Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
33 verses
1خداوند فرماتا ہے ان باغی لڑکوں پر افسوس جو ایسی تدبیر کرتے ہیں جو میری طرف سے نہیں اور عہد و پیمان کرتے ہیں جو میری روح کی ہدایت سے نہیں تاکہ گناہ پر گناہ کریں۔
2وہ مجھ سے پوچھے بغیر مصر کو جاتے ہیں تاکہ فرعون کے پاس پناہ لیں اور مصر کے سایہ میں امن سے رہیں۔
3لیکن فرعون کی حمایت تمہارے لیے خجالت ہو گی اور مصرکے سایہ میں پناہ لینا تمہارے راسطے رسوائی ہو گا۔
4کیونکہ اسکے سرادر ضعن میں ہیں اور اسکے ایلچی حنیس میں جا پہنچے۔
5وہ اس قوم کو جو انکو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے اور مدد و یاری نہیں بلکہ خجالت اور ملامت کا باعث ہو شرمندہ ہونگے۔
6جنوب کے جانوروں کی بابت بار نبوت۔ دکھ اور مصیبت کی سر زمین جہاں سے نر و مادہ شیر ببر اور افعی اور اڑنے والے آتشی سانپ آتے ہیں وہ اپنی دولت گدھوں کی پیٹھ پر اور اپنے خزانے اونٹوں کی کوہان پر لاد کر اس قوم کے پاس لے جاتےجس سے انکو کچھ فائدہ نہ پہنچیگا۔
7کیونکہ مصریوں کی کمک باطل اور بے فائدہ ہو گی اسی سبب سے میں نے اسے رہب کہا جوسُست بیٹھی ہے ۔
8اب جا کر انکے سامنے اسے تختی پر لکھ اور کتاب میں قلمبند کر تاکہ آئیندہ ابدالاباد رہے۔
9کیونکہ یہ باغی لوگ اور جھوٹے فرزند ہیں جو خدا کی شریعت کو سننے سے انکار کرتے ہیں۔
10جو غیب بینوں سے کہتے ہیں غیب بینی کرو اور نبیوں سے کہ ہم پر سچی نبوتیں ظاہر کرو۔ ہمکو خوشگوار باتیں سناؤ اور ہم سے جھوٹی نبوت کرو۔
11راہ سے باہر جاؤ راستہ سے برگشتہ ہو اور اسرائیل کےقدوس کو ہمارے درمیان سے موقوف کرو۔
12پس اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے چونکہ تم اس کلام کو حقیر جانتے ہو اور ظلم اور کجروی پر بھروسہ رکھتے اور اسی پر قائم ہو ۔
13اس لیے یہ بدکرداری تمہارے لئے ایسی ہو گی جیسی پھٹی ہوئی دیوار جو گرا چاہتی ہو۔ اونچی ابھری ہوئی دیوار جس کا گرنا ناگہان ایک دم میں ہو۔
14وہ اسے کمہار کے برتن کی طرح توڑ ڈالے گا اسے بے دریغ چکنا چور کریگا چنانچہاس کے ٹکڑوں میں ایک ٹھیکرا بھی نہ ملے گا جس میں چولہے پر سے آگے اٹھائی جائے یا حوض سے پانی لیا جائے۔
15کیونکہ خدا یہوواہ اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ واپس آنے اورخاموش بیٹھنے میں تمہاری سلامتی ہے ۔ خاموشی اورتوکل میں تمہاری قوت ہے پر تم نے یہ نہ چاہا۔
16تم نے کہا ��ہیں ہم تو گھوڑوں پر چڑھ کر بھاگینگے اس لیے تم بھاگو گے اور کہا ہم تیز رفتار جانوروں پر سوار ہونگے پس تمہارا پیچھا کرنے والے تیز رفتار ہونگے۔
17ایک کی جھڑکی سے ایک ہزاربھاگینگے ۔ پانچ کی جھڑکی سے تم ایسے بھاگو گے کہ تم اس علامت کی مانند جو پہاڑ کی چوٹی پر اور اس نشان کی مانند جو کوہ پر نصب کیا گیا ہو رہ جاؤ گے۔
