Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1اور سُلیمان بادشاہ تمام اسرائیل کا بادشاہ تھا ۔
2اور جو سردار اُس کے پاس تھے سو یہ تھے ۔ صدوق کا بیٹا عزریاہ کاہن ۔
3اورسیسہ کے بیٹے الیحورف اور اخیاہ مُنشی تھے اور اخِیلُود کا بیٹا یہوُسفط مُورخ تھا۔
4اور یہویدع کا بیٹا بنایاہ لشکر کا سردار اور صدوق اور ابیاتر کاہن تھے ۔
5اور ناتن کا بیٹا عزریاہ منصبداروں کا دروغہ تھا اور ناتن کا بیٹا زبور کاہن اور بادشاہ کا دوست تھا ۔
6اور اِخیسر محل کا دیوان اور عبدا کا بیٹا ادونرام بیگار کا مۃنصرم تھا
7اور سلیمان نے سب اسرائیل پر بارہ منصبدار مُقرر کیے جو بادشاہ اور اُس کے گھرانے کے لیے رسد پہنچاتے تھے ۔ ہر ایک کو سال میں مہینہ بھر رسد پُہنچانی پڑتی تھی۔
8اُنکے نام یہ ہیں ۔ افرائیم کے کوہستانی مُلک میں بنِ حُور۔
9اور مُقص اور سعلبیم اور بیت شمس اور الیون بیت حنان میں بِن دِقر۔
10قور اربوت میں بنِ حصد تھا اور شو کہ اور حفر کی ساری سرزمین اُس کے علاقہ میں تھی ۔
11اور دور کے سارے مُرتفو علاقہ میں بن ابینداب تھا اور سلیمان کی بیٹی طافت اُسکی بیوی تھی۔
12اور اخیلود کا بیٹا بعنہ تھا جسکے سُپرد تعناک اور مُجدو اور سارا بیت شان تھا جو ضرتان سے مُتصل اور یزرعیل کے نیچے بیت شان سے ابیل محولپ تک یعنی یُقمعام سے اُدھر تک تھا ۔
13اور بنِ جبررامات جلعاد میں تھا اور منسی کے بیٹے یایرّ کی بستیاں جو جلعاد میں ہیں اُسکے سپرد تھیں اور بسن میں ارجوب کا علاقہ بھی اِسی کے سپرد تھا جس میں ساتھ بڑے شہر تھے جنکی شہر پناہیں اور پیتل کے بینڈے تھے۔
14اور عِدُو کا بیٹا اخِینداب مُحنایم میں تھا ۔
15اور اِخیمعض نفتالی میں تھا اُس نے بھی سُلیمان کی بیٹی بسِمت کو بیاہ لیا تھا۔
16اور حُوسی کا بیٹا بعنہ آژر اور علوت میں تھا
17اور فُروع کا بیٹا یہوسفط اِشکار میں تھا۔
18اور ایلہ کا بیٹا سِمعی بِنیمین میں تھا ۔
19اور اُوری کا بیٹا جبر جلعاد کےعلاقہ میں تھا جو اموریوں کے بادشاہ سیحون اور بسن کے بادشاہ عوج کا مُلک تھا ۔ اُس مُلک کا وہی اکیلا منصبدار تھا ۔
20اور یہوداہ اور اسرائیل کے لوگ کثرت میں سُمندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھے اور کھاتے پیتے اور خُوش رہتے تھے۔
21اور سلیمان دریایِ فرات سے فلستیوں کے مُلک تک اور مصر کی سرحد تک سب مملکتوں پر حُکمران تھا ۔ وہ اُس کے لیے لدئے لاتی تھیں اور سُلیمان کی عمر بھر اُسکی مُطیع رہیں ۔
22اور سُلیمان کی ایک دن کی رسد یہ تھی تیِس کور میدہ اور ساٹھ کور آٹا ۔
23اور دس موٹے موٹے بیل اور چرائی پو کے بیس بیل ۔ ایک سو بھیڑیں اور اِنکے علاوہ چکارے اور ہرن اور چھوٹے ہرن اور موٹے تازہ مُرغ۔
24کیونکہ وہ دریایِ فرات کی اِس طرف کے سب مُلک پر تفسح سے غزہ تک یعنی سب بادشاہوں پر جو دریایِ فرات کی اِس طرف تھے فرمانروا تھا اور اُس کے چوگرد سب اطراف میں سب سے اُسکی صلح تھی ۔
25اور سلیمان کی عمر بھر یہوُداہ اور اسرائیل کا ایک ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے دان سے بیر سبع تک امن سے رہتا تھا ۔
26اور سُلیمان کے ہاں اُسکے رتھوں کے لیے چالیس ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے۔
27اور اُن منصبداروں میں سے ہر ایک اپنے مہینہ میں سُلیمان بادشاہ کے لیے اور اُن سب کے لیے جو سُلیمان بادشاپ کے دسترخوان پر آتے تھے رسد پُہنچاتا تھا ۔ وہ کسی چیز کی کمی نہ ہونے دیتے تھے ۔
28اور لوگ اپنے اپنے فرض کے مُطابق گھوڑوں اور تیز رفتار سمندروں کے لیے جَو اور بھُوسا اُسی جگہ لے آتے تھے جہاں وہ منصبدار ہوتے تھے۔
29اور خُدا نے سلیمان کو حکمت اور سمجھ بہت ہی زیاد ہ اور دل کی وسعت بھی عنایت کی جیسی سُمندر کے کنارے کی ریت ہوتی ہے ۔
30اور سُلیمان کی حکمت سب اہلِ مشرق کی حکمت اور مصر کی ساری حکمت پر فوقیت رکھتی تھی ۔
31اِسلیے کہ وہ سب آدمیوں سے بلکہ ازراخی ایتان اور ہیمان اور کل کُول اور دردع سے جو بنی مُحول تھے زیادہ دانشمند تھا اور چوگرد کی سب قوموں میں اُس کی شہرت تھی ۔
32اور اُس نے تین ہزار مثِلیں کہیں اور اُسکے ایک ہزار پانچ گیت تھے ۔
33اور اُس نے درختوں کا یعنی لُبنان کے دیودار سے لیکر زُوفا تک کا جو دیوراروں پراُگتا ہے بیان کیا اور چوپایوں اور پرندوں اور رینگنے والے جانداروں اور مچھلیوں کا بھی بیان کیا ۔
34اور سب قوموں میں سے زمین کے سب بادشاہوں کی طرف سے جنہوں نے اُسکی حکمت سُنی تھی لوگ سلیمان کی حکمت سُننے کو آتے تھے ۔