Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
55 verses
1اور خداوند نے کوہ سینا پر موسی سے کہا کہ ۔
2بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب تم اس ملک میں جو میں تمکو دیتا ہوں داخل ہو جاؤ تو اسکی زمین بھی خداوند کے لئے سبت کو مانے۔
3تو اپنے کھیت کو چھ برس بونا اور اپنے انگورستان کو چھ برس چھانٹنا اور اسکا پھل جمع کرنا۔
4لیکن ساتویں سال زمین کے لئے خاص آرام کا سبت ہو۔یہ سبت خداوند کے لئے ہو۔اس میں تو نہ اپنے کھیت کو بونا اور نہ اپنے انگوستان کو چھانٹنا۔
5اور نہ اپنی خودرد فصل کو کاٹنا اور نہ اپنی بے چھٹی تاکوں کے انگوروں کو توڑنا۔یہزمین کے لئے خاص آرام کا سال ہو۔
6اور زمین کا یہ سبت تیرے اور تیرے غلاموں اور تیری لونڈیوں اور مزدوروں اور ان پردیسیوں کے لئے جو تیرے ساتھ رہتے ہیں تمہاری خوراک کا باعث ہوگا۔
7اور اسکی ساری پیدوار تیرے چوپایوں اور تیرے ملک کے اور جانوروں کے لئے خوش ٹھہریگی۔
8اور تو برسوں کے سات سبتوں کو یعنی سات گنا سات سال گن لینا اور تیرے حساب سے برسوں کے سات سبتوں کی مدت کل انچاس سال ہونگے۔
9تب تو ساتویں مہینے کی دس کو بڑا نرسنگا سے پھنکوانا۔تم کفارہ کے روز اپنے سارے ملک میں یہ نرسنگا پھنکوانا۔
10اور تم پچاسویں برس مقدس جاننا اور تمام ملک میں سے باشندوں کے لئے آزادی کی منادی کرانا۔یہ تمہارے لئے یوبلی ہو۔اس میں تم میں سے ہر ایک اپنی ملکیت کا مالک ہو اور ہرشخص اپنے خاندان میں پھر شامل ہو جائے۔
11وہ پچاسواںبرس تمہارے لئے یوبلی ہو۔تم اس میں کچھ نہ بونا اور نہ اسے جو اپنے آپ پیدا ہو جائےکاٹنا اور نہ بے چھڑی تاکوں کا انگورجمع کرنا۔
12کیونکہ وہ سال یوبلی ہوگا۔سو وہ تمہارے لئے مقدس ٹھہرے۔تم اسکی پیداوار کو کھیت سے لے لیکر کھانا۔
13اس سال یوبلی میں میں تم میں سے ہر ایک اپنی ملکیت کا پھر مالک ہو جائے۔
14اور اگر تو اپنے ہمسایہ کے ساتھ کچھ بیچے یا اپنے ہمسایہ سے کچھ خریدے تو تم ایک دوسرے پر اندھیرے نہ کرنا۔
15یوبلی کے بعد جتنے برس گذرے ہوں انکے شمار کے موافق تو اپنے ہمسایہ سے اسے خریدنا اور وہ اسے فصل کے برسوں کے شمار کے مطابق تیرے ہاتھ بیچے۔
16جتنے زیادہ برس ہوں اتنا ہی دام زیادہ کرنا اور جتنے کم برس ہوں اتنی ہی اسکی قیمت گھٹانا کیونکہ برسوں کے شمار کے موافق وہ انکی فصل تیرے ہاتھ بیچتا ہے۔
17اور تم ایک دوسرے پر اندھیرنہ کرنا بلکہ تو اپنے خدا سے ڈرتے رہنا کیونکہ میں خداوند تمہارا ہوں۔
18سو تم میری شریعت پر عمل کرنا اور میرے حکموں کو ماننا اور ان پر چلنا تو تم اس ملک میں امن کے ساتھ بسے ہوگے۔
19اور زمین پھلیگی اور تم پیٹ بھر کر کھاؤگے اور وہاں امن کے ساتھ رہا کروگے۔
