Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
53 verses
1اور داُود بادشاہ بُڈھا اور کُہن سال ہُوا اور وہ اُسے کپڑے اُڑھا تے پر وہ گرم نہ ہوتا تھا ۔
2سو اُس کے خادموں نے اُس سے کہا کہ ہمارے مالک بادشاہ کے لیے ایک جوان کنواری ڈھونڈی جائے جو بادشاہ کے حضور کھڑی رہے اور اُسکی خبرگیِری کیا کرے اور تیرے پہلو میں لِیٹ رہا کرے تاکہ ہمارے مالِک بادشاہ کو گرمی پہنچے۔
3چُنانچہ اُنہوں نے اسرائیل کی ساری مملکت میں ایک خوبصورت لڑکی تلاش کرتے کرتے شُونمیت ابی شاگ کو ہایا اور اُسے بادشاہ کے پاس لائے ۔
4اور وہ لڑکی بہت شِکیل تھی۔ سو وہ بادشاہ کی خبر گیری اور اُس کی خدمت کرنے لگی لیکن بادشاہ اُس سے واقف نہ ہُوا۔
5تب حجیت کے بیٹے ادونیاہ نے سر اُٹھایا اور کہنے لگا میں بادشاہ ہونگا اور اپنے لیے رتھ اور سوار اور پچاس آدمی جو اُس کے آگے آگے دوڑیں تیار کیے ۔
6اور اُس کے باپ نے اُسکو کبھی اتنا بھی کہہ کر آزردہ نہیں کِیا کہ تُو نے یہ کیوں کیا ہے؟ اور وہ بہت خوبصورت بھی تھا اور ابی سلوم کے بعد پیدا ہُوا تھا ۔
7اور اُس نے ضرویاہ کے بیٹے یوآب اور ابی یاتر کاہن سے گفتگو کی اور یہ دونوں ادونیاہ کے پیرو ہو کر اُس کی مدد کرنے لگے ۔
8لیکن صدوق کاہن اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ او ر ناتن نبی اور سمعی اور ریعی اور داود کے بہادر لوگوں نے ادونیاہ کا ساتھ نہ دیا ۔
9اور ادونیاہ نے بھیڑیں اور بیل اور موٹے موٹے جانور زحلت کے پتھر کے پاس جو عین راجل کے برابر ہے ذبح کئے اور اپنے سب بھائیوں یعنی جو بادشاہ کے مُلازم تھے دعوت کی ۔
10پر ناتن نبی اور بنایاہ اور بہادر لوگوں اور اپنے بھائی سلیمان کو نہ بُلایا ۔
11تب ناتن نے سلیمان کی ماں بت سبع سے کہا کیا تُو نے نہیں سُنا کہ حجیت کا بیٹا ادونیاہ بادشاہ بن بیٹھا ہے اور ہمارے مالک داود کو یہ معلوم نہیں ؟
12اب تُو آکہ میں تُجھے صلاح دوں تاکہ تُو اپنی اور اپنے بیٹے سلیمان کی جان بچا سکے۔
13تُو داود بادشاہ کے حضور جا کر اُس سے کہہ اے میرے مالک ! اے بادشاہ ! کیا تُو نے اپنی لونڈی سے قسم کھا کر نہیں کہا کہ یقینا تیرا بیٹا سلیمان میرے بعد سلطنت کرے گا اور وہی میرے تخت پر بیٹھےگا ؟ پس ادونیاہ کیوں بادشاہی کرتا ہے؟
14اور دیکھ تُو بادشاہ سے بات کرتی ہی ہو گی کہ مَیں بھی تیرے بعد آ پہنچونگا اور تیری باتوں کی تصدیق کرونگا۔
15سو بت سبع اندر کوٹھری میں بادشاہ کے پاس گئی اور بادشاہ بہت بُڈھا تھا اور شونمیت ابی شاگ بادشاہ کی خدمت کرتی تھی۔
16اور بت سبع نے جھُک کر بادشاہ کو سجدہ کیا ۔ بادشاہ نے کہا تُو کیا چاہتی ہے؟
17اُس نے اُس سے کہا اے میرے مالک ! تُو نے خداوند اپنے خدا کی قسم کھا کر اپنی لونڈی سے کہا تھا کہ یقینا تیرا بیٹا سلیمان میرے بعد سلطنت کرے گا اور وہی میرے تخت پر بیٹھے گا ۔
18پر دیکھ اب تو ادونیاہ بادشاہ بن بیٹھا ہے اور اے میرے مالک بادشاہ تُجھکو اِسکی خبر نہیں ۔
