Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
18 verses
1پھر اسکی ساس نعومی نے اس سے کہا میری بیٹی کیا میں تیرے آرام کی طالب نہ بنوں جس سے تیری بھلائی ہو ؟ ۔
2اور کیا بوعز ہمارا رشتہ دار نہیں جسکی چھوکریوں کے ساتھ تو تھی ؟ دیکھ وہ آج کی رات کھلیہان میں جو پھٹکیگا ۔
3سو تو نہا دھو کر خوشبو لگا اور اپنی پوشاک پہن اور کھلیہان کو جا اور جب تک وہ مرد کھا پی نہ چکے تب تک تو اپنی تئیں اس پر ظاہر نہ کرنا۔
4جب وہ لیٹ جائے تو اسکے لیٹنے کی جگہ کو دیکھ لینا تب تو اندر جا کر اسکے پاؤں کھول کر لیٹ جانا اور جو کچھ تجھ کو کرنا مناسب ہے وہ تجھ کو بتائیگا۔
5اس نے اپنی ساس سے کہا جو کچھ تو مجھ سے کہتی ہے میں کرونگی ۔
6سو وہ کھلیہان کو گئی اور جو کچھ اسکی ساس نے حکم دیا تھا وہ سب کیا۔
7اور جب بوعز کھا پی چکا اور اسکا دل خوش ہوا تو وہ غلے کے ڈھیر کے ایک طرف جا کر لیٹ گیا۔ تب وہ چپکے چپکے آئی اور اسکے پاؤں کھولکر لیٹ گئی ۔
8اور آدھی رات کو ایسا ہوا کہ وہ مرد ڈر گیا اور اس نے کروٹ لی اور دیکھا کہ ایک عورت اسکے پاؤں کے پاس پڑی ہے۔
9تب اس نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں تیری لونڈی روت ہوں ۔ سو تو اپنی لونڈی پر اپنا دامن پھیلا دے کیونکہ تو نزدیک کا قرابتی ہے۔
10اس نے کہا تو خداوند کی طرف سے مبارک ہو اے میری بیٹی تو نے شروع کی نسبت آخر میں زیادہ مہربانی کر دکھائی اس لیے کہ تو نے جوانوں کا خواہ امیر ہوں یا غریب پیچھا نہ کیا۔
11اب اے میری بیٹی مت ڈر ۔ میں سب کچھ جو تو کہتی ہے تجھ سے کرونگا کیونکہ میری قوم کا تمام شہر جانتا ہے کہ تو پاک دامن عورت ہے۔
12اور یہ سچ ہے کہ میں نزدیک کا قرابتی ہوں لیکن ایک اور بھی ہے جو قرابت میں مجھ سے زیادہ نزدیک ہے ۔
13اس رات تو ٹھہری رہ اور صبح کو اگر وہ قرابت کا حق ادا کرنا چاہے تو خیر وہ قرابت کا حق ادا کرے اور اگر وہ تیرے ساتھ قرابت کا حق ادا کرنا نہ چاہے تو زندہ خدا کی قسم میں تیرے ساتھ قرابت کا حق ادا کرونگا ۔ صبح تک تو تو لیٹی رہ۔
14سو وہ صبح تک اسکے پاؤں کے پاس لیٹی رہی اور پیشتر اس سے کہ کوئی ایک دوسرے کو پہچان سکے اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ اس نے کہہ دیا تھا کہ یہ ظاہر نہ ہونے پائے کہ کھلیہان میں یہ عورت آئی تھی۔
15پھر اس نے کہا اس چادر کو جو تیرے اوپر ہے لا اور تھامے رہ ۔ جب اس نے تھاما تو اس نے جو کے چھ پیمانہ ناپ کر اس پر لاد دئیے پھر وہ شہر کو چلا گیا۔
16جب وہ اپنی ساس کے پاس آئی تو اس نے کہا اے میری بیٹی تو کون ہے ؟ تب اس نے سب کچھ جو اس مرد نے اس کے ساتھ کیا تھا اسے بتایا ۔
17اور کہنے لگی کہ مجھ کو اس نے یہ چھ پیمانہ جو کے دئیے کیونکہ اس نے کہا کہ تو اپنی ساس کے پاس خالی ہاتھ نہ جا۔
18تب اس نے کہا اے میری بیٹی جب تک اس بات کے انجام کا تجھے پتا نہ لگے تو چپ چاپ بیٹھی رہ اس لیے کہ اس شخص کو چین نہ ملے گا جب تک وہ اس کام کو آج ہی تمام نہ کر لے۔