Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
45 verses
1اور داود کے مرنے کے دن نزدیک آئے ۔ سو اُس نے اپنے بیٹے سلیمان کو وصیت کی اور کہا کہ۔
2میں اُسی راستہ جانے والا ہوں جو سارے جہان کا ہے ۔ اِس لیے تُو مضبوط ہو اور مردانگی دکھا۔
3اور جو موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے اُسکے مطابق خداوند اپنے خُدا کی ہدایت کو مانکر اُسکی راہوں پر چل اور اُسکے آئین پر اور اُس کے فرمانوں اور حُکموں اور شہادتوں پر عمل کر تاکہ جو کچھ تُو کرے اور جہاں کہیں تُو جائے سب میں تُجھے کامیابی ہو۔
4اور خُداوند اپنی اُس بات کو قائم رکھے جو اُس نے میرے حق میں کہی کہ اگر تیری اولاد اپنے طریق کی حفاظت کر کے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے میرے حضور راستی سے چلے تو اسرائیل کے تخت پر تیرے ہاں آدمی کی کمی نہ ہو گی۔
5اور تُو آپ کانتا ہے کہ ضرویاہ کے بیٹے یوآب نے مجھ سے کیا کیا کِیا یعنی اُس نے اسرائیلی لشکر کے دو سرداروں نیر کے بیٹے ابنیر اور یتر کے بیٹے عماسا سے کیا کِیا جنکو اُس نے قتل کِیا اور صلح کے وقت خون ِ جنگ بہایا اور خُونِ جنگ کو اپنے پٹکے پر جو اُسکی کمر میں بندھا تھا اور اپنی جُوتیوں پر جو اُسکے پاوں میں تھیں لگایا۔
6سو تُواپنی حکمت سے کام لینا اور اُسکے سفید سر کو قبر میں سلامت اُترنے نہ دینا ۔7 پر برزلی جلعادی کے بیٹوں پر مہربانی کرنا اور وہ اُن میں شامل ہوں جو تیرے درسترخوان پر کھانا کھایا کریں گے کیونکہ وہ ایسا ہی کرنے کو میرے پاس آئے جب میں تیرے بھائی ابی سلوم کے سبب سے بھاگا تھا ۔
8اور دیکھ بینمینی جیرا کا بیٹا بحوریمی سمعی تیرے ساتھ ہے جس نے اُس دن جب کہ میں محنایم کو جاتا تھا بہت بُری طرح مجھ پر لعنت کی پر وہ یردن پر مجھ سے مِلنے کو آیا اور میں نے خُداوند کی قسم کھا کر اُس سے کہا کہ میں تُجھے تلوار سے قتل نہیں کرونگا۔
9سو تُو اُسکو بے گناہ نہ ٹھہرانا کیونکہ تُو عاقل مرد ہے اور تُو جانتا ہے کہ تُجھے اُس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے ۔ پس تُو اُسکا سفید سر لہولہان کر کے قبر میں اُتارنا۔
10اور داود اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داود کے شہر میں دفن ہوا ۔
11اور کُل مدت جس میں داود نے اسرائیل پر سلطنت کی چالیس برس کی تھی ۔ سات برس تو اُس نے حبرون میں سلطنت کی اور تینتیس برس یروشیلم میں ۔
12اور سلیمان اپنے باپ داود کے تخت پر بیٹھا اور اُسکی سلطنت نہایت مستحکم ہوئی۔
13تب حجیت کا بیٹا ادونیاہ سلیمان کی ماں بت سبع کے پاس آیا ۔ اُس نے پُوچھا تُو صلح کے خیال سے آیا ہے؟ اُس نے کہا صلح کے خیال سے ۔
14پھر اُس نے کہا مجھے تُجھ سے کچھ کہنا ہے ۔ اُس نے کہا کہہ ۔
15اُس نے کہا تُو جانتی ہے کہ سلطنت میری تھی اور سب اسرائیلی میری طرف متوجہ تھے کہ میں سلطنت کروں لیکن سلطنت پلٹ گئی اور میرے بھائی کی ہو گئی کیونکہ خُداوند کی طرف سے یہ اُسی کی تھی ۔