19اور اُس نے بہت سے بیل اور موٹے موٹے جانور اور بھیڑیں ذبح کی ہیں اور بادشاہ کے سب بیٹوں اور ابیاتر کاہن اور لشکر کے سردار ایوب کی دعوت کی ہے پر تیرے بندہ سلیمان کو اُس نے نہیں بُلایا ۔
20لیکن اے میرے مالک سارے اسرائیل کی نگاہ تُجھ پر ہے تاکہ تُو اُنکو بتائے کہ میر ے مالک بادشاہ کے تخت پر کون اُس کے بعد بیٹھے گا ۔
21ورنہ یہ ہو گا کہ جب میرا مالک بادشاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جائے گا تو میں اور میرا بیٹا سلیمان دونوں قصوروار ٹھہریںگے۔
22وہ ہنوز بادشاہ سے بات کر ہی رہی تھی کہ ناتن نبی آگیا ۔
23اور اُنہوں نے بادشاہ کو خبر دی کہ دیکھ ناتن نبی حاضر ہے اور جب وہ بادشاہ کے حضور آیا تو اُس نے منہ کے بل گِر کر بادشاہ کو سجدہ کیا۔
24اور ناتن کہنے لگا اے میرے مالک بادشاہ ! کیا تُو نے فرمایا ہے کہ میرے بعد ادونیاہ بادشاہ ہو اور وہی میرے تخت پر بیٹھے؟
25کیونکہ اُس نے آج جا کر بیل اور موٹے موٹے جانور اور بھیڑیں کثرت سے ذبح کی ہیں اور بادشاہ کے سب بیٹوں اور لشکر کے سرداروں اور ابیاتر کاہن کی دعوت کی ہے اور دیکھ وہ اُس کے حضور کھا پی رہے ہیں اور کہتے ہیں ادونیاہ بادشاہ جیتا رہے !۔
26پر مجھ تیرے خادم کو اور صدوق کاہن اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ اور تیرے خادم سلیمان کو اُس نے نہیں بُلایا ۔
27کیا یہ بات میرے مالک بادشاہ کی طرف سے ہے ؟ اور تُو نے اپنے خادموں کو بتایا بھی نہیں کہ میرے مالک بادشاہ کے بعد اُس کے تخت پر کون بیٹھےگا۔
28تب داود بادشاہ نے جواب دیا اور فرمایا کہ بت سبع کو میرے پاس لاو۔ سو وہ بادشاہ کے حضور آئی اور بادشاہ کے سامنے کھڑی ہوئی۔
29بادشاہ نے قسم کھا کر کہا خداوند کی حیات کی قسم جس نے میری جان کو ہر طرح کی آفت سے رہائی دی۔
30کہ سچ مُچ جیسی میں نے خداوند اسرائیل کے خدا کی قسم تُجھ سے کھائی اور کہا کہ یقینا تیرا بیٹا سلیمان میرے بعد بادشاہ ہو گا اور وہی میری جگہ میرے تخت پر بیٹھےگا سو سچ مُچ میں آج کے دن ویسا ہی کرونگا۔
31تب بت سبع زمین پر منہ کے بل گِری اور بادشاہ کو سجدہ کر کے کہا کہ میرا مالک داود بادشاہ ہمیشہ جیتا رہے۔
32اور داود بادشاہ نے فرمایا کہ صدوق کاہن اور ناتن نبی اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو میرے پاس لاو ۔ سو وہ بادشاہ کے حضور آئے۔
33بادشاہ نے اُسکو فرمایا کہ تُم اپنے مالک کے مُلازموں کو اپنے ساتھ لو اور میرے بیٹے سلیمان کو میرے ہی خچر پر سوار کر او اور اُسے حجیون کو لے جاو ۔
34اور وہاں صدوق کاہن اور ناتن نبی اُسے مسح کریں کہ وہ اسرائیل کا بادشاہ کو اور تُم نرسنگا پھُونکنا اور کہنا سلیمان بادشاہ جیتا رہے ۔
35پھر تُم اُس کے پیچھے پیچھے چلے آنا اور وہ آکر میرے تخت پر بیٹھے کیونکہ وہی میری جگہ بادشاہ ہو گا اور میں نے اُسے مقرر کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور یہودہ کا حاکم ہو ۔
36ےب یہویدع کے بیٹے بنایاہ نے بادشاہ کے جواب میں کہا آمین ۔ خداوند میرے مالک بادشاہ کا خُدا بھی ایسا ہی کہے ۔