20اور اگر تمکو خیال ہو کہ ہم ساتویں برس کیا کھائینگے؟کیونکہ دیکھو ہمکو نہ تو بونا ہے اور نہ اپنی پیداوار کو جمع کرنا ہے۔
21تو میں چھٹے ہی برس ایسی برکت تم پر نازل کرونگا کہ تینوں سال کے لئے کافی غلہ پیدا ہو جایئگا۔
22اور آٹھویںبرس پھر جوتنا بونا اور پچھلا غلہ کھاتے رہنا بلکہ جب تک نویں سال کے بوئے ہوئے کی فصل نہ کاٹ لو اس وقت تک وہی پچھلا غلہ کھاتے رہوگے۔
23اور زمین ہمیشہ کے لئے بیچی نہ جائے کیونکہ زمین میری ہے اور تم میرے مسافر اور مہمان ہو۔
24بلکہ تم اپنی ملکیت کے ملک میں ہر جگہ زمین کو چھڑا لینے دینا۔
25اور اگر تمہارا بھائی مفلس ہو جائے اور اپنی ملکیت کا کچھ حصہ بیچ ڈالے تو جو اسکا سب سے قریبی رشتہ دار ہے وہ آکر اسکو جسے اسکے بھائی نے بیچ ڈالا ہے چھڑا لے۔
26اور اگر اس آدمی کا کوئی نہ ہو جو اسے چھڑائے اور وہ خود مالدار ہو جائے اور اسکے چھڑانے کے لئے اسکے پاس کافی ہو۔
27تو وہ فروخت کے بعد کے برسوں کو لنگر باقی دام اسکو جسکے ہاتھ زمین بیچی ہے پھیردے۔تب وہ پھر اپنی ملکیت کا مالک ہو جائے۔
28لیکن اگر اس میں اتنا مقدورنہ ہو کہ اپنی زمین واپس کرالے تو جو کچھ اسس نے بیچ ڈالا ہے وہ سال یوبلی تک خریدار کے ہاتھ میں رہے اور سال یوبلی میں چھوٹ جائے۔تب یہ آدمی اپنی ملکیت کا پھر مالک ہو جائے۔
29اور اگر کوئی شخص رہنے کے ایسے مکان کو بیچے جو کسی فصیل دار شہر میں ہو تو وہ اسکے بک جانے کے بعد سال بھر کے اندر اندر اسے چھڑا سکیگا یعنی پورے ایک سال تک وہ اسے چھڑانے کا حقدار رہیگا۔
30اور اگر وہ پورا ایک سال کی میعاد کے اندر چھڑایا نہ جائے تو اس فصیل دار شہر کے مکان پر خریدار کا نسل در نسل دائمہ قبضہ ہو جائے اور وہ سال یوبلی میں بھی نہ چھوٹے۔
31لیکن جن دیہات کے گرد کوئی فصیل نہیں ان کے مکانوں کا حساب ملک کے کھیتوں کی طرح ہوگا۔وہ چھڑائے بھی جا سکینگے اور سال یوبلی میں وہ چھوٹ بھی جایئنگے۔
32تو بھی لاویوں کے جو شہر ہیں لاوی اپنی ملکیت کے شہروں کے مکانوں کو چاہے کسی وقت چھڑالیں۔
33اور اگر کوئی دوسرا لاوی انکو چھڑا لے تو وہ مکان جو بیچا گیا اورع اسکی ملکیت کا شہر دونوں سال یوبلی میں چھوٹ جائیں کیونکہ جو مکان لاویوں کے شہروں میں ہیں وہی بنی اسرائیل کے درمیان لاویوں کی ملکیت ہیں۔
34پر انکے شہروں کی نواحی کے کھیت نہیں بک سکتے کیونکہ وہ انکی دائمی ملکیت ہیں۔
35اور اگر تیرا کوئی بھائی مفلس ہو جائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو تو اسے سنبھالنا۔وہ پردیسی اور مسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے۔
36تو اس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے۔
37تو اپنا روپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا۔
38میں خداوند تمہارا خدا ہوں جو تمکو اسی لئے ملک مصر سے نکالکر لایا کہ ملک کنعان تمکو دوں اور تمہارا خدا ٹھہروں۔
