Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
49 verses
1پھِر سَبت کے دِن یِوں ہُؤا کہ وہ کھیتوں میں ہوکر جا رہا تھا اور اُس کے شاگِرد بالیں توڑ توڑ کر اور ہاتھوں سے مل مل کر کھاتے جاتے تھے۔
2اور فرِیسِیوں میں سے بعض کہنے لگے تُم وہ کام کِیُوں کرتے ہو جو سَبت کے دِن کرنا روا نہِیں؟
3یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کیا تُم نے یہ بھی نہِیں پڑھا کہ جب داؤد اور اُس کے ساتھی بھُوکے تھے تو اُس نے کیا کِیا؟
4وہ کیونکر خُدا کے گھر میں گیا اور نذر کی روٹِیاں لے کر کھائیں جِن کو کو کھانا کاہِنوں کے سِوا کِسی کو روا نہِیں اور اپنے ساتھِیوں کو بھی دِیں؟
5پھِر اُس نے اُن سے کہا اِبنِ آدم سَبت کا مالِک ہے۔
6اور یُوں ہُؤا کہ کِسی اور سَبت کو وہ عِبادت خانہ میں داخِل ہوکر تعلِیم دینے لگا اور وہاں ایک آدمِی تھا جِس کا دہنا ہاتھ سُوکھ گیا تھا۔
7اور فقِیہ اور فرِیسی اُسی کی تاک میں تھے کہ آیا سَبت کے دِن اچھّا کرتا ہے یا نہِیں تاکہ اُس پر اِلزام لگانے کا موقع پائیں۔
8مگر اُس کو اُن کے خیال معلُوم تھے۔ پَس اُس نے اُس آدمِی سے جِس کا ہاتھ سُوکھا تھا کہا اُٹھ اور بِیچ میں کھڑا ہو۔ وہ اُٹھ کھڑا ہُؤا۔
9یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں تُم سے یہ پُوچھتا ہُوں کہ آیا سَبت کے دِن نیکی کرنا روا ہے یا بدی کرنا؟ جان بَچانا یا ہلاک کرنا؟
10اور اُن سب پر نظر کر کے اُس سے کہا اپنا ہاتھ بڑھا۔ اُس نے بڑھایا اور اُس کا ہاتھ درُست ہوگیا۔
11وہ آپے سے باہِر ہوکر ایک دُوسرے سے کہنے لگے کہ ہم یِسُوع کے ساتھ کیا کریں؟
12اور اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ وہ پہاڑ پر دُعا کرنے کو نِکلا اور خُدا سے دُعا کرنے میں ساری رات گُذاری۔
13جب دِن ہُؤا تو اُس نے اپنے شاگِردوں کو پاس بُلا کر اُن میں سے بارہ چُن لِئے اور اُن کو رَسُول کا لقب دِیا۔
14یعنی شمعُون جِس کا نام اُس نے پطرس بھی رکھّا اور اُس کا بھائِی اِندریاس اور یَعقُوب اور یُوحنّا اور فِلپُّس اور برتُلمائی۔
15اور متّی اور تُوما اور حلفئی کا بَیٹا یَعقُوب اور شمعُون جو زیلوتِیس کہلاتا تھا۔
16اور یَعقُوب کا بَیٹا یہُوداہ اور یہُوداہ اِسکریُوتی جو اُس کا پکڑوانے والا ہُؤا۔
17اور وہ اُن کے ساتھ اُتر کر ہموار جگہ پر کھڑا ہُؤا اور اُس کے شاگِردوں کی بڑی جماعت اور لوگوں کی بڑی بھِیڑ وہاں تھی جو سارے یہُودیہ اور یروشلِیم اور صُور اور صَیدا کے بحری کِنارے سے اُس کی سُننے اور اپنی بِیمارِیوں سے شِفا پانے کے لِئے اُس کے پاس آئی تھی۔
18اور جو ناپاک رُوحوں سے دُکھ پاتے تھے وہ اچھّے کئے گئے۔
19اور سب لوگ اُسے چھُونے کی کوشِش کرتے تھے کِیُونکہ قُوّت اُس سے نِکلتی اور سب کو شِفا بخشتی تھی۔
20پھِر اُس نے اپنے شاگِردوں کی طرف نظر کر کے کہا مُبارک ہو تُم جو غریب ہو کِیُونکہ خُدا کی بادشاہی تُمہاری ہے۔
21مُبارک ہو تُم جو اَب بھُوکے ہو کِیُونکہ آسُودہ ہوگے۔ مُبارک ہو تُم جو اَب روتے ہو کِیُونکہ ہنسوں گے۔
22جب اِبنِ آدم کے سبب سے لوگ تُم سے عَداوَت رکھّیں گے اور تُمہیں خارِج کردیں گے اور لعن طعن کریں گے اور تُمہارا نام بُرا جان کر کاٹ دیں گے تو تُم مُبارک ہو گے۔
23اُس دِن خُوش ہونا اور خُوشی کے مارے اُچھلنا۔ اِسی لِئے کہ دیکھو آسمان پر تُمہارا اجر بڑا ہے کِیُونکہ اُن کے باپ دادا نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہ�� کِیا کرتے تھے۔
24مگر افسوس تُم پر جو دَولتمند ہو کِیُونکہ تُم اپنی تسلّی پاچُکے۔
25افسوس تُم پر جو اَب سیر ہو کِیُونکہ بھُوکے ہوگے۔ افسوس تُم پر جو اَب ہنستے ہو کِیُونکہ ماتم کرو گے اور روؤ گے۔
26افسوس تُم پر جب سب لوگ تُمہیں بھلا کہیں کِیُونکہ اُن کے باپ دادا جھُوٹے نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کِیا کرتے تھے۔
