Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
56 verses
1پھِر اُن کی ساری جماعت اُٹھ کر اُسے پِیلاطُس کے پاس لے گئی۔
2اور اُنہوں نے اُس پر اِلزام لگانا شُرُوع کِیا کہ اِسے ہم نے اپنی قَوم کو بہکاتے اور قَیصر کو خِراج دینے سے منع کرتے اور اپنے آپ کو مسِیح بادشاہ کہتے پایا۔
3پِیلاطُس نے اُس سے پُوچھا کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟ اُس نے اُس کے جواب میں کہا تُو خُود کہتا ہے۔
4پِیلاطُس نے سَردار کاہِنوں اور عام لوگوں سے کہا مَیں اِس شَخص میں کُچھ قُصُور نہِیں پاتا۔
5مگر وہ اَور بھی زور دے کر کہنے لگے کہ یہ تمام یہُودیہ میں بلکہ گلِیل سے لے کر یہاں تک لوگوں کو سِکھا سِکھا کر اُبھارتا ہے۔
6یہ سُن کر پِیلاطُس نے پُوچھا کیا یہ آدمِی گلِیلی ہے؟
7اور یہ معلُوم کر کے کہ ہیرودِیس کی عملداری کا ہے اُسے ہیرودِیس کے پاس بھیجا کِیُونکہ وہ بھی اُن دِنوں یروشلِیم میں تھا۔
8ہیرودِیس یِسُوع کو دیکھ کر بہُت خُوش ہُؤا کِیُونکہ وہ مُدّت سے اُسے دیکھنے کا مُشتاق تھا۔ اِس لِئے کہ اُس نے اُس کا حال سُنا تھا اور اُس کا کوئی مُعجِزہ دیکھنے کا اُمِیدوار تھا۔
9اور وہ اُس سے پہُتیری باتیں پُوچھتا رہا مگر اُس نے اُسے کُچھ جواب نہ دِیا۔
10اور سَردار کاہِن اور فقِیہ کھڑے ہُوئے زور شور سے اُس پر اِلزام لگاتے رہے۔
11پھِر ہیرودِیس نے اپنے سِپاہِیوں سمیت اُسے ذلِیل کِیا اور ٹھٹھّو میں اُڑایا اور چمکدار پوشاک پہنا کر اُس کو پِیلاطُس کے پاس واپَس بھیجا۔
12اور اُسی دِن ہیرودِیس اور پِیلاطُس آپس میں دوست ہوگئے کِیُونکہ پہلے اُن میں دُشمنی تھی۔
13پھِر پِیلاطُس نے سَردار کاہِنوں او سَرداروں اور عام لوگوں کو جمع کر کے۔
14اُن سے کہا کہ تُم اِس شَخص کو لوگوں کا بہکانے والا ٹھہرا کر میرے پاس لائے ہو اور دیکھو مَیں نے تُمہارے سامنے ہی اُس کی تحقِیقات کی مگر جِن باتوں کا اِلزام تُم اُس پر لگاتے ہو اُن کی نِسبت نہ مَیں نے اُس میں کُچھ قُصُور پایا۔
15یہ ہیرودِیس نے کِیُونکہ اُس نے اُسے ہمارے پاس واپَس بھیجا ہے اور دیکھو اُس سے کوئی اَیسا فِعل سرزد نہِیں ہُؤا جِس سے وہ قتل کے لائِق ٹھہرتا۔
16پَس مَیں اُس کو پِٹوا کر چھوڑے دیتا ہُوں۔
17[اُسے ہر عِید میں ضرُور تھا کہ کِسی کو اُن کی خاطِر چھوڑ دے]۔
18وہ سب مِل کر چِلّا اُٹھے کہ اِسے لے جا اور ہماری خاطِر برابّا کو چھوڑ دے۔
19(یہ کِسی بغاوت کے باعِث جو شہر میں ہُوئی تھی اور خُون کرنے کے سبب سے قَید میں ڈالا گیا تھا)۔
20مگر پِیلاطُس نے یِسُوع کو چھوڑنے کے اِرادہ سے پھِر اُن سے کہا۔
21لیکِن وہ چِلّا کر کہنے لگے کہ اِس کو صلِیب دے صلِیب!
