Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1کِیُونکہ آسمان کی بادشاہی اُس گھر کے مالِک کی مانِند ہے جو سویرے نِکلا تاکہ اپنے تاکِستان میں مزدُور لگائے۔
2اور اُس نے مزدُوروں سے ایک دِینار روز ٹھہرا کر اُنہِیں اپنے تاکِستان میں بھیج دِیا۔
3پھِر پہر دِن چڑھے کے قرِیب نِکل کر اُس نے اَوروں کو بازار میں بیکار کھڑے دیکھا۔
4اور اُن سے کہا تُم بھی تاکِستان میں چلے جاؤ۔ جو واجب ہے تُم کو دُوں گا۔ پَس وہ چلے گئے۔
5پھِر اُس نے دوپہر اور تِیسرے پہر کے قرِیب نِکل کر ویسا ہی کِیا۔
6اور کوئی ایک گھنٹہ دِن رہے پھِر نِکل کر اَوروں کو کھڑے پایا اور اُن سے کہا تُم کِیُوں یہاں تمام دِن بیکار کھڑے رہے؟
7اُنہوں نے اُس سے کہا اِس لِئے کہ کِسی نے ہم کو مزدُوری پر نہِیں لگایا۔ اُس نے اُن سے کہا تُم بھی تاکِستان میں چلے جاؤ۔
8جب شام ہُوئی تو تاکِستان کے مالِک نے اپنے کارِندہ سے کہا کہ مزدُوروں کو بُلا اور پِچھلوں سے لے کر پہلوں تک اُن کی مزدُوری دے دے۔
9جب وہ آئے جو گھنٹہ بھر دِن رہے لگائے گئے تھے تو اُن کو ایک ایک دِینار مِلا۔
10جب پہلے مزدُور آئے تو اُنہوں نے یہ سَمَجھا کہ ہم کو زیادہ مِلے گا تو اُن کو بھی ایک ہی ایک دِینار مِلا۔
11جب مِلا تو گھر کے مالِک سے یہ کہہ کر شِکایت کرنے لگے کہ
12اِن پِچھلوں نے ایک ہی گھنٹہ کام کِیا ہے اور تُونے اِن کو ہمارے برابر کردِیا جِنہوں نے دِن بھر کا بوجھ اُٹھایا اور سخت دھُوپ سہی۔
13اُس نے جواب دے کر اُن میں سے ایک سے کہا مِیاں میں تیرے ساتھ بے اِنصافی نہِیں کرتا۔ کیا تیرا مُجھ سے ایک دِینار نہِیں ٹھہرا تھا؟
14جو تیرا ہے اُٹھا لے اور چلا جا۔ میری مرضی یہ ہے کہ جِتنا تُجھے دیتا ہُوں اِس پِچھلے کو بھی اُتنا ہی دُوں۔
15کیا مُجھے روا نہِیں کہ اپنے مال سے جو چاہُوں سو کرُوں؟ یا تُو اِس لِئے کہ مَیں نیک ہُوں بُری نظر سے دیکھتا ہے؟
16اِسی طرح آخِر اوّل ہوجائیں گے اور اوّل آخِر۔
17اور یروشلِیم جاتے ہُوئے یِسُوع بارہ شاگِردوں کو الگ لے گیا اور راہ میں اُن سے کہا۔
18دیکھو ہم یروشلِیم کو جاتے ہیں اور اِبنِ آدم سَردارکاہِنوں اور فقِیہوں کے حوالہ کِیا جائے گا۔ اور وہ اُس کے قتل کا حُکم دیں گے۔
19اور اُسے غَیر قَوموں کے حوالہ کریں گے تاکہ وہ اُسے ٹھٹھّوں میں اُڑائیں اور کوڑے ماریں اور صلیب پر چڑھائیں اور وہ تِیسرے دِن زِندہ کِیا جائے گا۔
20اُس وقت زبدی کے بَیٹوں کی ماں نے اپنے بَیٹوں کے ساتھ اُس کے سامنے آ کر سِجدہ کِیا اور اُس سے کُچھ عرض کرنے لگی۔
21اُس نے اُس سے کہا کہ تُو کیا چاہتی ہے؟ اُس نے اُس سے کہا فرما کہ یہ میرے دونوں بَیٹے تیری بادشاہی میں ایک تیری دہنی اور ایک تیری بائیں طرف بَیٹھیں۔
22یِسُوع نے جواب میں کہا تُم نہِیں جانتے کہ کیا مانگتے ہو۔ جو پیالہ میں پِینے کو ہُوں کیا تُم پی سکتے ہو؟ اُنہوں نے اُس سے کہا پی سکتے ہیں۔
23اُس نے اُن سے کہا میرا پیالہ تو پِیو گے لیکِن اپنے دہنے بائیں کِسی کو بِٹھانا میرا کام نہِیں مگر جِن کے لِئے میرے باپ کی طرف سے تیّار کِیا گیا اُن ہی کے لِئے ہے۔
24اور جب دسوں نے یہ سُنا تو اُن دونوں بھائِیوں سے خفا ہُوئے۔
25مگر یِسُوع نے اُنہِیں پاس بُلا کر کہا تُم جانتے ہو کہ غَیر قَوموں کے سَردار اُن پر حُکُومت چلاتے اور اِمیر اُن پر اِختیّار جتاتے ہیں۔
26تُم میں اَیسا نہ ہوگا۔ بلکہ جو تُم میں بڑا ہونا چاہے وہ تُمہارا خادِم بنے۔
27اور جو تُم میں اوّل ہونا چاہے وہ تُمہارا غُلام بنے۔
28چُنانچہ اِبنِ آدم اِس لِئے نہِیں آیا کہ خِدمت لے بلکہ اِس لِئے کہ خِدمت کرے اور اپنی جان بہُتیروں کے بدلے فِدیہ میں دے۔
29اور جب وہ یریحو سے نِکل رہے تھے ایک بڑی بھِیڑ اُس کے پِیچھے ہولی۔
30اور دیکھو دو اندھوں نے جو راہ کے کِنارے بَیٹھے تھے یہ سُن کر کہ یِسُوع جا رہا ہے چِلّا کر کہا اَے خُداوند اِبنِ داؤد ہم پر رحم کر۔
31لوگوں نے اُنہِیں ڈانٹا کہ چُپ رہیں۔ لیکِن وہ اور بھی چِلّا کر کہنے لگے اَے خُداوند اِبنِ داؤد ہم پر رحم کر۔
32یِسُوع نے کھڑے ہوکر اُنہِیں بُلایا اور کہا تُم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تُمہارے لِئے کرُوں؟
33اُنہوں نے اُس سے کہا اَے خُداوند۔ یہ کہ ہماری آنکھیں کھُل جائیں۔
34یِسُوع کو ترس آیا اور اُس نے اُن کی آنکھوں کو چھُؤا۔ اور وہ فوراً بِینا ہو گئے اور اُس کے پِیچھے ہو لِئے۔