Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
57 verses
1مریم اور اُس کی بہن مرتھا کے گاؤں بیت عَِنیّاہ کا لعزر نام ایک آدمِی بِیمار تھا۔
2یہ وُہی مریم تھی جِس نے خُداوند پر عِطر ڈال کر اپنے بالوں سے اُس کے پاؤں پونچھے۔ اِسی کا بھائِی لعزر بِیمار تھا۔
3پَس اُس کی بہنوں نے اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند دیکھ جِسے تُو عِزیز رکھتا ہے وہ بِیمار ہے۔
4یِسُوع نے سُن کر کہا کہ یہ بِیماری مَوت کی نہِیں بلکہ خُدا کے جلال کے لِئے ہے تا کہ اُس کے وسِیلہ سے خُدا کے بَیٹے کا جلال ظاہِر ہو۔
5اور یِسُوع مرتھا اور اُس کی بہن اور لعزر سے محبّت رکھتا تھا۔
6پَس جب اُس نے سُنا کہ وہ بِیمار ہے تو جِس جگہ تھا وَہیں دو دِن اَور رہا۔
7پِھر اُس کے بعد شاگِردوں سے کہا آؤ پِھر یہُودیہ کو چلیں۔
8شاگِردوں نے اُس سے کہا اَے ربّی!ابھی تو یہُودی تُجھے سنگسار کرنا چاہتے تھے اور تُو پِھر وہاں جاتا ہے؟۔
9یِسُوع نے جواب دِیا کیا دِن کے بارہ گھنٹے نہِیں ہوتے؟اگر کوئی دِن کو چلے تو ٹھوکر نہِیں کھاتا کِیُونکہ وہ دُنیا کی روشنی دیکھتا ہے۔
10لیکِن اگر کوئی رات کو چلے تو ٹھوکر کھاتا ہے کِیُونکہ اُس میں روشنی نہِیں۔
11اُس نے یہ باتیں کِہیں اور اِس کے بعد اُن سے کہنے لگا کہ ہمارا دوست لعزر سوگیا ہے لیکِن مَیں اُسے جگانے جاتا ہُوں۔
12پَس شاگِردوں نے اُس سے کہا اَے خُداوند!اگر سوگیا ہے تو بچ جائے گا۔
13یِسُوع نے تو اُس کی مَوت کی بابت کہا تھا مگر وہ سَمَجھے کہ آرام کی نِیند کی بابت کہا۔
14تب یِسُوع نے اُن سے صاف کہہ دِیا کہ لعزر مرگیا۔
15اور مَیں تُمہارے سبب سے خُوش ہُوں کہ وہاں نہ تھا تاکہ تُم اِیمان لاؤ لیکِن آؤ ہم اُس کے پاس چلیں۔
16پَس توما نے جِسے توام کہتے تھے اپنے ساتھ کے شاگِردوں سے کہا کہ آؤ ہم بھی چلیں تاکہ اُس کے ساتھ مریں۔
17پَس یِسُوع کو آ کر معلُوم ہُؤا کہ اُسے قَبر میں رکھّے چار دِن ہُوئے۔
18بیت عَِنیّاہ یروشیلم کے نزدِیک قرِیبا دو سِیل کے فاصِلہ پر تھا۔
19اور بہُت سے یہُودی مرتھا اور مریم کو اُن کے بھائِی کے بارے میں تسلّی دینے آئے تھے۔
20پَس مرتھا یِسُوع کے آنے کی خَبر سُن کر اُس سے مِلنے کو گئی لیکِن مریم گھر میں بَیٹھی رہی۔
21مرتھا نے یِسُوع سے کہا اَے خُداوند!اگر تو یہاں ہوتا تو میرا بھائِی نہ مرتا۔
22اور اَب بھی مَیں جانتی ہُوں کہ جو کُچھ تُو خُدا سے مانگے گا وہ تُجھے دے گا۔
23یِسُوع نے اُس سے کہا تیرا بھائِی جی اُٹھے گا۔
24مرتھا نے اُس سے کہا مَیں جانتی ہُوں کہ قِیامت میں آخِری دِن جی اُٹھے گا۔
25یِسُوع نے اُس سے کہا قِیامت اور زِندگی تو مَیں ہُوں۔ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تُو بھی زِندہ رہے گا۔
26اور جو کوئی زِندہ ہے اور مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔ کیا تُو اِس پر اِیمان رکھتی ہے؟۔
27اُس نے اُس سے کہا ہاں اَے خُداوند مَیں اِیمان لاچُکی ہُوں کہ خُدا کا بَیٹا مسِیح جو دُنیا میں آنے والا تھا تُو ہی ہے۔
28یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور چُپکے سے اپنی بہن مریم کو بُلا کر کہا کہ اُستاد یہِیں ہے اور تُجھے بُلاتا ہے۔
29وہ سُنتے ہی جلد اُٹھ کر اُس کے پاس آئی۔
30(یِسُوع ابھی گاؤں میں نہِیں پُہنچا تھا بلکہ اُسی جگہ تھا جہاں مرتھا اُس سے مِلی تھی)۔
31پَس جو یہُودی گھر میں اُس کے پاس تھے اور اُسے تسلّی دے رہے تھے یہ دیکھ کر مریم جلد اُٹھ کر باہِر گئی۔ اِس خیال سے اُس کے پِیچھے ہولِئے کہ وہ قَبر پر رونے جاتی ہے۔