16سو میری تُجھ سے ایک درخواست ہے ۔ نا منظور نہ کر ۔ اُس نے کہا بیان کر ۔
17اُس نے کہا ذرا سلیمان بادشاہ سے کہہ کیونکہ وہ تیری بات کو نہیں ٹلیگا کہ ابی شاگ شونمیت کو مجھے بیاہ دے ۔
18بت سبع نے کہا اچھا میں تیرے لیے بادشاہ سے عرض کرونگی ۔
19پس بت سبع سلیمان بادشاہ کے پاس گئی تاکہ اُس سے ادونیاہ کے لیے عرض کرے۔ بادشاہ اُسکے استقبال کے واسطے اُٹھا اور اُس کے سامنے جھُکا ۔ پِھر اپنے تخت پر بیٹھا اور اُس نے بادشاہ کی ماں کے لیے ایک تخت لگوایا۔ سو وہ اُسکے دہنے ہاتھ بیٹھی ۔
20اور کہنے لگی میری تُجھ سے ایک چھوٹی سی درخواست ہے ۔ تُو مجھ سے اِنکار نہ کرنا ۔ بادشاہ نے اُس سے کہا اے میری ماں ! اِرشاد فرما مجھے تُجھ سے اِنکار نہ ہو گا ۔
21اُس نے کہا ابی شاگ شونمیت تیرے بھائی ادونیاہ کو بیاہ دی جائے۔
22سلیمان بادشاہ نے اپنی ماں کو جواب دیا کہ تُو ابی شاگ شونمیت ہی کو ادونیاہ کے لیے کیوں مانگتی ہے؟ اُس کے لیے سلطنت بھی مانگ کیونکہ وہ تو میرا بڑا بھائی ہے بلکہ اُسی کے لیے کیا ابیاتر کاہن اور ضرویاہ کے بیٹے یوآب کے لیے بھی مانگ۔
23تب سلیمان بادشاہ نے خُداوندکی قسم کھائی اور کہا کہ اگر ادونیاہ نے یہ بات اپنی ہی جان کے خلاف نہیں کہی تو خُدا مجھ سے ایسا ہی بلکہ اِس سے بھی زیادہ کرے۔
24سو اب خداوند کی حیات کی قسم جس نے مجھ کو قیا م بخشا اور مجھ کو میرے باپ داود کے تخت پر بٹھایا اور میرے لیے اپنے وعدہ کے مطابق ایک گھر بنایا یقینا ادونیاہ آج ہی قتل کیا جائے گا ۔
25اور سلیمان بادشاہ نے یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو بھیجا ۔ اُس نے اُس پر ایسا وار کیا کہ وہ مرگیا۔
26پھر بادشاہ نے ابیاتر کاہن سے کہا تُو عنتوت کو اپنے کھیتوں میں چلا جا کیونکہ تُو واجب القتل ہے پر میں اِس وقت تُجھ کو قتل نہیں کرتا کیونکہ تُو میرے باپ داود کے سامنے خداوند یہوواہ کا صندوق اُٹھایا کرتا تھا اور جو جو مصیبت میرے باپ پر آئی وہ تُجھ پر بھی آئی۔
27سو سلیمان نے ابیاتر کو خُداوند کے کاہن کے عہدہ سے برطرف کیا تاکہ وہ خُداوند کے اُس قول کوپُورا کرے جو اُس نے سَیلا میں عیلی کے گھرانے کے حق میں کہا تھا ۔
28اور یہ خبر یوآب تک پہنچی کیونکہ یوآب ادونیاہ کا تو پیرو ہو گیا تھا گو وہ ابی سلوم کا پیرو نہیں ہُوا تھا ۔ سو یوآب خُداوند کے خیمہ کو بھاگ گیا اور مذبح کے سینگ پکڑ لیے۔
29اور سلیمان بادشاہ کو خبر ہوئی کہ یوآب خُداوند کے خیمہ کو بھاگ گیا ہے او ر دیکھ وہ مذبح کے پاس ہے ۔ تب سلیمان نے یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جا کر اُس پر وار کر۔
30سو بنایاہ خُداوند کے خیمہ کو گیا اور اُس نے اُس سے کہا بادشاہ یوں فرماتا ہے کہ تُو باہر نکل آ۔ اُس نے کہا نہیں بلکہ میں یہیں مرونگا۔ تب بنایاہ نے لَوٹ کر بادشاہ کو خبر دی کہ یوآب نے یوں کہا ہے او ر اُس نے مجھے یوں جواب دیا۔
