Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
54 verses
1پھر جب خُداوند کو معلوم ہوا کہ فریسیوں نے سُنا ہے کہ یسوع یوحنا سے زیادہ شاگرد کرتا اور بپتسمہ دیتا ہے۔ْ
2(گو یسوع آپ نہیں بلکہ اُس کے شاگرد بپتسمہ دیتے تھے)۔ْ
3تو وہ یہودیہ کو چھوڑ کر پھر گلیل کو چلا گیا۔ْ
4اور اُس کو سامریہ سے ہو کر جاناضرور تھا۔
5پس وہ سامریہ کے ایک شہر تک آیا جو سوخار کہلاتا ہے۔ وہ اُس قطہ کے نزدیک ہے جو یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دِیا تھا۔ْ
6اور یعقوب کا کواں وہیں تھا۔ چنانچہ یسوع سفر سے تھکاماندہ ہو کر اُس کوئیں پر یونہی بیٹھ گیا۔ یہ چھٹے گھنٹے کے قریب تھا۔ْ
7سامریہ کی ایک عورت پانی بھرنے آئی۔ یسوع نے اُس سے کہا مجھے پانی پِلا۔ْ
8کیونکہ اُس کے شاگرد شہر میں کھانا مول لینے کو گئے تھے۔ْ
9اُس سامری عورت نے اُس سے کہا کہ تُو یہودی ہو کر مجھ سامری عورت سے پانی کیوں مانگتا ہے؟(کیونکہ یہودی سامریوں سے کسی طرح کا برتاؤ نہیں رکھتے)۔ْ
10یسوع نے جواب میں اُس سے کہا اگر تُو خُدا کی بخشش کو جانتی اور یہ بھی جانتی کہ وہ کون ہے جو تجھ سے کہتا ہے مجھے پانی پِلا تو تُو اُس سے مانگتی اور وہ تجھے زندگی کا پانی دیتا۔ْ
11عورت نے اُس سے کہا اے خُداوند تیرے پاس پانی بھرنے کو تو کچھ ہے نہیں اور کُواں گہرا ہے۔ پھر وہ زندگی کا پانی تیرے پاس کہاں سے آیا ؟۔ْ
12کیا تُو ہمارے باپ یعقوب سے بڑا ہے جس نے ہم کو یہ کُواں دیا اور خود اُس نے اور اُس کے بیٹوں نے اور اُس کے مویشی نے اُس میں سے پیا؟۔ْ
13یسوع نے جواب میں اُس سے کہا جو کوئی اِس پانی میں سے پیتا ہے وہ پھر پیاسا ہو گا۔ْ
14مگر جو کوئی اُس پانی میں سے پیئے گا جو میں اُسے دونگا وہ ابد تک پیاسا نہ ہوگا بلکہ جو پانی میں اُسے دونگا وہ اُس میں ایک چشمہ بن جائیگا جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے جاری رہیگا۔ْ
15عورت نے اُس سے کہا اے خُداوند وہ پانی مجھ کو دے تاکہ میں نہ پیاسی ہوں نہ پانی بھرنے کو یہاں تک آؤں۔ْ
16یسوع نے اُس سے کہا جا اپنے شوہر کو یہاں بُلا لا۔ْ
17عورت نے جواب میں اُس سے کہا میں بے شوہر ہوں۔ یسوع نے اُس سے کہا تُونے خوب کہا کہ میں بے شوہر ہو۔ْ
18کیونکہ تُو پانچ شوہر کر چُکی ہے اور جس کے پاس تُو پانچ شوہر کر چُکی ہے اور جس کے پاس تُواب ہے وہ تیرا شوہر نہیں یہ تُو نے سچ کہا۔ْ
19عورت نے اُس سے کہا اے خُداوند مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تُو نبی ہے۔ْ
20ہمارے باپ دادا نے اِس پہاڑ پر پرستش کی اور تم کہتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستش کرنا چاہیے یروشلم میں ہے۔ْ
21یسوع نے اُس سے کہا اے عورت ! میری بات کا یقین کر کہ وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ تو اِس پہاڑ پر باپ کی پرستش کروگے اور نہ یروشلم میں۔ْتم جسے نہیں جانتے اُس کی پرستش کرتے ہو۔
22ہم جسے جانتے ہیں اُس کی پرستش کرتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں میں سے ہے۔ْ
23مگر وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچے پرستار باپ کی پرستش رُوح اور سچائی سے کرینگے کیونکہ باپ اپنے لئے ایسے ہی پرستار ڈھونڈتا ہے۔ْ
24خُدا رُوح ہے اور ضرور ہے کہ اُس پرستاررُوح اور سچائی سے پرستش کریں۔ْ
25عورت نے اُس سے کہا میں جانتی ہوں کہ مسیح جو خرِستُس کہلاتا ہے آنے والا ہے۔ جب وہ آئیگا تو ہمیں سب باتیں بتادیگا۔ْ
