Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1تب ایوب نے جواب دیا:۔
2غور سے میری بات سُنو اور یہی تمہارا تسلی دینا ہو۔
3مجھے اِجازت دو تو میں بھی کچھ کہو نگا اور جب میں کہ چکوں تو ٹھٹھا مار لینا ۔
4لیکن میں ۔ کیا میری فریاد اِنسان سے ہے ؟پھر میں بے صبری کیوں نہ کُروں ؟
5مجھ پر غور کرو اور متُعجب ہو اور اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھو ۔
6جب میں یاد کرتا ہوں تو گھبراجاتا ہُوں اور میرا جسم تھرااُٹھتا ہے ۔
7شریر کیوں جیتے رہتے ۔ عمر رسیدہ ہوتے بلکہ قوت میں زبردست ہوتے ہیں ؟
8اُنکی اَولاد اُنکے دیکھتے دیکھتے اور اُنکی نسل اُنکی آنکھوں کے سامنے قائم ہوجاتی ہے ۔
9اُنکے گھر ڈر سے محفوظ ہیں اور خدا کی چھڑی اُن پر نہیں ہے۔
10اُنکا سانڈباردار کردیتا ہے اور چوکتا نہیں ۔اُنکی گائے بیاتی ہے اور اپنا بچہ نہیں گراتی ۔
11وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ریوڑ کی طرح باہر بھیجتے ہیں اور اُنکی اَولاد ناچتی ہے۔
12وہ خنجری اور ستارکے تال پر گاتے اور بانسلی کی آواز سے خوش ہوتے ہیں ۔
13وہ خوشحالی میں اپنے دِن کاٹتے اور دم کے دم میں پاتال میں اُتر جاتے ہیں ۔
14حالانکہ اُنہوں نے خدا سے کہا تھا کہ ہمارے پاس سے چلا جا ۔کیونکہ ہم تیری راہوں کی معرفت کے خواہاں نہیں ۔
15قادِر مطلق ہے کیا کہ ہم اُسکی عبادت کریں؟ اور اگر ہم اُس سے دُعا کریں تو ہمیں کیا فائدہ ہو گا؟
16دیکھو! اُنکی اقبالمندی اُنکے ہاتھ میں نہیں ہے۔شریروں کی مشورت مجھ سے دُور ہے۔
17کتنی بار شریروں کا چراغ بجھ جاتا ہے اور اُنکی آفت اُن پر آپڑتی ہے!اور خدا اپنے غضب میں اُنہیں غم پر غم دیتا ہے
18اور وہ اَیسے ہیں جیسے ہو اکے آگے ڈنٹھل اور جیسے بھوسا جسے آندھی اُڑ لے جاتی ہے ۔
19خدا اُسکی بدی اُسکے بچوں کے لئے رکھ چھوڑتا ہے۔وہ اُسکا بدلہ اُسی کو دے تا کہ وہ جان لے۔
20اُسکی ہلاکت کو اُسی کی آنکھیں دیکھیں اور وہ قادِرمطلق کے غضب میں سے پئے ۔
21کیونکہ اپنے بعد اُسکو اپنے گھرانے سے کیا خوشی ہے جب اُسکے مہینوں کا سلسلہ ہی کاٹ ڈالا گیا ؟
22کیا کوئی خدا کو علم سکھائیگا ؟جس حال کہ وہ سرفرازوں کی عدالت کرتا ہے ۔
23کوئی تو اپنی پُوری طاقت میں چین اور سُکھ سے رہتا ہُوا مرجاتا ہے۔
24اُسکی دوہنیاں دُودھ سے بھری ہیں اور اُسکی ہڈّیوں کا گودا تر ہے۔
25اور کوئی اپنے جی میں کڑھ کڑھکر مرتا ہے اور کبھی سُکھ نہیں پاتا ۔
26وہ دونوں مٹّی میں یکساں پڑجاتے ہیں اور کیڑے اُنہیں ڈھانک لیتے ہیں ۔
27دیکھو! میں تمہارے خیالوں کو جانتا ہُوں اور اُن منصوبوں کو بھی جو تم بے اِنصافی سے میرے خلاف باندھتے ہو
28کیونکہ تم کہتے ہو کہ اِمیر کا گھر کہاں رہا ؟ اور وہ خیمہ کہاں ��ے جس میں شریر بستے تھے ؟
29کیا تم نے راستہ چلنے والوں سے کبھی نہیں پُوچھا ؟اور اُنکے آثار نہیں پہچانتے؟
30کہ شریر آفت کے دِن کے لئے رکھا جاتا ہے اور غضب کے دِن تک پہنچایا جاتا ہے؟
31کون اُسکی راہ کو اُسکے منہ پر بیان کریگا؟ اور اُسکے کئے کا بدلہ کون اُسے دیگا ؟
32تو بھی وہ گور میں پہنچایا جائیگا اور اُسکی قبر پر پہرا دیا جائیگا۔
33وادی کے ڈھیلے اُسے مرغُوب ہیں اور سب لوگ اُسکے پیچھے چلے جائینگے ۔جیسے اُس سے پہلے بے شمار لوگ گئے ۔
34سو تم کیوں مجھے عبث تسلی دیتے ہو جس حال کہ تمہاری باتوں میں جھوٹ ہی جھوٹ ہے؟