Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1خَبردار اپنے راستبازی کے کام آدمِیوں کے سامنے دِکھانے کے لِئے نہ کرو۔ نہِیں تو تُمہارے باپ کے پاس جو آسمان پر ہے تُمہارے لِئے کُچھ اجر نہِیں ہے۔
2پَس جب تُو خیرات کرے تو اپنے آگے نرسِنگا نہ بجوا جَیسا رِیاکار عِبادت خانوں اور کُوچوں میں کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کی بڑائی کریں۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
3بلکہ جب تُو خیرات کرے تو جو تیرا دہنا ہاتھ کرتا ہے اُسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے۔
4تاکہ تیری خیرات پوشِیدہ رہے۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
5اور جب تُم دُعا کرو تو رِیاکاروں کی مانِند نہ بنو کِیُونکہ وہ عباتخانوں میں اور بازاروں کے موڑوں پر کھڑے ہوکر دُعا کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو دیکھیں۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
6بلکہ جب تُو دُعا کرے تو اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے جو پوشِیدگی میں ہے دُعا کر۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
7اور دُعا کرتے وقت غَیر قَوموں کے لوگوں کی طرح بک بک نہ کرو کِیُونکہ وہ سَمَجھتے ہیں کہ ہمارے بہُت بولنے کے سبب سے ہماری سُنی جائے گی۔
8پَس اُن کی مانِند نہ بنو کِیُونکہ تُمہارا باپ تُمہارے مانگنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ تُم کِن کِن چِیزوں کے مُحتاج ہو۔
9پَس تُم اِس طرح دُعا کِیا کرو کہ اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے۔ تیرا نام پاک مانا جائے۔
10تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جَیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے زمِین پر بھی ہو۔
11ہمارے روز کی روٹی آج ہمیں دے۔
12اور جِس طرح ہم نے اپنے قرضداروں کو مُعاف کِیا ہے تُو بھی ہمارے قرض ہمیں مُعاف کر۔
13اور ہمیں آزمایش میں نہ لا بلکہ بُرائی سے بَچا [کِیُونکہ بادشاہی اور قُدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمین]
14اِس لِئے کہ اگر تُم آدمِیوں کے قُصُور مُعاف کرو گے تو تُمہارا آسمانی باپ بھی تُم کو مُعاف کرے گا۔
15اور اگر تُم آدمِیوں کے قُصُور مُعاف نہ کرو گے تو تُمہارا باپ بھی تُمہارے قُصُور مُعاف نہ کرے گا۔
16اور جب تُم روزہ رکھّو تو رِیاکاروں کی طرح اپنی صُورت اُداس نہ بناؤ کِیُونکہ وہ اپنا مُنہ بِگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
17بلکہ جب تُو روزہ رکھّے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور مُنہ دھو۔
18تاکہ آدمِی نہِیں بلکہ تیرا باپ جو پوشِیدگی میں ہے تُجھے روزہ دار جانے۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
19اپنے واسطے زمِین پر مال جمع نہ کرو جہاں کِیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔
20بلکہ اپنے لِئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کِیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔
21کِیُونکہ جہاں تیرا مال ہے وَہیں تیرا دِل بھی لگا رہے گا۔
22بدن کا چراغ آنکھ ہے۔ پَس اگر تیری آنکھ درُست ہو تو تیرا سارا بَدَن روشن ہوگا۔
23اور اگر تیری آنکھ خراب ہو تو تیرا سارا بَدَن تارِیک ہو گا۔ پَس اگر وہ روشنی جو تُجھ میں ہے تارِیک�� ہو تو تارِیکی کَیسی بڑی ہوگی۔
24کوئی آدمِی دو مالِکوں کی خِدمت نہِیں کر سکتا کِیُونکہ یا تو ایک سے عَداوَت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت۔ یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہِیں کرسکتے۔
25اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پیئیں گے؟ اور نہ اپنے بَدَن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بَدَن پوشاک سے بڑھ کر نہِیں؟
26ہوا کے پرِندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کوٹھِیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تُمہارا آسمانی باپ اُن کو کھِلاتا ہے۔ کیا تُم اُن سے زیادہ قدر نہِیں رکھتے؟
27تُم میں اَیسا کون ہے جو فِکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟
28اور پوشاک کے لِئے کِیُوں فِکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے دَرختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کِس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں۔
29تو بھی مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان وشوکت کے اُن میں سے کِسی کی مانِند مُلبّس نہ تھا۔
30پَس جب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنُور میں جھونکی جائے گی اَیسی پوشاک پہناتا ہے تو اَے کم اِعتِقادو تُم کو کِیُوں نہ پہنائے گا؟
31اِس لِئے فِکرمند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پیئیں گے یا کیا پہنیں گے؟
32کِیُونکہ اِن سب چِیزوں کی تلاش میں غَیر قَومیں رہتی ہیں اور تُمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تُم اِن سب چِیزوں کے مُحتاج ہو۔
33بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُصکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چِیزیں بھی تُم کو مِل جائیں گی۔
34پَس کل کے لِئے فِکر نہ کرو کِیُونکہ کل کا دِن اپنے لِئے آپ فِکر کرلے گا۔ آج کے لِئے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