Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1اور سلیمان نے مصر کے بادشاہ فرعون سے رشتہ داری کی اور فرعون کی بیٹی بیاہ لی اور جب تک اپنا محل اور خُداوند کا گھر اور یروشلیم کے چوگرد دیوار نہ بنا چُکا اُسے داود کے شہر میں لا کر رکھا ۔
2لیکن لوگ اُونچی جگہوں میں قُربانی کرتے تھے کیونکہ اُن دنوں تک کوئی گھر خُداوند کے نام کے لیے نہیں بنا تھا ۔
3اور سلیمان خُداوند سے محبت رکھتا اور اپنے باپ داود کے آئین پر چلتا تھا ۔ اِتنا ضُرور ہے کہ وہ اُونچی جگہوں میں قُربانی کرتا اور بخُور جلاتا تھا ۔
4اور بادشاہ جبعون کو گیا تاکہ قُربانی کرے کیونکہ وہ خاص اُونچی جگہ تھی اور سلیمان نے اُس مذبح پر ایک ہزار سوختنی قُربانیاں گذرانیں ۔
5جبعون میں خُداوند رات کے وقت سلیمان کو خواب میں دکھائی دیا اور خُدا نے کہا مانگ مَیں تُجھے کیا دُوں ۔
6سلیمان نے کہا تُو نے اپنے خادم میرے باپ داود پر بڑا احسان کیا اِسلیے کہ وہ تیرے حضور راستی اور صداقت اور تیرے ساتھ سیدھے دل سے چلتا رہا اور تُو نے اُسکے واسطے یہ بڑا احسان رکھ چھوڑا تھا کہ تُو نے اُسے ایک بیٹا عنایت کِیا جو اُس کے تخت پر بیٹھے جیسا آج کے دن ہے ۔
7اور اب اے خُداوند میرے خُدا تُو نے اپنے خادم کو میرے باپ داود کی جگہ بادشاہ بنایا ہے اور مَیں چھوٹا لڑکا ہی ہوں اور مُجھے باہر جانے اور بِھیتر آنے کا شعور نہیں ۔
8اور تیرا خادم تیری قوم کے بیچ میں ہے جِسے تُو نے چُن لیا ہے ۔ وہ ایسی قوم ہے جو کثرت کے باعث نہ گِنی جا سکتی ہے نہ شمار ہو سکتی ہے ۔
9سو تُو اپنے خادم کو اپنی قوم کا انِصاف کرنے کے لیے سمجھنے والا دل عنایت کر تاکہ مَیں بُرےاور بھلے میں اِمتیاز کر سکوں کیونکہ تیری اِس بڑی قوم کا اِنصاف کون کر سکتا ہے ؟ ۔
10اور یہ بات خُداوند کو پسند آئی کہ سلیمان نے یہ چیز مانگی ۔
11اور خُدا نے اُس سے کہا چونکہ تُو نے یہ چیز مانگی اوراپنے لیے عُمر کی درازی کی درخواست نہ کی اور نہ اپنے لیے دولت کا سوال کیا اور نہ اپنے دُشمنوں کی جان مانگی بلکہ انصاف پسندی کے لیے تُو نے اپنے واسطے عقلمندی کی درخواست کی ہے ۔
12سو دیکھ مَیں نے تیری درخواست کے مطابق کیا ۔ میں نے ایک عاقل اور سمجھنے والا دل تُجھ کو بخشا ایسا کہ تیری مانند نہ تو کوئی تُجھ سے پہلے ہُوا اور نہ کوئی تیرے بعد تُجھ سا برپا ہو گا۔
13اور مَیں نے تُجھ کو کچھ اور بھی دیا جو تُو نے نہیں مانگا یعنی دولت اور عزت ایسا کہ بادشاہوں میں تیری عمر بھر کوئی تیری مانند نہ ہو گا ۔
14اور اگر تُو میری راہوں پر چلے اور میرے آئین اور احکام کو مانے جیسے تیرا باپ داود چلتا رہا تو مَیں تیری عمر دراز کرونگا ۔
15پھر سلیمان جاگ گیا اور دیکھا کہ خواب تھا اور یروشلیم میں آیا اور خُداوند کے عہد کے صندوق کے آگے کھڑا ہُوا اور سوختنی قُربانیاں گُزرانیں اور سلامتی کی قُربانیاں چڑھائیں اور اپنے سب مُلازموں کی ضیافت کی ۔
16اُس وقت دو عورتیں جو کسبیاں تھیں بادشاہ کے پاس آئیں اور اُس کے آگے کھڑی ہوئیں ۔
17اور ایک عورت کہنے لگی اے میرے مالک ! مَیں اور یہ عورت دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور اِس کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے میرے ایک بچہ ہوا ۔
18اور میرے زچہ ہو جانے کے بعد تیسرے دن ایسا ہوا کہ یہ عورت بھی زچہ ہو گئی اور ہم ایک ساتھ ہی تھیں ۔ کوئی غیر شخص اُس گھر میں نہ تھا ۔ سِوا ہم دونوں کے جو گھر ہی میں تِھیں ۔
19اور اَس عورت کو بچہ رات کو مر گیا کیونکہ یہ اُس کے اُوپر ہی لیٹ گئی تھی ۔
20سو یہ آدھی رات کو اُٹھی اور جس وقت تیری لونڈی سوتی تھی میرے بیٹے کو میری بغل سے لیکر اپنی گود میں لٹا لیا اور اپنے مرے ہوئے بچے کو میری گود میں ڈال دیا ۔
21صبح کو غور کیا تو دیکھا کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے جو میرے ہُوا تھا ۔
22پھر وہ دوسری عورت کہنے لگی نہیں یہ جو جیتا ہے میرا بیٹا ہے اور مرا ہُوا تیرا بیٹا ہے ۔ اِس نے جواب دیا نہیں مرا ہُوا تیرا بیٹا ہے اور جیتا میرا بیٹا ہے ۔ سو وہ بادشاہ کے حضور اِسی طرح کہتی رہیں ۔
23تب بادشاہ نے کہا ایک کہتی یہ جو جیتا ہے میرا بیٹا ہے اور جو مر گیا ہے وہ تیرا بیٹا ہے اور دوسری کہتی ہے کہ نہیں بلکہ جو مر گیا ہے وہ تیرا بیٹا ہے اور جو جیتا ہے وہ میرا بیٹا ہے ۔
24سو بادشاہ نے کہا مُجھے ایک تلوار لا دو ۔ ےب وہ بادشاہ کے پاس تلوار لے آئے ۔
25پھر بادشاہ نے فرمایا کہ اِس جیتے بچے کو چِیر کر دو ٹُکڑے کر ڈالو اور آدھا ایک کو اور آدھا دوسری کو دے دو ۔
26تب اُس عورت نے جِسکا وہ جیتا بچہ تھا بادشاہ سے عرض کی کیونکہ اُس کے دل میں اپنے بیٹے کی مامتا تھی سو وہ کہنے لگی اے میرے مالک ! یہ جیتا بچہ اُسی کو دیدے پر اُسے جان سے نہ مروا لیکن دوسری نے کہا یہ نہ میرا ہو نہ تیرا اُسے چِیر ڈالو ۔
27تب بادشاہ نے حُکم کیا کہ جیتا بچہ اُسی کو دو اور اُسے جان سے نہ مارو کیونکہ وہی اُس کی ماں ہے ۔
28اور سارے اسرائیل نے یہ اِنصاف جو بادشاہ نے کِیا سُنا اور وہ بادشاہ سے ڈرنے لگے کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ عدالت کرنے کے لیے خُدا کی حکمت اُس کے دل میں ہے ۔