوں اور پوتوں سمیت کاٹ ڈالونگا ۔ یہ خداوند کا فرمان ہے۔
23رب الافواج فرماتا ہے میں اسے خار پشت کی میراث اور تالاب بناونگا اور میں اسے فنا کے جھاڑو سے صاف کردونگا۔
24رب الافواج قسم کھا کر فرماتا ہےکہ یقیناً جیسا میں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا میں نے ارادہ کیا ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔
25میں اپنے ہی ملک میں اسوری کی شکست دونگا اور اپنے پہاڑوں میں اُسے پاؤں تلے لتاڑونگا ۔ تب اُسکا جُوا ان پر سے اتریگا اور اسکا بوجھ ان کے کندھو ں پر سے ٹلیگا۔
26ساری دنیا کی بابت یہی ہے اور سب قوموں پر یہی ہاتھ بڑھایا گیا ہے ۔
27کیونکہ رب الافواج نے ارادہ کیا ہے۔ کون اسے باطل کریگا ؟ اور اسکا ہاتھ بڑھایا گیا ہے اُسے کون روکیگا؟ ۔
28جس سال آخز بادشاہ نے وفات پائی اُسی سال یہ بار بنوت آئی۔
29اے کل فلستین تو اس پر خوش نہ ہو کہ تجھے مارنے والا لٹھ ٹوٹ گیا کیونکہ سانپ کی اصل سے ایک ناگ نکلیگا اور اُس کا پھل ایک اڑنےوالا آتشی سانپ ہو گا ۔
30تب مسکینوں کے پہلوٹھے کھائینگے اور محتاج آرام سے سوئیں گے پر میں تیری جڑ کال سے برباد کردونگا اور تیرے باقی لوگ قتل کیے جائینگے۔
31اے پھاٹک تو واویلا کر اے شہر تو چلا اے فلستین تو بالکل گداز ہو گئی کیونکہ شمال سے ایک دھواں اُٹھیگااور اسکے لشکروں میں سے کوئی پیچھے نہ رہے گا ۔
32اس وقت قوم کے قاصدوں کو کوئی کیا جواب دیگا؟ کہ خداوند نے صیون کو تعمیر کیا ہے اور اس میں اسکے مسکین بندے پناہ لیں گے۔