Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1پِھر فرِیسی اور بعض فقِیہ اُس کے پاس جمع ہُوئے۔ وہ یروشلِیم سے آئے تھے۔
2اور اُنہوں نے دیکھا کہ اُس کے بعض شاگِرد ناپاک یعنی بِن دھوئے ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہیں۔
3کِیُونکہ فرِیسی اور سب یہُودی بُزُرگوں کی رِوایَت کے مُطابِق جب تک اپنے ہاتھ خُوب دھونہ لیں نہِیں کھاتے۔
4اور بازار سے آ کر جب تک غُسل نہ کرلیں نہِیں کھاتے اور بہُت سی اَور باتوں کے جو اُن کو پہُنچی ہیں پاِبنِد ہیں جَیسے پیالوں اور لوٹوں اور تانبے کے برتنوں کو دھونا۔
5پَس فرِیسِیوں اور فقِیہوں نے اُس سے پُوچھا کیا سبب ہے کہ تیرے شاگِرد بُزُرگوں کی رِوایَت پر نہِیں چلتے بلکہ ناپاک ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہیں۔
6اُس نے اُن سے کہا یسعیاہ نے تُم رِیاکاروں کے حق میں کیا خُوب نبُوّت کی جَیسا کہ لِکھا ہے:۔ یہ لوگ ہونٹوں سے تو میری تعظِیم کرتے ہیں لیکِن اِن کے دِل مُجھ سے دُور ہیں۔
7یہ بے فائِدہ میری پرستِش کرتے ہیں کِیُونکہ اِنسانی احکام کی تعلِیم دیتے ہیں۔
8تُم خُدا کے حُکم کو ترک کر کے آدمِیوں کی رِوایَت کو قائِم رکھتے ہو۔
9اور اُس نے اُن سے کہا تُم اپنی رِوایَت کو ماننے کے لِئے خُدا کے حُکم بالکُل رّد کردیتے ہو۔
10کِیُونکہ مُوسٰی نے فرمایا ہے کہ اپنے باپ کی اور اپنی ماں کی عِزّت کر اور جو کوئی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضرُور جان سے مارا جائے۔
11لیکِن تُم کہتے ہو اگر کوئی باپ یا ماں سے کہے کہ جِس چِیز کا تُجھے مُجھ سے فائِدہ پہُنچ سکتا تھا وہ قُربان یعنی خُدا کی نذر ہوچُکی۔
12تو تُم اُسے پھِر باپ یا ماں کی کُچھ مدد کرنے نہِیں دیتے۔
13یُوں تُم خُدا کےکلام کو اپنی رِوایَت سے جو تُم نے جاری کی ہے باطِل کردیتے ہو۔ اور اَیسے بہُترے کام کرتے ہو۔
14اور وہ لوگوں کو پِھر پاس بُلاکر اُن سے کہنے لگا تُم سب میری سُنو اور سَمَجھو۔
15کوئی چِیز باہِر سے آدمِی میں داخِل ہوکر اُسے ناپاک نہِیں کرسکتی مگر جو چِیزیں آدمِی میں سے نِکلتی ہیں وُہی اُس کو ناپاک کرتی ہیں
16[اگر کِسی کے سُننے کے کان ہو تو سُن لے]۔
17اور جب وہ بھیڑ کے پاس سے گھر میں گیا تو اُس کے شاگِردوں نے اُس سے اِس تَمثِیل کے معنی پُوچھے۔
18اُس نے اُن سے کہا کیا تُم بھی اَیسے بے سَمَجھ ہو؟ کیا تُم نہِیں سَمَجھتے کہ کوئی چِیز جو باہِر سے آدمِی کے اَندر جاتی اُسے ناپاک نہِیں کرسکتی۔
19اِسلئِے کہ وہ اُس کے دِل میں نہِیں بلکہ پیٹ میں جاتی ہے اور مزبلہ میں نِکل جاتی ہے؟ یہ کہہ کر اُس نے تمام کھانے کی چِیزوں کو پاک ٹھہرایا۔
20پِھر اُس نے کہا جو کُچھ آدمِی میں سے نِکلتا ہے وُہی اُس کو ناپاک کرتا ہے۔
21کِیُونکہ اَندر سے یعنی آدمِی کے دِل سے بُرے خیال نِکلتے ہیں۔ حرامکارِیاں۔
22چورِیاں ۔ خُونریزیاں۔ زِناکارِیاں۔ لالچ۔ بدکارِیاں۔ مکر۔ شہوت پرستی۔ بدنظری۔ بدگوئی۔ شیخی۔ بیواقُوفی۔
23یہ سب بُری باتیں اَندر سے نِکل کر آدمِی کو ناپاک کرتی ہیں۔
24پِھر وہاں سے اُٹھ کر صُور اور صَیدا کی سَرحَدوں میں گیا اور ایک گھر میں داخِل ہُؤا اور نہ چاہتا تھا کہ کوئی جانے مگر پوشِیدا نہ رہ سکا۔
25بلکہ فِی الفَور ایک عَورت جِس کی چھوٹی بیٹی میں ناپاک رُوح تھی اُس کی خَبر سُن کر آئی اور اُس کے قدموں پر گِری۔
26یہ عَورت یُونانی تھی اور قَوم کی سُورُفینیکی۔ اُس نے اُس سے دَرخواست کی کہ بَدرُوح کو اُس کی بیٹی میں سے نکِالے۔
27اُس نے اُس سے کہا پہلے لڑکو�� کو سیر ہونے دے کِیُونکہ لڑکوں کی روٹی لے کر کُتوں کو ڈال دینا اچھّا نہِیں۔
28اُس نے جواب میں کہا ہاں خُداوند۔ کُتّے بھی میز کے تَلے لڑکوں کی روٹی کے ٹکُڑوں میں سے کھاتے ہیں۔
29اُس نے اُس سے کہا اِس کلام کی خاطِر جا۔ بَدرُوح تیری بیٹی سے نِکل گئی ہے۔
30اور اُس نے اپنے گھر میں جا کر دیکھا کہ لڑکی پلنگ پر پڑی ہے اور بَدرُوح نِکل گئی ہے۔
31اور وہ پِھر صُور کی سَرحَدوں سے نِکل کر صیدا کی راہ سے دکپُلِس کی سَرحَدوں سے ہوتا ہُؤا گلِیل کی جِھیل پر پہُنچا۔
32اور لوگوں نے ایک بہرے کو جو ہکلا بھی تھا اُس کے پاس لاکر اُس کی مِنّت کی کہ اپنا ہاتھ اُس پر رکھ۔
33وہ اُس کو بھِیڑ میں سے الگ لے گیا اور اپنی اُنگلِیاں اُس کے کانوں میں ڈالیں اور تُھوک کر اُس کی زبان چُھوئی۔
34اور آسمان کی طرف نظر کر کے ایک آہ بھری اور اُس سے کہا اِفتّح یعنی کھُل جا۔
35اور اُس کے کان کھُل گئے اور اُس کی زبان کی گِرہ کھُل گئی اور وہ صاف بولنے لگا۔
36اور اُس نے اُن کو حُکم دِیا کہ کِسی سے نہ کہنا لیکِن جِتنا وہ اُن کو حُکم دیتا رہا اُتنا ہی زیادہ وہ چرچا کرتے رہے۔
37اور اُنہوں نے نِہایت ہی حَیران ہوکر کہا جو کُچھ اُس نے کِیا سب اچھّا کِیا۔ وہ بہروں کو سُننے کی اور گُونگوں کو بولنے کی طاقت دیتا ہے۔