Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
29 verses
1تب ایوب نے جواب دیا:۔
2کاشکہ میرا کُڑھنا تولا جاتا اور میری ساری مصیبت ترازُو میں رکھی جاتی !
3تو وہ سمندر کی ریت سے بھی بھاری اُترتی ۔اِسی لئے میری باتیں نے تاملّی کی ہیں
4کیو نکہ قادِر مطلق کے تیر میرے اندر لگے ہُوئے ہیں ۔ میری رُوح اُن ہی کے زہر کو پی رہی ہے ۔خدا کی ڈراونی باتیں میرے خلاف صف باندھے ہُوئے ہیں۔
5کیا جنگلی گدھا اُس وقت بھی رینگتا ہے جب اُسے گھاس مل جاتی ہے؟ یا کیا بیل چارا پاکر ڈکارتا ہے؟
6کیا پھیکی چیز بے نمک کھائی جاسکتی ہے ؟ یا کیا انڈے کی سفیدی میں کوئی مزہ ہے؟
7میری رُوح کو اُنکے چھُونے سے بھی انکار ہے۔وہ میرے لئے مکُروہ غذا ہیں ۔
8کاش کہ میری درخواست منظورہوتی اور خدا مجھے وہ چیز بخشتا جسکی مجھے آرزو ہے!
9یعنی خدا کو یہی منظور ہوتا کہ مجھے کُچل ڈالے اور اپنا ہاتھ چلا کر مجھے کاٹ ڈالے !تو مجھے تسلّی ہوتی بلکہ میں نے اُس اٹل درد میں بھی شادمان رہتا کیو نکہ میں نے اُس قُدُّوس کی باتوں کا اِنکار نہیں کیا ۔
11میری طاقت ہی کیا ہے جو میں ٹھہرا رہوُں ؟ اور میرا انجام ہی کیا ہے جو میں صبر کُروں ؟
12کیا میری طاقت پتھروں کی طاقت ہے ؟یا میرا جسم پیتل کا ہے؟
13کیا بات یہی نہیں کہ میں بے بس ہُوں اور کام کرنے کی قُوت مجھ سے جاتی رہی ہے؟
14اُس پر جو بے دِل ہونے کو ہے اُسکے دوست کی طرف سے مہربانی ہونی چاہئے بلکہ اُس پر بھی جو قادِر مطلق کا خوف چھوڑ دیتا ہے ۔
15میرے بھائیوں نے نالے کی طرح دغا کی ۔ اُن وادِیوں کے نالوں کی طرح جو سوکھ جاتے ہیں ۔
16جو یخ کے سبب سے کالے ہیں اور جن میں برف چھپی ہے۔
17جس وقت وہ گرم ہوتے ہیں تو غائب ہوجاتے ہیں اور جب گرمی پڑتی ہے تو اپنی جگہ سے اُڑجاتے ہیں ۔
18قافلے اپنے راستہ سے مُڑ جاتے ہیں اور بیابان میں جاکر ہلاک ہوجاتے ہیں ۔
19تیماؔ کے قافلے دیکھتے رہے ۔سباؔ کے کاروان اُنکے اِنتظار میں رہے ۔
20وہ شر مندہ ہُوئے کیونکہ اُنہوں نے اُمید کی تھی ۔ وہ وہا ں آئے اور پشیمان ہوئے ۔
21سو تمہاری بھی کوئی حقیقت نہیں ۔تم ڈراونی چیز دیکھکر ڈر جاتے ہو۔
22کیا میں نے کہا کچھ مجھے دو؟ یا اپنے مال میں میرے لئے رِشوت دو؟
23یا مخالف کے ہاتھ سے مجھے بچاؤ؟یا ظالموں کے ہاتھ سے مجھے چھُڑاؤ ؟
24مجھے سمجھاؤ اور میں خاموش رہونگا اور مجھے سمجھاؤ کہ میں کس با ت میں چُوکا ۔
25راستی کی باتیں کیسی مُوثر ہوتی ہیں !پر تمہاری دلیل کس بات کی تردید کرتی ہے؟
26کیا تم اِس خیال میں ہو کہ لفظوں کی تردید کرو؟ اِس لئے کہ مایوس کی باتیں ہوا کی طرح ہوتی ہیں ۔
27ہاں تم تو یتیموں پر قرعہ ڈالنے والے اور اپنے دوست کو سوداگری کا مال بنانے والے ہو ۔
28اِس لئے ذرا میری طرف نگاہ کروکیو نکہ تمہارے منہ پر میں ہر گز جھوٹ نہ بولُونگا ۔
29میں تمہاری منّت کرتا ہوں ۔باز آؤ ۔ بے انصافی نہ کرو ۔ہاں با ز آؤ۔ میں حق پر ہوں ۔
30کیا میری زبان پر بے انصافی ہے ؟ کیا فتنہ انگیز ی کی باتوں کے پہچاننے کا مجھے شعور نہیں ؟