Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1لیکن اب اے یعقوب میرے خادم اوراسرائیل میرے برگزیدہ سن! ۔
2خداوند تیرا خادم جس نے رحم ہی سے تجھے بنایا اور تیری مدد کریگا۔ یوں فرماتا ہے کہ اے یعقوب میرے خادم اور یسورون میرے برگزیدہ خوف نہ کر۔ کیونکہ میں پیاسی زمین پر انڈیلونگا۔
3اور خشک زمین میں ندیاں جاری کرونگا۔ میں اپنی روح تیری نسل پر اور اپنی برکت تیری اولاد پر نازل کرونگا۔
4اوروہ گھاس کےدرمیان اگینگے جیسے بہتے پانی کے کنارے پر بید ہو۔
5ایک تو کہیگا کہ میں خداوند کا ہوں اوردوسرا اپنے آپ کو یعقوب کے نام سے ٹھہرائےگا اورتیسرا اپنے ہاتھ پر لکھے گا میں خداوند ہوں اور اپنے آپ کو اسرائیل کے نام سے ملقّب کریگا۔
6خڈاوند اسرائیل کا بادشاہ اور اسکا فدی دینے والا رب لافواج یوں فرماتا ہے کہ میں ہی اوّل اور میں ہی آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں۔
7اور جب سے میں نے قدیم لوگوں کی بنیاد ڈالی کون میری طرح بلائیگا اور اسکو بیان کر کے میری طرح ترتیب دیگا؟ ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اسکا بیان کریں۔
8تم نہ ڈرو اور ہراسان نہ ہو۔ کیا میں نے قدیم ہی سے تجھے نہیں بتایا اورظاہر نہیں کیا؟ تم میرے گواہ ہو۔ کیا میرے سوا کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں کوئی چٹان نہیں میں تو کوئی نہیں جانتا۔
9کھودی ہوئی مورتوں کے بنانے والے سب کے سب باطل ہیں اور انکی پسندیدہ چیزیں بےنفع ہیں۔ ان ہی کے گواہ دیکھتے نہیں اور سمجھتے نہیں تاکہ پشیمان ہوں۔
10کس نے کوئی بت بنایا یا کوئی مورت ڈھالی جس سے کچھ فائدہ ہو؟۔
11دیکھ اسکے سب ساتھی شرمندہ ہونگے کیونکہ بنانے والے تو انسان ہیں وہ سب کے سب جمع ہو کر کھڑے ہوں۔ وہ ڈر جائینگے وہ سب کے سب شرمندہ ہونگے۔
12لہار کلہاڑا بناتا ہے اور اپنا کام انگاروں سے کرتا ہے اور اسے ہتھوڑوں سے درست کرتا ہے اور اپنے بازو کی قوت سے گھڑتا ہے۔ ہاں وہ بھوکا ہو جاتا ہے اور اسکا زور گھٹ جاتا ہے وہ پانی نہیں پیتا اور تھک جاتا ہے۔
13بڑھئی سوت پھیلاتا ہے اور نُکیلے ہتھیار سے اسکی صورت کھینچتا ہے وہ اسکو رندے سے صاف کرتاہے اور پرکار سے اس پر نقش بناتا ہے وہ اسے انسان کی شکل بلکہ آدمی کی خوبصورت شبیہ بناتا ہے تاکہ اسےگھر میں نصب کرے۔
14وہ دیوداروں کو اپنے لیے کاٹتا ہے اور قسم قسم کے بلوط کو لیتا ہے اور جنگل کے درختوں سے جسکو پسند کرتا ہے۔ وہ صنوبر کا درخت لگاتا ہے اور مینہ اسے سینچتا ہے۔
15تب وہ آدمی کے لیے ایندھن ہوتا ہے اواس میں سے کچھ سلگا کر تاپتا ہے۔ وہ اسکو جلا کر روٹی پکاتا ہے بلکہ اس سے بت بنا کر اسے سجدہ کرتاہے۔ وہ کھودی ہوئی مورت بناتا ہے اور اسکے آگے منہ کےبل گرتا ہے۔
