Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
35 verses
1اُس وقت بعض لوگ حاضِر تھے جِنہوں نے اُسے اُن گلِیلوں کی خَبر دی جِن کا خُون پِیلاطُس نے اُن کے ذبِیحوں کے ساتھ مِلایا تھا۔
2اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ اِن گلِیلوں نے اَیسا دُکھ پایا کیا وہ اِس لِئے تُمہاری دانِست میں اور سب گلِیلوں سے زِیادہ گُنہگار تھے؟
3مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہِیں بلکہ اگر تُم تَوبہ نہ کرو گے تو سب اِسی طرح ہلاک ہوگے۔
4یا کیا وہ اٹھارہ آدمِی جِن پر شیلوخ کا بُرج گِرا اور دب کر مر گئے تُمہاری دانِست میں یروشلِیم کے اور سب رہنے والوں سے زِیادہ قُصُوروار تھے؟
5مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہِیں بلکہ اگر تُم تَوبہ نہ کرو گے تو سب اِسی طرح ہلاک ہوگے۔
6پھِر اُس نے یہ تَمثِیل کہی کہ کِسی نے اپنے تاکِستان میں ایک انجِیر کا دَرخت لگایا۔ وہ اُس میں پھَل ڈھُونڈنے آیا اور نہ پایا۔
7اِس پر اُس نے باغبان سے کہا کہ دیکھ تِین برس سے مَیں اِس انجِیر کے دَرخت میں پھَل ڈھُونڈنے آتا ہُوں اور نہِیں پاتا۔ اِسے کاٹ ڈال۔ یہ زمِین کو بھی کِیُوں روکے رہے؟
8اُس نے جواب میں اُس سے کہا اَے خُداوند اِس سال تو اور بھی اُسے رہنے دے تاکہ مَیں اُس کے گِرد تھالا کھودُوں اور کھاد ڈالُوں۔
9اگر آگے کو پھَلا تو خَیر نہِیں تو اُس کے بعد کاٹ ڈالنا۔
10پھِر وہ سَبت کے دِن کِسی عِبادت خانہ میں تعلِیم دیتا تھا۔
11اور دیکھو ایک عَورت تھی جِس کو اٹھارہ برس سے کِسی بد رُوح کے باعِث کمزوری تھی۔ وہ کُبڑی ہو گئی تھی اور کِسی طرح سِیدھی نہ ہوسکتی تھی۔
12یِسُوع نے اُسے دیکھ کر بُلایا اور اُس سے کہا اَے عَورت تُو اپنی کمزوری سے چھُوٹ گئی۔
13اور اُس نے اُس پر ہاتھ رکھّے۔ اُسی دم وہ سِیدھی ہو گئی اور خُدا کی تمجِید کرنے لگی۔
14عِبادت خانہ کا سَردار اِس لِئے کہ یِسُوع نے سَبت کے دِن شِفا بخشی خفا ہوکر لوگوں سے کہنے لگا چھ دِن ہیں جِن میں کام کرنا چاہیئے پَس اُنہی میں آ کر شِفا پاؤ نہ کہ سَبت کے دِن۔
15خُداوند نے اُس کے جواب میں کہا کہ اَے رِیاکارو! کیا ہر ایک تُم میں سے سَبت کے دِن اپنے بَیل یا گدھے کو تھان سے کھول کر پانی پِلانے نہِیں لے جاتا؟
16پَس کیا واجِب نہ تھا کہ یہ جو ابرہام کی بَیٹی ہے جِس کو شَیطان نے اٹھارہ برس سے باندھ رکھّا تھا سَبت کے دِن اِس بند سے چھُڑائی جاتی؟
17جب اُس نے یہ باتیں کہِیں تو اُس کے سب مُخالِف شرمِندہ ہُوئے اور ساری بھِیڑ اُن عالِیشان کاموں سے جو اُس سے ہوتے تھے خُوش ہُوئی۔
18پَس وہ کہنے لگا خُدا کی بادشاہی کِس کی مانِند ہے؟ مَیں اُس کو کِس سے تشبِیہ دُوں؟
