Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
23 verses
1اَے خُدا تُو نے ہم کو ہمیشہ کے لئے کیوں ترک کر دیا ؟ تیری چراگاہ کی بھیڑوں پر تیرا قہر کیوں بھڑک رہا ہے؟
2اپنی جماعت کو جِسے تُو نے قدیم سے خریدا ہے جِسکا تُو نے فِدیہ دیا تاکہ تیری میراث کا قبیلہ ہو اور کوہِ صیِؔون کو جِس پر تُو نے سکونت کی ہے یاد کر۔
3اپنے قدم دائمی کھنڈروں کی طرف بڑھا یعنی اۃُن سب خرابیوں کی طرف جو دُشمن نے مقدِس میں کی ہٰں۔
4تیرے مجمع میں تیرے مخالِف گرجتَے ہیں نِشان کے لئے اُنہوں نے اپنے ہی جھنڈے کھڑے کئے ہیں۔
5وہ اُن آدمیوں کی مانند ہیں جو گُنجان درختوں پر کُلہاڑے چلاتے ہیں۔
6اور اب وہ اُسکی ساری نقش کاری کو کُلہاڑی اور ہتھوڑوں سے بِالکُل توڑ ڈالتے ہیں۔
7اُنہوں نے تیرے مقدِس میں آگ لگا دی ہے۔ اور تیرے نام کے مسکن کو زمین تک مِسمار کر کے ناپاک کیا ہے۔
8اُنہوں نے اپنے دِل میں کہا ہے ہم اُن کو بِالکُل ویران کر ڈالیں اُنہوں نے اِس مُلک میں خُدا کے سب عبادت خانوں کو جلا دیا ہے۔
9ہمارے نِشان نظر نہیں آتے اور کوئے نبی نہیں رہا اور ہم میں کوئی نہیں جانتا کہ یہ حال کب تک رہے گا۔
10اَے خُدا! مُخالف کب تک طعنہ زنی کرتا رہیگا؟ کیا دُشمن ہمیشہ تیرے نام پر کُفر بکتا رہے گا؟
11تُو اپنا ہاتھ کیوں روکتا ہےب؟ اپنا دہنا ہاتھ بغل سے نِکال اور فنا کر۔
12خُدا قدیم سے میرا بادشاہ ہے جو زمین پر نجات بخشتا ہے۔
13تُو نے اپنی قُدرت سے سمُندر کے دو حصے کر دیے۔تُو پانی میں اژدہاؤں کے سر کُچلتا ہے ۔
14تُو نے لِویوتان کے سر کے ٹُکڑے کئے۔اور اُسے بیابان کے رہنے والوں کی خُوراک بنایا۔
15تُو نے چشمے اور سیلاب جاری کئے۔ تُو نے بڑے بڑے دریاؤں کو خُشک کر ڈالا۔
16دِن تیرا ہے ۔ رات بھی تیری ہے۔نُور اور آفتاب کو تو ہی نے تیار کیا۔
17زمین کی تمام حدُود تُو ہی نے ٹھہرائی ہیں۔گرمی اور سردی کے موسم تُو ہی نے بنائے۔
18اَے خُداوند ! اِسے یاد رکھ کہ دُشمن نے طعنہ زنی کی ہے۔اور بیوُقُوف قَوم نے تیرے نام کی تکفیر کی ہے۔
19اپنی فاختہ کی جان کو جنگلی جانور کے حوالہ نہ کر اپنے غریبوں کی جان کو ہمیشہ کے لئے بھول نہ جا۔
20اپنے عہد کا خیال فرما۔ کیونکہ زمین کے تاریک مُقام ظُلم کے مسکنوں سے بھرے ہیں۔
21مظلُوم شرمندہ ہو کر نہ لوٹےَ۔غریب اور مُحتاج تیرے نام کی تعریف کریں۔
22اُٹھ اَے خُدا! آپ ہی اپنی وکالت کر۔ یاد کر کہ احمق دِن بھر تجھ پر کیَسی طعنہ زنی کرتا ہے ۔
23اپنے دُشمنوں کی آواز کو بھول نہ جا۔ تیرے مُخالفوں کا ہنگامہ برپا ہوتا رہتا ہے۔