37جیسے خُداوند میرے مالک بادشاہ کے ساتھ رہا ویسے ہی وہ سلیمان کے ساتھ رہے اور اُس کے ٹکے کو میرے مالک داود بادشاہ سے بڑا بنائے۔
38پس صدوق کاہن اور ناتن نبی اور یہویدع کا بیٹا بنایاہ اور کریتی اور فلیتی گئے اور سلیمان کو داود بادشاہ کے خچر پر سوار کرایا اور اُسے حجیون پر لائے۔
39اور صدوق کاہن نے خیمہ سے تیل کا سینگ لیا اور سلیمان کو مسح کیا اور اُنہوں نے نرسنگا پھُونکا اور سب لوگوں نے اُسے کہا سلیمان بادشاہ جیتا رہے ۔
40اور سب لوگ اُس کے پیچھے پیچھے آئے اور اُنہوں نے بانسلیاں بجائیں اور بڑی خُوشی منائی ایسا کہ زمین اُنکے شور و غُل سے گونج اُٹھی ۔
41اور ادونیاہ اور اُس کے سب مہمان جو اُس کے ساتھ تھے کھا چُکے تھے کہ اُنہوں نے یہ سُنا اور جب یوآب کو نرسنگے کی آواز سُنائی دی تو اُس نے کہا کہ شہر میں یہ ہنگامہ اور شور کیوں مچ رہا ہے ؟
42وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ابیاتر کاہن کا بیٹا یونتن آیا اور ادونیاہ نے اُس نے کہا بھیتر آ کیونکہ تُو لائق شخص ہے اور اچھی خبر لایا ہو گا ۔
43یونتن نے ادونیاہ کو جواب دیا کہ واقعی ہمارے مالک داود بادشاہ نے سلیمان کو بادشاہ بنا دیا ہے ۔
44اور بادشاہ نے صدوق کاہن اور ناتن نبی اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ اور کریتیوں اور فلیتیوں کو اُس کے ساتھ بھیجا سو اُنہو ں نے بادشاہ کے خچر پر اُسے سوار کرایا۔
45اور صدوق کاہن اور ناتن نبی نے حجیون پر اُس کو مسح کر کے بادشاہ بنایا ہے ۔ وہ وہ وہیں سے خوشی کرتے آئے ہیں ایسا کہ شہر گونج گیا۔ وہ شور جو تُم نے سُنا یہی ہے ۔
46اور سلیمان تخت سلطنت پر بیٹھ بھی گیا ہے ۔
47ماسِوا اِسکے بادشاہ کے مُلازم ہمارے مالک داود بادشاہ کو مبارکباد دینےآئے اور کہنے لگے کہ تیرا خدا سلیمان کے نام کو تیرے نام سے زیادہ ممتاز کرے اور اُس کے تخت کو تیرے تخت سے بڑا بنائے اور بادشاہ اپنے بستر پر سرنگون ہو گیا ۔
48اور بادشاہ نے بھی یوں فرمایا کہ خداوند اسرائیل کا خُدا مُبارک ہو جس نے ایک وارث بخشا کہ وہ میری ہی آنکھوں کے دیکھتے ہوئے آج میرے تخت پر بیٹھے۔
49پھر تو ادونیاہ کے سب مہمان ڈر گئے اور اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہر ایک نے اپنا راستہ لیا۔
50اور ادونیاہ سلیمان کے سبب سے ڈر کے مارے اُٹھا اور جا کر مذبح کے سینگ پکڑ لیے ۔
51اور سلیمان کو یہ بتایا گیا کہ دیکھ ادونیاہ سلیمان بادشاہ سے ڈرتا ہے کیونکہ اُس نے مذبح کے سینگ پکڑ رکھے ہیں اور کہتا ہے کہ سلیمان بادشاہ آج کے دن مجھ سے قسم کھائے کہ وہ اپنے خادم کو تلوار سے قتل نہیں کرےگا۔
52سلیمان نے کہا اگر وہ اپنے لائق ثابت کرے تو اُسکا ایک بال بھی زمین پر نہیں گِریگا پر اگر اُس میں شرارت پائی جائیگی تو وہ مارا جائےگا۔
53سو سلیمان بادشاہ نے لوگ بھیجے اور وہ اُس ے مذبح پر سے اُتار لائے۔ اُس نے آکر سلیمان بادشاہ کو سجدہ کیا اور سلیمان نے اُس سے کہا اپنے گھر جا ۔