27لیکِن مَیں تُم سُننے والوں سے کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبت رکھّو۔ جو تُم سے عَداوَت رکھّے اُن کا بھلا کرو۔
28جو تُم پر لعنت کرے اُن کے لِئے بَرکَت چاہو۔ جو تُمہاری تحقِیر کریں اُن کے لِئے دُعا کرو۔
29جو تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے اور جو تیرا چوغہ لے اُس کو کُرتا لینے سے بھی منع نہ کر۔
30جو کوئی تُجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تیرا مال لے لے اُس سے طلب نہ کر۔
31اور جَیسا تُم چاہتے ہو کہ لوگ تُمہارے ساتھ کریں تُم بھی اُن کے ساتھ وَیسا ہی کرو۔
32اور اگر تُم اپنے مُحبت رکھّنے والوں ہی سے مُحبت رکھّو تو تُمہارا کیا اَحسان ہے؟ کِیُونکہ گُنہگار بھی اپنے مُحبت رکھّنے والوں سے مُحبت رکھّتے ہیں۔
33اور اگر تُم اُن ہی کا بھلا کرو جو تُمہارا بھلا کریں تو تُمہارا کیا اَحسان ہے؟ کِیُونکہ گُنہگار بھی اَیسا ہی کرتے ہیں
34اور اگر تُم اُن ہی کو قرض دو جِن سے وصُول ہونے کی اُمِید رکھتے ہو تو تُمہارا کیا اَحسان ہے؟ گُنہگار بھی گُنہگاروں کو قرض دیتے ہیں تاکہ پُورا وصُول کرلیں۔
35مگر تُم اپنے دُشمنوں سے مُحبت رکھّو اور بھلا کرو اور بغَیر نا اُمِید ہُوئے قرض دو تو تُمہارا اجر بڑا ہوگا اور تُم خُدا تعالٰے کے بَیٹے ٹھہرو گے کِیُونکہ وہ ناشُکرو اور بدوں پر بھی مہربان ہے۔
36جَیسا تُمہارا باپ رحیم ہے تُم بھی رحمدِل ہو۔
37عیب جوئی نہ کرو۔ تُمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے۔ مُجرم نہ ٹھہراؤ۔ تُم بھی مُجرم نہ ٹھہرائے جاؤ گے۔ خلاصی دو تُم بھی خلاصی پاؤ گے۔
38دِیا کرو۔ تُمہیں بھی دِیا جائے گا۔ اچھّا پیمانہ داب داب کر اور ہِلا ہِلا کر اور لبریز کر کے تُمہارے پلّے میں ڈالیں گے کِیُونکہ جِس پیمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تُمہارے لِئے ناپا جائے گا۔
39اور اُس نے اُن سے ایک تَمثِیل بھی کہی کہ کیا اَندھے کو اَندھا راہ دِکھا سکتا ہے؟ کیا دونوں گڑھے میں نہ گِریں گے؟
40شاگِرد اپنے اُستاد سے بڑا نہِیں بلکہ ہر ایک جب کامِل ہُؤا تو اپنے اُستاد جَیسا ہوگا۔
41تُو کِیُوں اپنے بھائِی کی آنکھ کے تِنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہِیں کرتا؟
42اور جب تُو اپنے آنکھ کے شہتِیر کو نہِیں دیکھتا تو اپنے بھائِی سے کیونکر کہہ سکتا ہے کہ بھائِی لا اُس تِنکے کو جو تیری آنکھ میں ہے نِکال دوں؟ اَے رِیاکار! پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نِکال۔ پھِر اُس تِنکے کو جو تیرے بھائِی کی آنکھ میں ہے اچھّی طرح دیکھ کر نِکال سکے گا۔
43کِیُونکہ کوئی اچھّا دَرخت نہِیں جو بُرا پھَل لائے اور نہ کوئی بُرا دَرخت ہے جو اچھّا پھَل لائے۔
44ہر دَرخت اپنے پھَل سے پہچانا جاتا ہے کِیُونکہ جھاڑیوں سے اَنجیر نہِیں توڑتے اور نہ جھڑبیری سے اَنگُور۔
45اچھّا آدمِی اپنے دِل کے اچھّے خزانہ سے اچھّی چِیزیں نِکالتا ہے اور بُرا آدمِی بُرے خزانہ سے بُری چِیزیں نِکالتا ہے کِیُونکہ جو دِل میں بھرا ہے وُہی اُس کے مُنہ پر آتا ہے۔
46جب تُم میرے کہنے پر عمل نہِیں کرتے ہو تو کِیُوں مُجھے خُداوند خُداوند کہتے ہو؟
47جو کوئی میرے پاس آتا ہے اور میری باتیں سُن کر عمل کرتا ہے مَیں تُمہیں جتاتا ہُوں کہ وہ کِس کی مانِند ہے۔
48وہ اُس آدمِی کی مانِند ہے جِس نے گھر بناتے وقت زمِین گہری کھود کر چٹان پر بنیاد ڈالی۔ اور جب طُوفان آیا اور سیلاب اُس گھر سے ٹکرایا تو اُسے ہلا نہ سکا کِیُونکہ وہ مضبوط بنا ہُؤا تھا۔
49لیکِن جو سُن کر عمل میں نہِیں لاتا وہ اُس آدمِی کی مانِند ہے جِس نے زمِین پر گھر کو بے بُنیاد بنایا۔ جب سیلاب اُس پر زور سے آیا تو وہ فِی الفَور گِر پڑا اور وہ گھر بالکُل برباد ہُؤا۔