18تو بھی خدا تم پر مہربانی کرنے کے لیے انتظار کریگااورتم پر رحم کرنے کےلیے بلند ہو گا کیونکہ خداوند عادل خدا ہے ۔ مبارک ہیں وہ سب جو اسکا انتظار کرتے ہیں۔
19کیونکہ اے صیونی قوم جو یروشلیم میں بسے گی تو پھر نہ روئیگی۔ وہ تیری فریاد کی آواز سن کر یقیناً تجھ پر رحم فرمائیگا ۔ وہ سنتےہی جواب دیگا۔
20اور اگرچہ خداوند تجھ کو تنگی کی روٹی اور مصیبت کا پانی دیتاہے تو بھی تیرا معلم پھر تجھ سے روپوش نہ ہو گا بلکہ تیری آنکھیں اسکو دیکھیں گی۔
21اور جب تو دہنی یا بائیں طرف مڑے تو تیرے کان پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اس پر چل۔
22اس وقت تو اپنی کھودی ہوئی مورتوں پر مڑھی ہوئی چاندی اورڈھالے ہوئے سونے کو ناپاک کریگا ۔ تو اسے حیض کی لتّہ کی مانند پھینک دیگا۔ تو اسے کہیگا نکل دورہو۔
23تب وہ تیرے بیج کے لیے جو تو بوئے بارش بھیجے گا اورزمین کی افزائش کی روٹی کا غلہ عمدہ اورکثرت سے ہو گا۔ اس وقت تیرے جانور وسیع چراگاہوں میں چرینگے۔
24اور بیل اور جوان گدھے جن سے زمین جوتی جاتی ہے لذیذ چارا کھائینگے جو بیلچہ اور چھاج سے پھٹکا گیا ہو۔
25اور جب برج گرینگے اور بڑی خونریزی ہو گی تو ہر ایک اونچے پہاڑ اور بلند ٹیلے پر چشمے اور پانی کی ندیاں ہونگے۔
26اور جس وقت خداوند اپنے لوگوں کی شکستگی کو درست کریگا اور انکے زخموں کو اچھا کریگا تو چاند کی چاندنی ایسی ہو گی جیسی سورج کی روشنی اورسورج کی روشنی سات گنی بلکہ سات دن کے برابر ہو گی۔
27دیکھو خداوند سے چلا آتا ہے ۔ اسکا غضب بھڑکا اوردھوئیں کا بادل اٹھا! اسکے لب قہر آلود اور اسکی زبان بھسم کرنے والی آگ کی مانند ہے۔
28اسکا دم ندی کے سیلاب کی مانند ہے جو گردن تک پہنچ جائے ۔ وہ قوموں کو ہلاکت کے چھاج میں پھٹکے گا اور لوگوں کے جبڑوں میں لگام ڈالیگا تاکہ انکو گمراہ کرے۔
29تب تم گیت گاؤ گے جیسے اس رات گاتے ہو جب مقدس عید مناتےہو اور دل کی ایسی خوشی ہو گی جیسی اس شخص کی جو بانسری لئے ہوئے خرامان ہو کہ خداوند کے پہاڑ میں اسرائیل کی چٹان کے پاس جائے ۔
30کیونکہ خداوند اپنی جلالی آواز سنائے گا اور اپنے قہر کی شدت اور آتش سوزان کے شعلے اورسیلاب اور آندھی اور اولوں کے ساتھ اپنا بازو نیچے لائیگا۔
31ہاں خداوند کی آواز ہی سے اسور تباہ ہو جائیگا ۔ وہ اسے لٹھ سے ماریگا ٍ۔
32اور اس قضا کے لٹھ کی ہر ایک ضرب جو خداوند اس پر لائیگا دف اوربربط کے ساتھ ہو گی اور وہ اس سے سخت لڑائی لڑے گا ۔
33کیونکہ توفت مدت سے تیار کیا گیا ہاں وہ بادشاہ کے لیے گہرا اور وسیع بنایا گیا ہے۔ اسکا ڈھیر آگ اور بہت سا ایندھن ہے اور خداوند کی سانس گندھک کے سیلاب کی مانند اسکو سلگاتی ہے۔