Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
43 verses
1اور وہ جِھیل کے پار گراسِینِیوں کے عِلاقہ میں پہُنچے۔
2اور جب وہ کَشتی سے اُترا تو فِی الفَور ایک آدمِی جِس میں ناپاک رُوح تھی قَبروں سے نِکل کر اُس سے مِلا۔
3وہ قَبروں میں رہا کرتا تھا اور اَب کوئی اُسے زنجِیروں سے بھی نہ باندھ سکتا تھا۔
4کِیُونکہ وہ بار بار بیڑیوں اور زنجِیروں سے باندھا گیا تھا لیکِن اُس نے زنجِیروں کو توڑا اور بھیڑیوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے کِیا تھا اور کوئی اُسے قابُو میں نہ لاسکتا تھا۔
5اور وہ ہمیشہ رات دِن قَبروں اور پہاڑوں میں چِلّاتا اور اپنے تِئیں پتھّروں سے زخمی کرتا تھا۔
6وہ یِسُوع کو دُور سے دیکھ کر دَوڑا اور اُسے سِجدہ کِیا۔
7اور بڑی آواز سے چلاکر کہا اَے یِسُوع خُدا تعالٰے کے فرزند مُجھے تُجھ سے کیا کام؟ تُجھے خُدا کی قسَم دیتا ہُوں مُجھے عَذاب میں نہ ڈال۔
8کِیُونکہ اُس نے اُس سے کہا تھا اَے ناپاک رُوح اِس آدمِی میں سے نِکل آ۔
9پِھر اُس نے اُس سے پُوچھا تیرا نام کیا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا میرا نام لشکر ہے کِیُونکہ ہم بہُت ہیں۔
10پھِر اُس نے اُس کی بہُت مِنّت کی کہ ہمیں اِس عِلاقہ سے باہِر نہ بھیج۔
11اور وہاں پہاڑ پر سوأروں کا ایک بڑا غول چررہا تھا۔
12پَس اُنہوں نے اُس کی مِنّت کر کے کہا کہ ہم کو اُن سوأروں میں بھیج دے تاکہ ہم اُن میں داخل ہوں۔
13پَس اُس نے اُن کو اِجازت دی اور ناپاک رُوحیں نِکل کر سوأروں میں داخِل ہوگئِیں اور وہ غول جو کوئی دوہزار کا تھا کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جِھیل میں جا پڑا اور جِھیل میں ڈُوب مرا۔
14اور اُن کے کے چرانے والوں نے بھاگ کر شہر اور دیہات میں خَبر پہُنچائی۔
15پَس لوگ یہ ماجرا دیکھنے کو نِکل کر یِسُوع کے پاس آئے اور جِس میں بَدرُوحیں یعنی بَدرُوحوں کا لشکر تھا۔ اُس کو بَیٹھے اور کپڑے پہنے اور ہوش میں دیکھ کر ڈرگئے۔
16اور دیکھنے والوں نے اُس کا حال جِس میں بَدرُوحیں تھِیں اور سوأروں کا ماجرا اُن سے بیان کِیا۔
17وہ اُس کی مِنّت کرنے لگے کہ ہماری سَرحَد سے چلا جا۔
18اور جب وہ کَشتی میں داخِل ہونے لگا تو جِس میں بَدرُوحیں تھِیں اُس نے اُس کی مِنّت کی کہ مَیں تیرے ساتھ رہُوں۔
19لیکِن اُس نے اُسے اِجازت نہ دی بلکہ اُس سے کہا کہ اپنے لوگوں کے پاس اپنے گھر جا اور اُن کو خَبر دے کہ خُداوند نے تیرے لئِے کَیسے بڑے کام کئِے اور تُجھ پر رحم کِیا۔
20وہ گیا اور دِکَپُلِس میں اِس بات کا چرچا کرنے لگا کہ یِسُوع نے اُس کے لِئے کیَسے بڑے کام کئے اور سب لوگ تعّجُب کرتے تھے۔
21جب یِسُوع پِھر کَشتی میں پارگیا تو بڑی بِھیڑ اُس کے پاس جمع ہُوئی اور وہ جِھیل کے کِنارے تھا۔
22اورعبِادت خانہ کے سَرداروں میں سے ایک شَخص یائِیرنام آیا اور اُسے دیکھ کر اُس کے قدموں پر گِرا۔
