Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
25 verses
1اور شاہ یہوداہ آخز بن یوتام بن عُزیاہ کے آیام میں یہ ہوا کہ رضین شاہ ارام اور فقح بن رملیاہ شاہ اسرائیل نے یروشلیم پر چڑھائی کی لیکن اُس پر غالب نہ آسکے۔
2اُس وقت داؤد کے گھرانے کو یہ خبر دی گئی کہ ارام افرائیم کے ساتھ متحد ہے۔ پس اُس کے دل نےاور اُس کے لوگوں کےدلوں نے یوں جنبش کھائی جیسےجنگل کےدرخت آندھی سےجنبش کھاتےہیں۔
3تب خداوند نے یسعیاہ کو حکم کیا کہ تو اپنےبیٹے شیار یاشوب کو لےکر اوپر کے چشمہ کی نہر کے سرے پر جو دھوبیوں کے میدان کی راہ میں ہے آخز سے ملاقات کر۔
4اوراُسے کہہ کے خبردار ہو اوربےقرار نہ ہو۔ ان لکٹیوں کے دودھوئیں والے ٹکڑوں سے یعنی ارامی رضین اوررملیاہ کے بیٹےکی قہر انگیزی سے نہ ڈر اور تیرا دل نہ گھبرائے۔
5چونکہ ارام اورافرائیم اوررملیاہ کا بیٹا تیرے خلاف مشورت کر کے کہتےہیں۔
6کہ آؤ ہم یہوادہ پر چڑھائی کریں اوراُسے تنگ کریں اور اپنے لیے اُس میں رخنہ پیدا کریں اور طابیل کے بیٹے کو اُسکے درمیان تخت نشین کریں ۔
7اس لیے خداوند خدافرماتا ہے کہ اسکو پایداری نہیں بلکہ ایسا ہو بھی نہیں سکتا ۔
8کیونکہ ارام کا دالسلطنت دمشق ہی ہو گا اور دمشق کا سردار رضین اورپینسٹھ برس کےاندر افرائیم ایسا کٹ جائے گا کہ قوم نہ رہیگا۔
9افرائیم کا بھی دارالسلطنت سامریہ ہی ہو گا اور سامریہ دا سردار رملیاہ کا بیٹا۔ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو یقیناً تم بھی قائم نہ رہو گے۔
10پھر خداوند نے آخز سے فرمایا۔
11خداوند اپنے خدا سے کوئی نشان طلب کر خواہ نیچے پاتال میں خواہ اُوپر بلندی پر ۔
12لیکن آخز نے کہا کہ میں طلب نہیں کروں گا اور خداوند کو نہیں آزماونگا۔
13تب اُن نے کہا اے داؤد کے خاندان اب سنو ! کیا تمہارا انسان کو بیزار کرنا کوئی ہلکی بات ہے کہ میرے خدا کو بھی بیزار کروگے؟۔
14لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور وہ اُس کا نام عمانوائیل رکھے گی۔
15وہ دہی اورشہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اور بدی کےرد و قبول کے قابل نہ ہو جائے۔
16پراس سے پیشتر کہ یہ لڑکا نیکی اوربدی کے رد و قبول کے قابل ہو یہ ملک جس کے دونوں بادشاہوں سے تجھ کو نفرت ہے ویران ہو جائیگا۔
17خداوند تجھ پر اورتیرے لو��وں اورتیرے باپ کےگھرانے پر ایسے دن لائیگا جیسے اُس دن سے جب افرائیم یہوادہ سے جُدا ہوا آج تک کبھی نہ لایا یعنی شاہ اسور کے دن۔
18اُس وقت یوں ہو گا کہ خداوند مصر کی نہروں کے اُس سرے سے مکھیوں کو اور اسور کے ملک سے زنبوروں کو سسکار کر بُلائیگا۔
19سو وہ سب آئینگے اور ویران وادیوں میں اور چٹانوں کی دراڑوں میں اور سب خارستانوں میں اور سب چراگاہوں میں چھا جائیں گے ۔
20اسی روز خداوند اس اُسترے سے جو دریایِ فرات کے پار سے کرایہ پر لیا یعنی اسور کے بادشاہ سے سر اور پاؤں کے بال مونڈیگا اور اس سے ڈاڑھی بھی کھرچی جائیگی۔
21اور اُسوقت ایساہو گا کہ آدمی صرف ایک گائے اوردو بھیڑیں پالیگا ۔
22اور ان کے دودھ کی فراوانی سے لوگ مکھن کھائینگے کیونکہ ہر ایک جو اُس ملک میں بچ رہیگا مکھن اورشہد ہی کھایا کرےگا۔
23اور اس وقت یہ حالت ہو جائیگی کہ ہر جگہ ہزاروں روپیہ کے تاکستانوں کی جگہ خار دار جھاڑیاں ہونگی۔
24لوگ تیر اور کمانیں لیکر وہاں آئینگے کیونکہ تمام ملک کانٹوں اور جھاڑیوں سے پُر ہو گا۔
25مگر ان سب پہاڑیوں پر جو کدالی سےکھودی جاتی تھیں جھاڑیوں اور کانٹوں کے خوف سے تو پھر نہ چڑھیگا لیکن وہ گائے بیل اوربھیڑ بکریوں کہ چراگاہ ہونگی۔