31تب بادشاہ نے اُس سے کہا جیسا اُس نے کہا ویسا ہی کر اور اُس پر وار کر اور اُسے دفن کر دے تاکہ تُو اُس خون کو جو یوآب نے بے سبب بہایا مُجھ پر سے اور میرے باپ کے گھر پر سے دُور کر دے ۔
32اور خُداوند اُسکا خُون اُلٹا اُسی کے سر پر لائیگا کیونکہ اُس نے دو شخصوں پر جو اُس سے زیادہ راستباز اور اچھے تھے یعنی نیر کے بیٹے ابنیر پر جو اسرائیلی لشکر کا سردار تھا اور یتر کے بیٹے عماسا پر کو یہوداہ کی فوج کا سردار تھا وار کیا اور اُنکو تلوار سے قتل کیا اور میرے باپ دادا کو معلوم نہ تھا ۔
33سو اُنکا خُون یوآب کے سر پر اور اُسکی نسل کے سر پر ابد تک رہےگا لیکن داود پر اور اُسکی نسل کے سر پر اور اُسکے گھرپر اور اُس کے تخت پر ابد تک خُداوند کی طرف سے سلامتی ہوگی ۔
34تب یہویدع کا بیٹا بنایاہ گیا اور اپس نے اُس پر وار کر کے اُسے قتل کیا اور وہ بیابان کے بیچ اپنے ہی گھر میں دفن ہُوا۔
35اور بادشاہ نے یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو اُسکی جگہ لشکر پر مقرر کیا اور صدوق کاہن کو بادشاہ نے ابیاتر کی جگہ رکھا۔
36پھر بادشاہ نے سمعی کو بُلا بھیجا اور اُس سے کہا کہ یروشلیم میں اپنے لیے ایک گھر بنا لے اور وہیں رہ اور وہاں سے کہیں نہ جانا ۔
37کیونکہ جس دن تُو باہر نکلےگا اور نہرِ قدرون کے پار جائےگا تو یقینا جان لے کہ تُو ضرور مارا جائےگا اور تیرا خُون تیرے ہی سر پر ہو گا ۔
38اور سمعی نے بادشاہ سے کہا یہ بات اچھی ہے ۔ جیسا میرے مالک بادشاہ نے کہا ہے تیرا خادم ویسا ہی کرے گا۔ سو سمعی بہت دنوں تک یروشلیم میں رہا ۔
39اور تین برس کے آخر میں ایسا ہُوا کہ سمعی کے نوکروں میں سے دو آدمی جات کے بادشاہ اکیس بن معکاہ کے ہاں بگا گئے اور اُنہوں نے سمعی کو بتایا کہ دیکھ تیرے نوکر جات میں ہیں ۔
40سو سمعی نے اُٹھ کر اپنے گدھے پر زین کسا اور اپنے نوکروں کی تلاش میں جات کو اکِیس کے پاس گیا اور سمعی جا کر اپنے نوکروں کو جات سے لے آیا ۔
41اور یہ خبر سلیمان کو مِلی کہ سمعی یروشلیم سے جات کو گیا تھا اورواپس آ گیا ہے ۔
42تب بادشاہ نے سمعی کو بُلا بھیجا اور اُس سے کہا کیا میں نے تُجھے خُداوند کی قسم نہ کھلائی اور تُجھ کو بتا دیا کہ یقین جان لے کہ جس دن تُو باہر نکلا اور اِدھر اُدھر کہیں گیا تو ضرور مارا جائےگا ؟ اور تُو نے مجھ سے یہ کہا کہ جو بات مَیں نے سُنی وہ اچھی ہے ۔
43پس تُو نے خُداوند کی قسم کو اور اُس حکم کو جسکی مَیں نے تُجھے تاکید کی کیوں نہ مانا ؟
44اور بادشاہ نے سِمعی سے یہ بھی کہا تُو اُس ساری شرارت کو جو تُو نے میرے باپ داود سے کی جس سے تیرا دل واقف ہے جانتا ہے ۔ سو خُداوند تیری شرارت کو اُلٹا تیرے ہی سر پا لائے گا ۔
45لیکن سلیمان بادشاہ مبارک ہو گا اور داود کا تخت خُداوند کے حضور ہمیشہ قائم رہےگا ۔
46اور بادشاہ نے یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو حُکم دیا ۔ سو اُس نے باہر جا کر اُس پر ایسا وار کیا کہ وہ مر گیا اور سلطنت سلیمان کے ہاتھ میں مُستحکم ہو گئی ۔