32جب مریم اُس جگہ پہُنچی جہاں یِسُوع تھا اور اُسے دیکھا تو اُس کے قدموں پر گِر کر اُس سے کہا اَے خُداوند اگر تُو یہاں ہوتا تا میرا بھائِی نہ مرتا۔
33جب یِسُوع نے اُسے اور اُن یہُودِیوں کو جو اُس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو دِل میں نِہایت رنجِیدہ ہُؤا اور گھبرا کر کہا۔
34تُم نے اُسے کہاں رکھّا ہے؟اُنہوں نے کہا اَے خُداوند!چل کر دیکھ لے۔
35یِسُوع کے آنسو بہنے لگے۔
36پَس یہُودِیوں نے کہا دیکھو وہ اُس کو کیَسا عزِیز تھا۔
37لیکِن اُن میں سے بعض نے کہا کیا یہ شَخص جِس نے اَندھے کی آنکھیں کھولیں اِتنا نہ کرسکا کہ یہ آدمِی نہ مرتا؟۔
38یِسُوع پِھر اپنے دِل میں نِہایت رنجِیدہ ہوکر قَبر پر آیا۔ وہ ایک غار تھا اور اُس پر پتھّر دھرا تھا۔
39یِسُوع نے کہا پتھّر کو ہٹاو۔ اُس مرے ہُوئے شَخص کی بہن مرتھا نے اُس سے کہا۔ اَے خُداوند!اُس میں سے تو اَب بدبُو آتی ہے کِیُونکہ اُسے چار دِن ہوگئے۔
40یِسُوع نے اُس سے کہا کیا مَیں نے تُجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تُو اِیمان لائے گی تو خُدا کا جلال دیکھے گی؟۔
41پَس اُنہوں نے اُس پتھّر کو ہٹادِیا۔ پِھر یِسُوع نے آنکھیں اُٹھا کر کہا اَے باپ مَیں تیرا شُکر کرتا ہُوں کہ تُو نے میری سُن لی۔
42اور مُجھے تو معلُوم تھا کہ تُو ہمیشہ میری سُنتا ہے مگر اِن لوگوں کے باعِث جو آس پاس کھٹرے ہیں مَیں نے یہ کہا تاکہ وہ اِیمان لائیں کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا ہے۔
43اور یہ کہہ کر اُس نے بُلند آواز سے پُکارا کہ اَے لعزر نِکل آ۔
44جو مرگیا تھا وہ کَفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہُوئے نِکل آیا اور اُس کا چِہرہ روُمال سے لِپٹا ہُؤا تھا۔ یِسُوع نے اُن سے کہا اُسے کھول کر جانے دو۔
45پَس بہُتیرے یہُودی جو مریم کے پاس آئے تھے اور جنِہوں نے یِسُوع کا یہ کام دیکھا اُس پر اِیمان لائے۔
46مگر اُن میں سے بعض نے فرِیسِیوں کے پاس جا کر اُنہِیں یِسُوع کے کاموں کی خَبر دی۔
47پَس سَردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے صررِ عدالت کے لوگوں کو جمع کر کے کہا ہم کرتے کیا ہیں؟یہ آدمِی تو بہُت مُعجِزے دِکھاتا ہے۔
48اگر ہم اُسے یُوں ہی چھوڑ دیں تو سب اُس پر اِیمان لے آئیں گے اور روُمی آ کر ہماری جگہ اور قَوم دونوں پر قبضہ کرلیں گے۔
49اور اُن میں سے کالِفا نام ایک شَخص نے جو اُس سال سَردار کاہِن تھا اُن سے کہا تُم کُچھ نہِیں جانتے۔
50اور نہ سوچتے ہوکہ تُمہارے لِئے یہی بہُتر ہے کہ ایک آدمِی اُمّت کے واسطے مرے نہ کہ ساری قَوم ہلاک ہو۔
51مگر اُس نے یہ اپنی طرف سے نہِیں کہا بلکہ اُس سال سَردار کاہِن ہوکر نبُّوت کی کہ یِسُوع اُس قَوم کے واسطے مرے گا۔
52اور نہ صِرف اُس قَوم کے واسطے بلکہ اِس واسطے بھی کہ خُدا کے پراگندہ فرزندوں کو جمع کر کے ایک کر دے۔
53پَس وہ اُسی روز سے اُسے قتل کرنے کا مَشوَرَہ کرنے لگے۔
54پَس اُس وقت سے یِسُوع یہُودِیوں میں علانِیہ نہِیں پِھرا بلکہ وہاں سے جنگل کے نزدِیک کے علاقہ میں افرائیم نام ایک شہر کو چلا گیا اور اپنے شاگِردوں کے ساتھ وَہیں رہنے لگا۔
55اور یہُودِیوں کی عِیدِ فسح نزدِیک تھی اور بہُت لوگ فسح سے دیہات سے یروشلِیم کو گنے تاکہ اپنے آپ کو پاک کریں۔
56وہ یِسُوع کو ڈھونڈنے اور ہیَکل میں کھڑے ہوکر آپس میں کہنے لگے کہ تُمہارا کیا خیال ہے؟ کیا وہ عِید میں نہِیں آئے گا؟۔
57اور سَردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے حُکم دے رکھّا تھا کہ اگر کِسی کو معلُوم ہوکہ وہ کہاں ہے تو اِطلاع دے تاکہ اُسے پکڑلیں۔