19وہ رائی کے دانے کی مانِند ہے جِس کو ایک آدمِی نے لے کر اپنے باغ میں ڈال دِیا۔ وہ اُگ کر بڑا دَرخت ہوگیا اور ہوا کے پرِندوں نے اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کِیا۔
20اُس نے پھِر کہا مَیں خُدا کی بادشاہی کو کِس سے تشبِیہ دُوں؟
21وہ خَمِیر کی مانِند ہے جِسے ایک عَورت نے لے کر تِین پیمانہ آٹے میں مِلایا اور ہوتے ہوتے سب خَمِیر ہوگیا۔
22وہ شہر شہر اور گاؤں کاؤں تعلِیم دیتا ہُؤا یروشِلیم کا سفر کر رہا تھا۔
23اور کِسی شَخص نے اُس سے پُوچھا کہ اَے خُداوند! کیا نِجات پانے والے تھوڑے ہیں؟
24اُس نے اُن سے کہا جانفشانی کرو کہ تنگ دروازہ سے داخِل ہو کِیُونکہ مَیں تُم س�� کہتا ہُوں کہ بہُتیرے داخِل ہونے کی کوشِش کریں گے اور نہ ہوسکیں گے۔
25جب گھر کا مالِک اُٹھ کر دروازہ بند کر چُکا ہو اور تُم باہِر کھڑے دروازہ کھٹکھٹا کر یہ کہنا شُرُوع کرو کہ اَے خُداوند! ہمارے لِئے کھول دے اور وہ جواب دے کہ مَیں تُم کو نہِیں جانتا کہ کہاں کے ہو۔
26اُس وقت تُم کہنا شُرُوع کرو گے کہ ہم نے تو تیرے رُوبرُو کھایا پِیا اور تُو نے ہمارے بازاروں میں تعلِِیم دی۔
27مگر وہ کہے گا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نہِیں جانتا تُم کہاں کے ہو۔ اَے رِیاکارو! تُم سب مُجھ سے دُور ہو۔
28وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہوگا جب تُم ابرہام اور اضحاق اور یَعقُوب اور سب نبِیوں کو خُدا کی بادشاہی میں شامِل اور اپنے آپ کو باہِر نِکالا ہُؤا دیکھو گے۔
29اور پُورب پچھّم اُتر دکھن سے لوگ آ کر خُدا کی بادشاہی کی ضِیافت میں شرِیک ہوں گے۔
30اور دیکھو بعض آخِر اَیسے ہیں جو اوّل ہوں گے اور بعض اوّل ہیں جو آخِر ہوں گے۔
31اُسی گھڑی بعض فرِیسِیوں نے آ کر اُس سے کہا کہ نِکل کر یہاں سے چل دے کِیُونکہ ہیرودِیس تُجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔
32اُس نے اُن سے کہا کہ جا کر اُس لَومڑی سے کہہ دو کہ دیکھ مَیں آج اور کل بد رُوحوں کو نِکالتا اور شِفا بخشنے کا کام انجام دیتا رہُوں گا اور تِیسرے دِن کمال کو پہُنچونگا۔
33مگر مُجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرُور ہے کِیُونکہ مُمکِن نہِیں کہ نبی یروشلِیم سے باہِر ہلاک ہو۔
34اَے یروشلِیم! اَے یروشلِیم! تُو جو نبِیوں کو قتل کرتی ہے اور جو تیرے پاس بھیجے گئے اُن کو سنگسار کرتی ہے کِتنی ہی بار مَیں نے چاہا کہ جِس طرح مرغی اپنے بچّوں کو پرّوں تَلے جمع کرتی ہے اُسی طرح مَیں بھی تیرے بچّوں کو جمع کر لُوں مگر تُم نے نہ چاہا!
35دیکھو تُمہارا گھر تُمہارے ہی لِئے چھوڑا جاتا ہے اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مُجھ کو اُس وقت تک ہرگِز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہو گے کہ مُبارک ہے وہ جو خُدا کے نام سے آتا ہے۔