Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
26 verses
1اِسکے بعد ایوبؔ نے اپنا مُنہ کھولکر اپنے جنم دِن پر لعنت کی ۔
2ایوبؔ کہنے لگا ۔
3نابُود ہو وہ دن جس میں مَیں پیدا ہُوا اور وہ رات بھی جس میں کہا گیا کہ دیکھو بیٹا ہُوا !
4وہ دن اندھیرا ہو جائے ۔خدا اُوپر سے اُسکا لحاظ نہ کرے اور نہ اُس پر روشنی پڑے !
5اندھیرا اور موت کا سایہ اُس پر قابض ہوں ۔بدلی اُس پر چھانی رہے اور دن کو تاریک کر دینے والی چیزیں اُسے دہشت زدہ کردیں ۔
6گہری تاریکی اُس رات کو دبوچ لے ۔وہ سال کے دِنوں کے درمیان خُوشی نہ کرنے پائے اور نہ مہینوں کے شمار میں آئے !
7وہ رات بانجھ ہو جائے ۔ اُس میں خوشی کی کوئی صدا نہ آئے !
8دِن پر لعنت کرنے والے اُس پر لعنت کریں اور وہ بھی جو اژدہا کو چھیڑنے کو تیار ہیں !
9اُسکی شام کے تارے تاریک ہو جائیں ۔وہ روشنی کی راہ دیکھے جبکہ وہ ہے نہیں اور نہ وہ صُبح کی پلکوں کو دیکھے !
10کیو نکہ اُس نے میری ماں کے رَحم کے دروازوں کو بند نہ کیا اور دُکھ کو میری آنکھوں سے چھپا نہ رکھاّ ۔
11میں رَحم ہی میں کیوں نہ مرگیا؟ میں نے پیٹ سے نکلتے ہی جان کیوں نہ دے دی ؟
12مُجھے قبول کرنے کو گھٹنے کیوں تھے اور چھاتیاں کہ میں اُن سے پُیوں ؟
13نہیں تو اِس وقت میں پڑا ہوتا اور بے خبر رہتا میں سو جاتا ۔ تب مُجھے آرام ملتا ۔
14زمین کے بادشاہوں اور مُشیروں کے ساتھ جنہوں نے اپنے لئے مقبرے بنائے ۔
15یا اُن شاہزادوں کے ساتھ ہو تا جنکے پاس سونا تھا۔جنہوں نے اپنے گھر چاندی سے بھر لئے تھے ۔
16یا پوشیدہ اسقاط حمل کی مانند میں وُجوُد میں نہ آتا یا اُن بچوّں کی مانند جنہوں نے روشنی ہی نہ دیکھی ۔
17وہاں شریر فساد سے باز آتے ہیں ۔ اور تھکے ماند راحت پاتے ہیں ۔
18وہاں قیدی ملکر آرام کرتے ہیں اور داروغہ کی آواز سُننے میں نہیں آتی ۔
19چھوٹے اور بڑے دونوں وہیں ہیں اور نوکر اپنے آقا سے آزاد ہے ۔
20دُکھیارے کو روشنی اور تلخ جان کو زندگی کیوں ملتی ہے ؟
21جو موت کی راہ دیکھتے ہیں پر وہ آتی نہیں اور چھپے خزانوں سے زیادہ اُسکے جویان ہیں ۔
22جو نہایت شادمان اور خوش ہوتے ہیں جب قبر کو پالیتے ہیں
23اَیسے آدمی کو روشنی کیوں ملتی ہے جسکی راہ چھپی ہے اور جسے خدا نے ہر طرف سے بند کردیا ہے؟
24کیو نکہ میرے کھانے کی جگہ میری آہیں ہیں اور میرا کراہتا پانی کی طرح جاری ہے۔
25کیونکہ جس بات سے میں ڈرتا ہوں وہی مجھ پر گذرتی ہے ۔
26کیونکہ مجھے نہ چین ہے نہ آرام نہ مجھے کل پڑتی ہے بلکہ مصیبت ہی آتی ہے۔