Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1تو شریروں پر رشک نہ کرنا اور اُنکی صحبت کی خواہش نہ رکھنا
2کیونکہ اُنکے دِل ظلم کی فکر کرتے ہیں اور اُنکے لب شرارت کا چرچا۔
3حکمت سے گھر تعمیر کیا جٓاتا ہے اور فہم سے اُسکوقیام ہوتا ہے۔
4اور علم کے وسیلہ سے کوٹھریاں نفیس ولطیف مال سے معمور کی جٓاتی ہیں۔
5دانا آدمی زور آور ہے بلکہ صاحب علم کا زور بڑھتا رہتا ہے
6کیونکہ تو نیک صلاح لیکر جنگ کرسکتا ہےاور صلاح کاروں کی کثرت میں سلامتی ہے۔
7حکمت احمق کے لئے بہت بلند ہے۔وہ پھاٹک پر منہ نہیں کھول سکتا ۔
8جو بدی کے منصوبے باندھتا ہے فتنہ انگیز کہلایئگا۔
9حمایت کا منصوبہ بھی گناہ ہے اور ٹھٹھاکرنے والے سے لوگوں کو نفرت ہے۔
10اگر تومصیبت کے دِن بیدِل ہو جٓائے تو تیری طاقت بہت کم ہے۔
11جو قتل کے لئے گھسیٹےجٓاتے ہیں اُنکو چھڑا۔جو مارے جٓانے کو ہیں اُنکو حوالہ نہ کر۔
12اگر توکہے دیکھوہمکویہ معلوم نہ تھاتو کیا دِلوں کوجٓانچنے والا یہ نہیں سمجھتا؟اور کیا تیری جٓان کا نگہبان یہ نہیں جٓانتا؟اور کیا وہ ہر شخص کو اُسکے کام کے مطابق اجر نہ دیگا؟
13اَے میرے بیٹے !تو شہد کھا کیونکہ وہ اچھا ہے اور شہد کا چھتا بھی کیونکہ وہ مجھے میٹھا لگتا ہے۔
14حکمت بھی تیری جٓان کے لئے اَیسی ہی ہوگی۔اگر وہ تجھے مل جٓائے تو تیرے لئے اجر ہوگااور تیری آس نہیں ٹوٹیگی ۔
15اَے شریر تو صادق کے گھر کی گھات میں نہ بیٹھنا اُسکی آرامگاہ کو غارت نہ کرنا۔
16کیونکہ صادق سات بار گرتا ہے اور پھر اُٹھ کھڑا ہوتا ہے لیکن شریر بلا میں گرکر پڑاہی رہتا ہے۔
17جب تیرا دشمن گر پڑے تو خوشی نہ کرنا اور جب وہ پچھاڑکھائے تو دلشاد نہ ہونا
18مبادا خداوند اِسے دیکھکر ناراض ہو اور اپنا قہر اُس پر سے اُٹھا لے۔
19تو بد کرداروں کے سبب سے بی نہ ہونا اور شریر پر رشک نہ کر۔
20کیونکہ بد کردار کے لئے کچھ اجر نہیں۔شریروں کا چراغ بجھادِیا جٓائیگا۔
21اَے میرے بیٹے!خداوند سے اور بادشاہ سے ڈر اور مفسدوں کے ساتھ صحبت نہ رکھ
22کیونکہ اُن پر ناگہان آفت آیئگی اور اُن دونوں کی طرف سے آنے والی ہلاکت کوکون جٓانتا ہے؟
23یہ بھی داناوں کے اقوال ہیں۔ عدالت میں طرفداری کرنااچھا نہیں۔
24جو شریر سے کہتا ہے تو صادق لوگ اُس پر لعنت کر ینگے اور اُمتیں اُس سے نفرت رکھینگی ۔
25لیکن جو اُسکو ڈانٹتے ہیں خوش ہو نگے اور اُنکو بڑی برکت ملیگی ۔
26جو حق بات کہتا ہے لبوں پر بوسہ دیتا ہے۔
27اپنا کام باہر تیار کر۔اُسے اپنے لئے کھیت میں دُرست کر لے اور اُسکے بعد اپنا گھر بنا۔
28بے سبب اپنے ہمسایہ کے خلاف گواہی نہ دینا اور اور اپنے لبوں سے فریب نہ دینا۔
29یوں نہ کہہ میں اُس نے مجھ سے کیا۔میں اُس آدمی سے اُسکے کام کے مطابق سلوک کرونگا۔
30میں کاہل کے کھیت کے اور بے عقل کے تاکستان کے پاس سے گذرا
31اور دیکھووہ سب کا سب کانٹوں سے بھرا تھا اور بچھوبوٹی سے ڈھکا تھااور اُسکی سنگین دیوار گرائی گئی تھی۔
32تب میں نے دیکھ اور اُس پر خوب غور کیا۔ہاں میں نے اُس پر نگاہ کی اور عبرت پائی ۔
33تھوڑی سی نیند ۔ایک اور جھپکی ۔ذرا پڑے رہنے کو ہاتھ پر ہاتھ ۔
34اِسی طرح تیری مفلسی راہزن کی طرح اور رتیری تنگدستی مسلح آدمی کی طرح آپڑیگی۔