39اور اگر تیرا کوئی بھائی تیرے سامنے ایسا مفلس ہو جائے کہ اپنے کو تیرے ہاتھ بیچ ڈالے تو تو اس سے غلام کی مانند خدمت نہ لینا۔
40بلکہ وہ مزدور اور مسافر کی مانند تیرے ساتھ رہے اور سال یوبلی تک تیری خدمت کرے۔
41اسکے بعد وہبال بچوں سمیت تیرے پاسسے چلا جائے اور اپنے گھرانے کے پاس اور اپنے باپ دادا کی ملکیت کی جگہ کو لوٹ جائے۔
42اسلئے کہ وہ میرے خادم ہیں جنکو میں ملک مصر سے نکالکر لایا ہوں۔وہ غلاموں کی طرح بیچے نہ جائیں۔
43تو ان پر سختی سے حکمرانی نہ کرنا بلکہ اپنے خدا سے ڈرتے رہنا۔
44اور تیرے جو غلام اور تیری جو لونڈیاں ہوں وہ ان قوموں میں سے ہوں جو تمہارے چوگرد رہتی ہیں۔ان ہی میں سے تم غلام اور لونڈیاں خریدا کرنا۔
45ماسوا انکے ان پردیسیوں کے لڑکے بالوں میں سے بھی جو تم میں بودباش کرتے ہیں اور انکے گھرانوں میں سے جو تمہارے ملک میں پیدا ہوئے اور تمہارے ساتھ ہیں تم خریدا کرنا اور وہ تمہاری ہی ملکیت ہونگے۔
46اور تم انکو میراث کے طور پر اپنی اولاد کے نام کردینا کہ وہ انکی موروثی ملکیت ہوں۔ان میں سے تم ہمیشہ اپنے لئے غلام لیاکرنا لیکن بنی اسائیل جو تمہارے بھائی ہیں ان میں سے کسی پر تم سختی سے حکمرانی نہ کرنا۔
47اور اگر کوئی پردیسی یا مسافر جو تیرے ساتھ ہو دولتمند ہو جائے اور تیرا بھائی اسکے سامنے مفلس ہو کر اپنے آپ کو اس پردیسی یا مسافر یا پردیسی کے خاندان کے کسی آدمی کے ہاتھ بیچ ڈالے۔
48تو بک جانے کے بعد وہ چھڑایا جا سکتا ہے۔اسکے بھایئوں میں سے کوئی اسے چھڑا سکتا ہے۔
49یا اسکا چچا یا تاؤ یا اسکے چچا یا تاؤ کا بیٹا یا اسکے خاندان کا کوئی اور آدمی جو اسکا قریبی رشتہ دار ہو وہ اسکو چھڑا سکتا ہے یا اگر وہ مالدار ہو جائے تو وہ اپنا فدیہ دیکر چھوٹ سکتا ہے۔
50وہ اپنے خریدار کے ساتھ اپنے کو فروخت کردینے کے سال سے لیکر یوبلی تک حساب کرے اور اسکا حساب مزدور کے ایام کی طرح اسکے ساتھ ہوگا۔
51اگر یوبلی کے ابھی بہت سے برس باقی ہوں تو جتنے روپوں میں وہ خریدا گیا تھا ان میں سے اپنے چھوٹنے کی قیمت اتنے ہی برسوں کے حساب کے مطابق پھیردے۔
52اور اگر سال یوبلی کے تھوڑے سے برس رہگئے ہوں تو اسکے ساتھ حساب کرے اور اپنے چھوٹنے کی قیمت اتنے ہی برسوں کے مطابق اسے پھیردے۔
53اور وہ اس مزدور کی طرح اپنے آقا کے ساتھ رہے جسکی اجرت سال بسال ٹھہرائی جاتی ہو اور اسکا آقا اس پر تمہارے سامنے سختی سے حکومت نہ کرنے پائے۔
54اور اگر وہ ان طریقوں سے چھڑایا نہ جائے تو سال یوبلی میں بال بچوں سمیت چھوٹ جائے۔
55کیونکہ بنی اسرائیل میرے لئے خادم ہیں۔وہ میرے خادم ہیں جنکو میں ملک مصر سے نکالکر لایا ہوں ۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