22اُس نے تِیسری بار اُن سے کہا کِیوں؟ اِس نے کیا بُرائی کی ہے؟ مَیں نے اِس میں قتل کی کوئی وجہ نہِیں پائی۔ پَس مَیں اِسے پِٹوا کر چھوڑے دیتا ہُوں۔
23مگر وہ چِلّا چِلّا کر سر ہوتے رہے کہ اُسے صلِیب دی جائے اور اُن کا چِلّانا کارگر ہُؤا۔
24پَس پِیلاطُس نے حُکم دِیا کہ اُن کی دَرخواست کے مُوافِق ہو۔
25اور جو شَخص بغاوت اور خُون کرنے کے سبب سے قَید میں پڑا تھا اور جِسے اُنہوں نے مانگا تھا اُسے چھوڑ دِیا مگر یِسُوع کو اُن کی مرضی کے مُوفِق سِپاہِیوں کے حوالہ کِیا۔
26اور جب اُ�� کو لِئے جاتے تھے تو اُنہوں نے شمعُون نام ایک کرینی کو جو دِیہات سے آتا تھا پکڑ کر صلِیب اُس پر رکھ دی کہ یِسُوع کے پِیچھے پِیچھے لے چلے۔
27اور لوگوں کی ایک بڑی بھِیڑ اور بہُت سی عَورتیں جو اُس کے واسطے روتی پِٹتی تھِیں اُس کے پِیچھے پِیچھے چلِیں۔
28یِسُوع نے اُن کی طرف پھِر کر کہا اَے یروشلِیم کی بَیٹیوں! میرے لِئے نہ رو بلکہ اپنے اور اپنے بچّوں کے لِئے رو۔
29کِیُونکہ دیکھو وہ دِن آتے ہیں جِن میں کہیں گے مُبارک ہے بانجھیں اور وہ رحم جو بارور نہ ہُوئے اور وہ چھاتِیاں جِنہوں نے دُودھ نہ پِلایا۔
30اُس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شُرُوع کریں گے کہ ہم پر گِر پڑو اور ٹِیلوں سے کہ ہمیں چھِپا لو۔
31کِیُونکہ جب ہرے دَرخت کے ساتھ اَیسا کرتے ہیں تو سُوکھے کہ ساتھ کیا کُچھ نہ کِیا جائے گا؟
32اور وہ دو اَور آدمِیوں کو بھی جو بدکار تھے لِئے جاتے تھے کہ اُس کے ساتھ قتل کِئے جائیں۔
33جب وہ اُس جگہ پر پہُنچے جِسے کھوپڑی کہتے ہیں تو وہاں اُسے مصلُوب کِیا اور بدکاروں کو بھی ایک کو دہنِی اور دُوسرے کو بائیں طرف۔
34یِسُوع نے کہا اَے باپ! اِن کو مُعاف کر کِیُونکہ یہ جانتے نہِیں کہ کیا کرتے ہیں۔ اور اُنہوں نے اُس کے کپڑوں کے حصّے کِئے اور اُن پر قُرعہ ڈالا۔
35اور لوگ کھڑے دیکھ رہے تھے اور سَردار بھی ٹھٹھّے مار مار کر کہتے تھے کہ اِس نے اَوروں کو بَچایا۔ اگر یہ خُدا کا مسِیح اور اُس کا برگُزِیدہ ہے تو اپنے آپ کو بَچائے۔
36سِپاہِیوں نے بھی پاس آ کر اور سِرکہ پیش کر کے اُس پر ٹھٹھّا مارا اور کہا کہ۔
37اگر تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بَچا۔
38اور ایک نوِشتہ بھی اُس کے اُوپر لگایا گیا تھا کہ یہ یہُودِیوں کا بادشاہ ہے۔
39پھِر جو بدکار صلِیب پر لٹکائے گئے تھے اُن میں سے ایک اُسے یُوں طعنہ دینے لگا کہ کیا تُو مسِیح نہِیں؟ تُو اپنے آپکو اور ہم کو بَچا۔
40مگر دُوسرے نے اُسے جھِڑک کر جواب دِیا کہ کیا تُو خُدا سے بھی نہِیں ڈرتا حالانکہ اُسی سزا میں گِرفتار ہے؟
41اور ہماری سزا تو واجبی ہے کِیُونکہ اپنے کاموں کا بدلہ پا رہے ہیں لیکِن اِس نے کوئی بیجا کام نہِیں کِیا۔
42پھِر اُس نے کہا اَے یِسُوع جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مُجھے یاد کرنا۔
43اُس نے اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ آج ہی تُو میرے ساتھ فِردوس میں ہوگا۔
44پھِر دوپہر کے قریب سے تِیسرے پہر تک تمام مُلک میں اَندھرا چھایا رہا۔
45اور سُورج کی روشنی جاتی رہی اور مَقدِس کا پردہ بِیچ سے پھٹ گیا۔
46پھِر یِسُوع نے بڑی آواز سے پُکار کر کہا اَے باپ! مَیں اپنے رُوح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں اور یہ کہہ کر دم دے دِیا۔
47یہ ماجرہ دیکھ کر صُوبہ دار نے خُدا کی تمجِید کی اور کہا بیشک یہ آدمِی راستباز تھا۔
48اور جِتنے لوگ اِس نظارہ کو آئے تھے یہ ماجرہ دیکھ کر چھاتی پِیٹتے ہُوئے لَوٹ گئے۔
49اور اُس کے سب جان پہچان اور وہ عَورتیں جو گلِیل سے اُس کے ساتھ آئیں تھِیں دُور کھڑی یہ باتیں دیکھ رہیں تھِیں۔
50اور دیکھو یُوسُف نام ایک شَخص مُشِیر تھا جو نیک اور راستباز آدمِی تھا۔
51اور اُن کی صلاح اور کام سے رضامند نہ تھا۔ یہ یہُودِیوں کے شہر اَرمِتیہ کا باشِندہ اور خُدا کی بادشاہی کا مُنتظِر تھا
52اُس نے پِیلاطُس کے پاس جا کر یِسُوع کی لاش مانگی۔
53اور اُس کو اُتار کر مہِین چادر میں لپیٹا۔ پھِر ایک قَبر کے اَندر رکھ دِیا جو چٹان میں کھُدی ہُوئی تھی اور اُس میں کوئی کبھی رکھّا نہ گیا تھا۔
54وہ تیّاری کا دِن تھا اور سَبت کا دِن شُرُوع ہونے کو تھا۔
55اور اُن عَورتوں نے جو اُس کے ساتھ گلِیل سے آئیں تھِیں پِیچھے پِیچھے جا کر اُس قَبر کو دیکھا اور یہ بھی کہ اُس کی لاش کِس طرح رکھی گئی۔
56اور لَوٹ کر خُوشبُودار چِیزیں اور عِطر تیّار کِیا۔