26یسوع نے اُس سے کہا میں جو تُجھ سے بول رہا ہوں وہی ہوں۔ْ
27اتنے می�� اُس کے شاگرد آگئے اور تعجب کرنے لگے کہ وہ عورت سے باتیں کررہا ہے تو بھی کسی نے نہ کہاکہ تو کیا چاہتا ہے؟ تا اُس سے کس لئے باتیں کرتا ہے؟۔ْ
28پس عورت اپنا کھڑا چھوڑ کر شہر میں چلی گئیں اور لوگوں سے کہنے لگی۔ْ
29آؤ،ایک آدمی کو دیکھو جس نے میرے سب کام مجھے بتا دِئے ۔ کیا مُمکن ہے کہ مسیح یہ ہے؟۔ْ
30وہ شہر سے نکل کر اُس کے پاس آنے لگے۔ْ
31اِنتے میں اُس کے شاگرد اُس سے یہ درخواست کرنے لگے کہ اے رّبی! کچھ کھالے۔ْ
32لیکن اُس نے اُن سے کہا میرے پاس کھناے کے لیے ایساکھانا ہے جسے تم نہیں جانتے۔
33پس شاگردوں نے آپ میں کہا کیا کوئی اُس کے لئے کچھ کھانے کو لایا ہے؟۔ْ
34یسوع نے اُن سے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔ْ
35کیا تم کہتے نہیں کہ فصل کے آنے میں ابھی چار مہینے باقی ہیں۔ْ دیکھو میں تم سے کہتا ہوں اپنی آنکھیں اُٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو کہ فصل پگ گئی ہے۔
36اور کاٹنے والا مزدوری پاتا اور ہمیشہ کی زندگی کے لئے پھل جمع کرتا ہے تا کہ بونے والا اور کاٹنے والا دونوں ملکر خوشی کریں۔ْ
37کیونکہ اِس پر یہ مثل ٹھیک آتی ہے کہ بونے والا اور ہے ۔کاٹنے والا اور۔
38میں نے تمہیں وہ کھیت کاٹنے کے لئے بھیجا جس پر تم نے محنت نہیں کی۔ اوروں نے محنت کی اور تم اُنکی محنت کے پھل میں شریک ہوئے۔ْ
39اور اُس شہر کے بہت سے سامری اُس عورت کے کہنے سے جس نے گواہی دی کہ اُس نے میرے سب کام مجھے بتا دِئے اُس پر ایمان لائے۔ْ
40پس جب وہ سامری اُس کے پاس آئے تو اُس سے درخواست کرنے لگے کہ ہماری پاس رہ چنانچہ وہ دو روز وہاں رہا۔ْ
41اور اُس کے کلام کے سبب سے اور بھی بہتیرے ایمان لائے۔ْ
42اور اُس عورت سے کہا اب ہم تیرے کہنے ہی سے ایمان نہیں لاتے کیونکہ ہم نے خود سُن لیا اور جانتے ہیں کہ یہ فی الحقیقت دُنیا کا مُنجی ہے۔ْ
43پھر اُن دودِنوں کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہو کر گلیل کو گیا۔ْ
44کیونکہ یسوع نے خود گواہی دی کہ نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا۔ْ
45پس جب وہ گلیل میں آیا تو گلیلیوں نے اُسے قبول کیا۔ اِس لئے کہ جتنے کام اُس نے یروشلم میں عید کے وقت کئے تھے اُنہوں نے اُن کو دیکھا کیونکہ وہ بھی عید میں گئے تھے۔ْ
46پس وہ پھر قانایِ گلیل میں آیا جہاں اُس نے پانی کو مےَ بنایا تھا اور بادشاہ کا ایک مُلازم تھا جسکا بیٹا کفر نحوم میں بیمار تھا۔ْ
47وہ یہ سُن کر کہ یسوع یہودیہ سے گلیل میں آگیا ہے اُس کے پاس گیا اور اُس سے درخواست کرنے لگا کہ چل کر میرے بیٹے کو شفا بخش کیونکہ وہ مرنے کو تھا۔ْ
48یسوع نے اُس سے کہا جب تک تُم نشان اور عجیب کام نہ دیکھو ہرگز ایمان نہ لاؤگے۔ْ
49بادشاہ کے مُلازم نے اُس سے کہا اَے خُداوند میرے بچہ کے مرنے سے پہلے چل ۔ْ
50یسوع نے اُس سے کہاجاتیرا بیٹا جِیتا ہے۔ اُس شخص نے اُس بات کا یقین کیا جو یسوع نے اُس سے کہی اور چلا گیا۔ْ
51وہ راستہ ہی میں تھا کہ اُس کے نوکر اُسے ملے اور کہنے لگے کہ تیرا بیٹا جِیتا ہے۔
52اُس نے اُن سے پُوچھا کہ اُسے کس وقت سے آرام ہونے لگا تھا؟ اُنہوں نے کہا کہ کل ساتویں گھنٹے میں اُس کی تپ اُتر گئی۔ْ
53پس باپ جان گیا کہ وہی وقت تھا جب یسوع نے اُس سے کہا تھا تیرا بیٹا جِیتا ہے اور وہ خود اور اُس کا سارا گھرانا ایمان لایا۔ْ
54یہ دوسرا معجزہ ہے جو یسوع نے یہودیہ سے گلیل میں آکر دِکھایا۔ْ