Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1عوضؔ کی سر زمین میں ایوب نام ایک شخص تھا ۔وہ شخص کامل اور راستباز تھا اور خدا سے ڈرتا اور ابدی سے دُور رہتا تھا ۔
2اُسکے ہاں سات بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہُوئیں ۔
3اُسکے پاس سات ہزار اُونٹ اور پانچسوجوڑی بیل اور پانچسو گدھیاں اور بہت سے نوکر چاکر تھے اَیسا کہ اہل مشرق میں وہ سب سے بڑا آدمی تھا ۔
4اُسکے بیٹے ایک دوسرے کے گھر جایا کرتے تھے اور ہر ایک اپنے دِن پر ضیافت کرتا تھا اور اپنے ساتھ کھا نے پینے کو اپنی تینوں بہنوں کو بلُوابھیجتے تھے ۔
5اور جب اُنکی ضیافت کے دن پُورے ہوجاتے تو ایوبؔ اُنہیں بُلوا کر پاک کرتا اور صُبح کو سویرے اُٹھکر اُن سبھوں کے شمار کے موافق سو ختنی قُربانیاں چڑھاتا تھا کیونکہ اُیوّب ؔ کہتا تھا کہ شاید میرے بیٹوں نے کچھ خطا کی ہو اور اپنے دِل میں خدا کی تکفیر کی ہو ۔ایوب ہمیشہ اَیسا ہی کیا کرتا تھا ۔
6اور ایک دن خدا کے بیٹے آئے کہ خداوند کے حضور حاضر ہوں اور اُن کے درمیان شیطان بھی آیا ۔
7اور خداوند نے شیطان سے پُوچھا کہ تو کہاں سے آتا ہے ؟ شیطان نے خداوند کو جواب دیا کہ زمین پر اِدھر اُدھر گھومتا پھر تا اور اُس میں سیر کرتا ہوا آیا ہُوں ۔
8خداوند نے شیطان سے کہا کیا تو نے میرے بندہ ایوب کے حال پر بھی کچھ غور کیا ؟ کیونکہ زمین پر اُسکی طرح کامل اور راستباز آدمی جو خدا سے ڈرتا اور بدی سے دُور رہتا ہو کوئی نہیں ۔
9شیطان نے خداوند کو جواب دیا کیا ایوب یوں ہی خدا سے ڈرتا ہے؟ ۔
10کیا ت تو نے اُسکے اور اُسکے گھر کے گرد اور جو کچھ اُسکا ہے اُس سب کے گردچاروں طرف باڑ نہیں بنائی ہے ۔تو نے اُسکے ہاتھ کے کام میں برکت بخشی ہے اور اُسکے گلے ملک میں بڑھ گئے ہیں ۔
11پر تو ذرا اپنا ہاتھ بڑھا کر جو کچھ اُسکا ہے اُسے چھُو ہی دے تو کیا وہ تیرے منہ پر تیری تکفیر نہ کریگا ؟۔
12خداوندنے شیطان سے کہا دیکھ اُسکا سب کچھ تیرے اِختیا ر میں ہے ۔صرف اُسکو ہاتھ نہ لگانا ۔تب شیطان خداوند کے سامنے سے چلا گیا۔
13اور ایک دن جب اُسکے بیٹے اور بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے گھر میں کھانا کھارہے اور مے نوشی کر رہے تھے ۔
14تو ایک قاصد نے ایوب ؔ کے پاس آکر بیل ہل میں جُتے تھے اور گدھے اُن کے پاس چر رہے تھے ۔
15کہ سباؔ کے لوگ اُن پر ٹوٹ پڑے اورُ انہیں لے گئے اور نوکروں کو تہ تیغ کیا اور فقط میں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبر دوں ۔
16وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اور بھی آکر کہنے لگا کہ خدا کی آگ آسمان سے نازل ہُوئی اور بھیڑوں اور نوکروں کو جلا کر بھسم کر دیا اور فقط میں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبردوُں ۔
17وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اور بھی آکر کہنے لگا کہ کسدی تین غول ہو کر اُنٹوں پر آگرے اور اُنہیں لے گئے اور نوکروں کو تہ تیغ کیا اور فقط میں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبردوُں ۔
18وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اور بھی آکر کہنے لگا کہ تیرے بیٹے بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے گ��ر میں کھانا کھا رہے اور مے نوشی کر رہے تھے ۔
19اور دیکھ !بیابان سے ایک بڑی آندھی چلی اور اُس گھر کے چاروں کونوں پر اَیسے زور سے ٹکرائی کہ وہ اُن جوانوں پر گر پڑا اور وہ مرگئے اور فقط میں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبردوُں ۔
20تب ایوب ؔ نے اُٹھکر اپنا پیراہن چاک کیا اور سرمُنڈایا اور زمین پر گر کر سجدہ کیا۔
21اور کہا ننگا میں اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا اور ننگا ہی واپس جاؤنگا ۔خداوند نے دِیا اور خداوند نے لے لیا ۔خداوند کا نام مبُارک ہو ۔
22اِن سب باتوں میں ایوب ؔ نے نہ تو گُناہ کیا اور نہ خدا پر بیجا کام کا عیب لگایا ۔