Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
17 verses
1تب ایوب ؔ نے خداوندکو یوں جواب دیا:۔
2میں جانتا ہُوں کہ تو سب کچھ کرسکتا ہے اور تیرا کوئی اِرادہ رُک نہیں سکتا ۔
3یہ کون ہے جو نادانی سے مصلحت پر پردہ ڈالتا ہے؟ لیکن میں نے جو نہ سمجھا وُہی کہایعنی اَیسی باتیں جو میرے لئے نہایت عجیب تھیں جنکو میں جانتا نہ تھا۔
4میں تیری منت کرتا ہوں سُن ۔میں کچھ کہونگا ۔میں تجھ سے سوال کرونگا ۔تو مجھے بتا۔
5میں نے تیری خبر کان سے سُنی تھے پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے
6اِسلئے مجھے اپنے آپ سے نفرت ہے اور میں خاک اور راکھ میں توبہ کرتا ہوں ۔
7اور اَیسا ہُوا کہ جب خداوند یہ باتیں ایوب ؔ سے کہہ چُکا تو اُس نے اِلیفزؔ تیمائی سے کہا کہ میرا غضب تجھ پر اور تیرے دونوں دوستوں پر بھڑکا ہے کیونکہ تم نے میری بابت وہ بات نہ کہی جو حق ہے جیسے میرے بندہ ایوبؔ نے کہی ۔
8پس اب اپنے لئے سات بیل اور سات مینڈھے لیکر میرے بندہ ایوب ؔ کے پاس جا ؤ اور اپنے لئے سوختنی قربانی گذرانو اور میرا بندہ ایوب ؔ تمہارے لئے دُعا کریگا کیونکہ اُسے تو میں قبول کرونگا تاکہ تمہاری جہالت کے مطابق تمہارے ساتھ سلوک نہ کروں کیونکہ تم نے میری بابت وہ بات کہی جو حق ہے جسے میرے بندہ ایوبؔ نے کہی ۔
9سو اِلیفزؔ تیمانی اور بلدسؔ سُوخی اور صُنوفرنعماتی نے جاکر جیسا خداوند نے اُنکو فرمایا تھا کیا اور خداوند نے ایوبؔ کو قبول کیا ۔
10اور خداوند نے ایوبؔ کی اسیری کو جب اُس نے اپنے دوستوں کے لئے دُعا کی بدل دیا اور خداوند نے ایوبؔ کو جتنا اُسکے پاس پہلے تھا اُسکا دوچند دیا۔
11تب اُسکے سب بھائی اور سب بہنیں اور اُسکے سب اگلے جان پہچان اُسکے پاس آئے اور اُسکے گھر میں اُسکے ساتھ کھانا کھایا اور اُس پر نَوحہ کیا اور اُن سب بلاؤں کے بارے میں جو خداوند نے اُس پر نازل کی تھیں اُسے تسلّی دی۔ہر شخص نے اُسے ایک سکّہ بھی دیا اور ہر ایک نے سونے کی ایک بالی ۔
12یوں خداوند نے ایوب کے آخری ایاّم میں اِبتدا کی نسبت زیادہ برکت بخشی اور اُس کے پاس چودہ ہزار بھیڑ بکریاں اور چھ ہزار اُونٹ اور ہزار جوڑی بیل اور ہزار گدھیاں ہوگئیں ۔
13اُسکے سات بیٹے اور تین بیٹیاں بھی ہُوئیں ۔
14اور اُس نے پہلی کا نام یمیمہ ؔ اور دوسری کانام قصیاہؔ اور تیسری کانام قرہُپّوکؔ رکھا ۔
15اور اُس ساری سرزمین میں اَیسی عورتیں کہیں نہ تھیں جو ایوبؔ کی بیٹیوں کی طرح خوبصورت ہوں اور اُنکے باپ نے اُنکو اُنکے بھائیوں کے درمیان میراث دی۔
16اور اِسکے بعد ایوبؔ ایک سوچالیس برس جیتارہا اور اپنے بیٹے اور پوتے چوتھی پُشت تک دیکھے۔
17اور ایوبؔ نے بُڈھا اور عمر رسیدہ ہو کر وفات پائی ۔