23اور یہ کہہ کر اُس کی بہُت مِنّت کی کہ میری چھوٹی بیٹی مرنے کو ہے۔ تُو آ کر اپنے ہاتھ اُس پر رکھ تاکہ وہ اچھّی ہوجائے اور زِندہ رہے۔
24پَس وہ اُس کے ساتھ چلا اور بہُت سے لوگ اُس کے پِیچھے ہولئِے اور اُس پر گِرے پڑتے تھے۔
25پِھر ایک عَورت جِس کے بارہ برس سے خُون جاری تھا۔
26اور کئی طبِیبوں سے بڑی تکلِیف اُٹھا چُکی تھی اور اپنا سب مال خرچ کر کے بھی اُسے کُچھ فائِدہ نہ ہُؤا تھا بلکہ زیادہ بِیمار ہوگئی تھی۔
27یِسُوع کا حال سُن کر بِھیڑ میں اُس کے پِیچھے سے آئی اور اُس کی پوشاک کو چھُؤا۔
28کِیُونکہ و�� کہتی تھی کہ اگر مَیں صِرف اُس کی پوشاک ہی چھُو لُوں گی تو اچھّی ہوجاؤں گی۔
29اور فِی الفَور اُس کا خُون بہنا بند ہوگیا اور اُس نے اپنے بَدَن میں معلُوم کِیا کہ مَیں نے اِس بِیماری سے شِفا پائی۔
30یِسُوع نے فِی الفَور اپنے میں معلُوم کر کے کہ مُجھ میں سے قُوّت نِکلی اُس بھِیڑ میں پِیچھے مُڑکرکہا کِس نے میری پوشاک چُھوئی؟۔
31اُس کے شاگِردوں نے اُس سے کہا تُودیکھتا ہے کہ بِھیڑ تُجھ پرگِری پڑتی ہے پھِر تُو کہتا ہے مُجھے کِس نے چھُؤا؟۔
32اُس نے چاروں طرف نِگاہ کی تاکہ جِس نے یہ کام کِیا تھا اُسے دیکھے۔
33وہ عَورت جو کُچھ اُس سے ہُؤا تھا محسُوس کر کے ڈرتی اور کانپتی ہُوئی آئی اور اُس کے آگے گِر پڑی اور سارا حال سَچ سَچ اُس سے کہہ دیا۔
34اُس نے اُس سے کہا بیٹی تیرے اِیمان سے تُجھے شِفا مِلی۔ سَلامت جا اور اپنی اِس بیماری سے بچی رہ۔
35وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عِبادت خانہ کے سَردار کے ہاں سے لوگوں نے آ کر کہا کہ تیری بیٹی مرگئی۔ اَب اُستاد کو کیُوں تکلِیف دیتا ہے؟۔
36جو بات وہ کہہ رہے تھے اُس پر یِسُوع نے تَوَجّہ نہ کر کے عِبادت خانہ کے سَردار سے کہا خَوف نہ کر۔ فقط اِعتِقاد رکھ۔
37پھِر اُس نے پطرس اور یَعقُوب اوریَعقُوب کے بھائِی یُوحنّا کے سِوا اور کِسی کو اپنے ساتھ چلنے کی اِجازت نہ دی۔
38اور وہ عِبادت خانہ کے سَردار کے گھر میں آئے اور اُس نے دیکھا کہ ہُلڑ ہورہا ہے اور لوگ بہُت روپِیٹ رہے ہیں۔
39اور اَندر جا کر اُن سے کہا تُم کِیُوں غُل مچاتے اور روتے ہو؟ لڑکی مرنہِیں گئی بلکہ سوتی ہے۔
40وہ اُس پر ہنسنے لگے لیکِن وہ سب کو نِکال کر لڑکی کے ماں باپ کو اور اپنے ساتِھیوں کو لے کر جہاں لڑکی پڑی تھی اَندرگیا۔
41اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اُس سے کہا تلیتا قُومی۔ جِس کا ترجمہ ہے اَے لڑکی مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ۔
42وہ لڑکی فِی الفَور اُٹھ کر چلنے پھِرنے لگی کِیُونکہ وہ بارہ برس کی تھی۔ اِس پرلوگ بہُت ہی حَیران ہُوئے۔
43پِھر اُس نے اُن کو تاکِید سے حُکم دِیا کہ یہ کوئی نہ جانے اور فرمایا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دِیا جائے۔