16اسکا ایک ٹکڑا لیکر آگ میں جلاتا ہے اور اسی کے ایک ٹکڑے پر گوشت کباب کر کے کھاتا اور سیر ہوتا ہے۔ پھر وہ تاپتا اور کہتا ہے ہا میں گرم ہو گیا میں نے آگ دیکھی۔
17پھر اسکی باقی لکڑی سے دیوتا یعنی کھودی ہوئی مورت بناتا ہے اور اسکے آگے منہ کے بل گر جاتا ہے اور اسے سجدہ کرتا اور اس سے التجا کر کے کہتا ہے کہ مجھے نجات دے کیونکہ تو میرا خدا ہے۔
18وہ نہیں جانتے اور نہیں سمجھتےکیونکہ انکی آنکھیں بند ہیں۔ پس وہ دیکھتے نہیں اور انکے دل سخت ہیں۔ پس وہ سمجھتے نہیں۔
19بلکہ کوئی اپنے دل سے نہیں سوچتا اور نہ کسی کو معرفت اورتمیز ہے کہ اتنا کہے میں نے اس کا ایک ٹکڑا آگ میں جلایا اور میں نے اسکے انگاروں پر روٹی بھیپکائی اورمیں نے گوشت بھونا اور کھایا۔ اب کیا میں اس کے بقیہ سے ایک مکرو ہ چیز بناؤں؟ کیا میں درخت کے کندے کو سجدہ کروں؟ ۔
20وہ راکھ کھاتا ہے۔ فریب خوردہ دل نے اسکو ایسا گمراہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی جان بچا نہیں سکتا اور کہتا کیا میرے دہنے ہاتھ میں بطالت نہیں۔
21اے یعقوب! اے اسرائیل! ان باتوں کو یاد رکھ کیونکہ تو میرا بندہ ہے اور میں نے تجھے بنایا تو میرا خادم ہے اے اسرائیل میں تجھ کو فراموش نہ کرونگا۔
22میں نے تیری خطاؤں کو گھٹا کی مانند اورتیری گناہوں کو بادل کی مانند مٹا ڈالا۔ میرے پاس واپس آ جا کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔
23اے آسمانو گاؤ کہ خداوند نے یہ کیا ہے۔ اے اسفل زمین للکار اے پہاڑو اے جنگل اوراسے سب درختو نغمہ پردازی کرو کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا اوراسرائیل میں اپنا جلال ظاہر کریگا۔
24خداوند تیرا فدیہ دینے والا جس نے رحم سے ہی تجھے بنایا یوں فرماتا ہے کہ میں خداوند سب کا خالق ہوں میں ہی اکیلا آسمان کو تاننے والا اور زمین کو بچھانے والا ہوں کون میرا شریک ہے؟ ۔
25میں جھوٹوں کے نشانوں کو باطل کرتا اورفالگیروں کو دیوانہ بناتا ہوں اور حکمت والوں کو رد کرتا اور انکی حکمت کو حماقت ٹھہراتا ہوں۔
26اپنے خادم کے کلام کو ثابت کرتا اور اپنے رسولوں کی مصلحت کو پورا کرتا ہوں جو یروشلیم کی بابت کہتا ہوں کی وہ آباد ہو جائیگا اور یہوداہ کے شہروں کی بابت کہ وہ تعمیر کیے جائینگے اور میں اس کے کھنڈروں کو تعمیر کرونگا۔
27جو سمندر کو کہتا ہوں کہ سوکھ جا اور میں تیری ندیاں سکھا ڈالوں گا۔
28جو خورس کے حق میں کہتا ہوں کہ وہ میرا چرواہا ہے اور میری مرضی بالکل پوری کرے گا اور یروشلیم کی بابت کہتا ہوں کہ وہ تعمیر کیا جائیگا اورہیکل کی بابت کی اسکی بنیاد ڈالی جائیگی۔