Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1تسلی دو تم میرے لوگوں کو تسلی دو۔ تمہارا خدا فرماتا ہے۔
2یروشلیم کو دلاسا دو اور اسے پکار کر کہو کہ اسکی مصیبت کے دن جو جنگ و جدل کے تھے گذر گئے۔ اسکے گناہ کا کفارہ ہوا اور اس نے خداوند کے ہاتھ سے اپنے سب گناہوں کا بدلہ دو چند پایا۔
3پُکارنے والے کی آواز! بیابان میں خداوند کی راہ درست کرو۔ صحرا میں ہمارے خداوند کے لیے شاہراہ ہموار کرو۔
4ہر ایک نشیب اونچا کیا جائے گا اور ہر ایک ٹیڑھی چیز سیدھی اور ہر ایک ناہموار جگہ ہموار کی جائے۔
5اور خداوند کا جلال آشکارا ہو گا اورتمام بشراسکو دیکھے گا کیونکہ خداوند نے اپنے منہ سے فرمایا ہے ۔
6ایک آواز آئی کہ منادی کر اورمیں نے کہا کہ میں کیا منادی کروں؟ ہر بشر گھاس کی مانند ہے اور اسکی ساری رونق میدان کے پھول کی مانند۔
7گھاس مرجھاتی ہے پھول کُملاتا ہے کیونکہ خداوند کی ہوا اس پر چلتی ہے یقیناً لوگ گھاس ہیں۔
8ہاں گھاس مرجھاتی ہے۔ پھول کُملاتا ہے پر ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔
9اے صیون کو خوشخبری سنانے والی اونچے پہاڑ پر چڑھ جا اور اے یروشلیم کو بشارت دینے والی زور سے اپنی آواز بلند کر! خوب پُکار اور مت ڈر۔ یہوداہ کی بستیوں سے کہہ دیکھو اپنا خدا!۔
10دیکھو خداوند خدا بڑی قدرت کے ساتھ آئیگا اور اسکا بازو اسکے لیے سلطنت کریگا۔ دیکھو اسکا صلہ اسکے ساتھ ہے اوراسکا اجر اسکے سامنے۔
11وہ چوپان کی مانند اپنا غلہ چرائیگا۔ وہ بّروں کو اپنے بازوں میں جمع کریگا اور اپنی بغل میں لے کر چلے گا اور انکو جو دودھ پلاتی ہیں آہستہ آہستہ لے کر چلے گا۔
12کس نے سمندر کو چلو سے ناپا اور آسمان کی پیمائش بالشت سے کی اور زمین کی گرد کو پیمانہ میں بھرا اورپہاڑوں کو پلڑوں میں وزن کیا اورٹیلوں کو ترازو میں تولا؟ ۔
13کس نے خداوند کی روح کی ہدایت کی یا اسکا مشیر ہو کر اسے سکھایا؟ ۔
14اس نے کس سے مشورت لی جو اسے تعلیم دے اور اسے عدالت کی راہ سجھائے اور اسے معرفت کی بات بتائے اور اسے حکمت سے آگاہ کرے ؟ ۔
15دیکھ قومیں ڈول کی ایک بوند کی مانند ہیں اورترازو کی باریک گرد کی مانند گنی جاتی ہیں۔ دیکھ وہ جزیروں کو ایک ذٓرہ کی مانند اٹھا لیتا ہے۔
16لبنان ایندھن کے لیے کافی نہیں اور اسکے جانور سوختنی قربانی کے لیے بس نہیں۔
17سب قومیں اسکی نظرمیں ہیچ ہیں بلکہ وہ اسکے نزدیک بطالت اور ناچیز سے بھی کمتر گنی جاتی ہیں۔
18پس تم خدا کو کس سے تشبیہ دو گے؟ اور کون سی چیز اس سے مشابہ ٹھہراؤ گے؟۔
19تراشی ہوئی مورت! کاریگر نے اسے ڈھالا اور سنار اس پر سونا مڑھتا ہے اوراسکے لیے چاندی کی زنجیریں بناتا ہے۔
20اور جو ایسا تہیدست ہے کہ اس کے پاس نذر گذارننے کو کچھ نہیں وہ ایسی لکڑی چن لیتا ہے جو سڑنے والی نہ ہو۔ وہ ہوشیار کاریگر کی تلاش کرتا ہے تاکہ ایسی مورت بنائے جو قائم رہ سکے۔
21کیا تم نہیںجانتے؟ کیا تم نے نہیں سنا؟ کیا یہ بات ابتدا ہی سے تم کو بتائی نہیں گئی؟ کیا تم بنائے عالم سے نہیں سمجھے؟ ۔
22وہ محیط زمین پر بیٹھا ہے اور اسکے باشندے ٹڈوں کی مانند ہیں وہ آسمان کو پردہ کی مانند تانتا ہے اور اسکو سکونت کے لیے خیمہ کی مانند پھیلاتا ہے۔
23جو شاہزادوں ہو ناچیز کر ڈالتا ہے اور دنیا کے حاکموں کو ہیچ ٹھہراتا ہے۔
24وہ ہنوز لگائے نہ گئے وہ ہنوز بوئے نہ گئے ۔ انکا تنا زمین میں ہنوز جڑ نہ پکڑ چکا کہ وہ فقط ان پر پھونک مارتا ہے اور وہ خشک ہو جاتے ہیں اورگرد باد انکو بھوسے کی مانند اڑا لے جاتاہے۔
25وہ قدوس فرماتا ہے کہ تم مجھے کس سے تشبیہ دوگے؟ اورمیں کس چیز سے مشابہہ ہونگا۔
26اپنی آنکھیں اوپر اٹھاؤ اور دیکھو کہ ان سب کا خالق کون ہے۔ وہی جو انکے لشکر کو شمار کر کے نکالتا ہے اور ان سب کو نام بنام بلاتا ہے اسکی قدرت کی عظمت اور اسکے بازو کی توانائی کے سبب سے ایک بھی غیر حاضر نہیں رہتا۔
27پس اے یعقوب تو کیوں یوں کہتا ہے کہ اے اسرائیل تو کس لئے ایسی بات کرتا ہے کہ میری راہ خداوند سے پوشیدہ ہے اور میری عدالت خدا سے گذر گئی؟ ۔
28کیا تو نہیں جانتا؟ کیا تو نےنہیں سنا کہ خداوند خدایِ ابدی و تمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور ماندہ نہیں ہوتا؟ اسکی حکمت ادراک سے باہر ہے۔
29وہ تھکے ہوئے ہو زوربخشتا ہے اورناتوان کی توانئی کو زیادہ کرتا ہے ۔
30نوجوان بھی تھک جائینگے اور ماندہ ہونگے اور سورما بالکل گر پڑینگے ۔
31لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے ازسر نو زور حاصل کرینگے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پر سے اڑینگے وہ دوڑینگے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلینگے اورماندہ نہ ہونگے۔