Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
29 verses
1اور جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بات سُلیمان کی شہرت سُنی تو وہ آئی تاکہ مُشکل سوالوں سے اُسے آزمائے۔
2اور وہ بہت بڑی جلو کے ساتھ یروشلیم میں آئی اور اُس کے ساتھ اونٹ تھے جن پر مصالح اور بہت سا سونا اور بیش بہا جواہر لدے تھے اور جب وہ سُلیمان کے پاس پہنچی تو اُس نے اُن سب باتوں کے بارے میں جو اُس کے دل تھیں اُس سے گفتگو کی ۔
3سُلیمان نے اُس کے سب سوالوں کا جواب دیا ۔ بادشاہ سے کوئی بات ایسی پوشیدہ نہ تھی جو اُسے نہ بتائی۔
4اور جب سبا کی ملکہ نے سُلیمان کی ساری حکمت اور اُس محل کو جو اُس نے بنایا تھا ۔
5اور اُس کے دسترخوان کی نعمتوں اور اُسکے ملازموں کی نشست اور اُس کے خادموں کی حاضر باشی اور اُنکی پوشاک اور اُسکے ساقیوں اور اُس سیڑھی کو جس سے وہ خداوند کے گھر کو جاتا تھا دیکھا تو اُسکے ہوش اُڑ گئے ۔
6اور اُس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے مُلک میں سُنی تھی ۔
7تو بھی میں نے و ہ باتیں باور نہ کیں جب تک خُود آخر اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ نہ لیا اور مُجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبالمندی اُس شہرت سے جو میں نے سُنی بہت زیادہ ہے ۔
8خوش نصیبت ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیبت ہیں تیرے یہ مُلازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے اور تیری حکمت سُنتے ہیں ۔
9خُداوند تیرا خُدا مبارک ہو جو تُجھ سے ایسا خوشنود ہوا کہ تُجھے اسرائیل کے تخت پر بیٹھایا ہے ۔ چونکہ خُداوند نے اسرائیل سے سدا محبت رکھی ہے اِس لیے اُس نے تُجھے عدل اور انصاف کرنے کو بادشاہ بنایا ۔
10اور اُس نے بادشاہ کو ایک سو بیس قنطار سونا اور مصالح کا بہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہر دیے اور جیسے مصالح سبا کی ملکی نے سُلیمان بادشاہ کو دیے ویسے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے ۔
11اور حیرام کا بیڑا بھی اوفیر سے سونا لاتا تھا بڑی کثرت سے چند ن کے درخت اور بیش بہا جواہر اوفیر سے لایا ۔
12سو بادشاہ نے خُداوند کے گھر اور شاہی محل کے لیے چندن کی لکڑی کے سُتون اور بربط اور گانے والوں کے لیے ستار بنائے ۔ چندن کے ایسے درخت نہ کبھی آئے تھے اور نہ کبھی آج کے دن تک دکھائی دیے۔
13اور سُلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جسکی وہ مُشتاق ہوئی اور جو کچھ اُس نے مانگا دیا ۔ علاوہ اِس کے سُلیمان نے اُسکو اپنی شاہانہ سخاوت سے بھی عنایت کیا ۔ پھر وہ اپنے مُلازموں سمیت اپنی مملکت کو لَوٹ گئی۔
14اور جتنا سونا ایک برس میں سُلیمان کے پاس آتا تھا اُسکا وزن سونے کا چھ سو چھیاسٹھ قنطار تھا ۔
15علاوہ اِس کے بیو پاریوں اور سوداگروں کی تجارت اور مِلی جُلی قوموں کے سب سلاطین اور مُلک کے صوبہ داروں کی طرف سے بھی سونا آتا تھا ۔
16اور سُلیمان بادشاہ نے سونا گھڑ کر دو سو ڈھالیں بنائیں ۔ چھ سو مثقال سونا ایک ایک ڈھال میں لگا۔
17اور اُس نے گھڑے ہوئے سونے کی تین سو سپریں بنائیں ۔ ایک ایک سِپر میں ڈیڑھ سیر سونا لگا اور بادشاہ نے اُنکو لُبنانی بن کے گھر میں رکھا ۔
18ماسوا اِنکے بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بنایا اور اُس پر سب سے چوکھا سونا منڈھا ۔
19اُس تخت میں چھ سیڑھیاں تھیں اور تخت کے اوپر کا حصہ پیچھے سے گول تھا اور بیٹھنے کی جگہ دونوں طرف ٹیکیںتھیں اور ٹیکوں کے پاس دو شیر کھڑے تھے۔
20اور اُن چھ سیڑھیوں کے اِدھر اور اُدھر بارہ شیر کھ��ے تھے ۔ کسی سلطنت میں ایسا کبھی نہیں بنا ۔
21اور سُلیمان بادشاہ کے پینے کے سب برتن سونے کے تھے اور لُبنانی بن کے گھر کے بھی سب برتن خالص سونے کے تھے ۔ چاندی کا ایک بھی نہ تھا کیونکہ سُلیمان کے ایام میں اِسکی کچھ قدر نہ تھی ۔
22کیونکہ بادشاہ کے پاس سُمندر میں حیرام کے بیڑے کے ساتھ ایک ترسیسی بیڑا بھی تھا ۔ یہ ترسیسی بیڑا تین برس میں ایک بار آتا تھا اور سونا اور چاندی اور ہاتھی دانت اور بندر اور مور لاتا تھا ۔
23سو سُلیمان بادشاہ دولت اور حکمت میں زمین کے سب بادشاہوں پر سبقت لے گیا۔
24اور سارا جہان سُلیمان کے دیدار کا طالب تھا تاکہ اُسکی حکمت کو جو خُدا نے اُس کے دل میں ڈالی تھی سُنے ۔
25اور اُن میں سے ہر ایک آدمی چاندی کے برتن اور سونے کے برتن اور کپڑے اور ہتھیار اور مصالح اور گھوڑے اور خچر ہدیہ کے طور پر اپنے حصہ کے موافق لاتا تھا ۔
26اور سُلیمان نے رتھ اور سوار اکٹھے کر لیے ۔ اُس کے پاس ایک ہزار چار سو رتھ اور بارہ ہزار سوار تھے جنکو اُس نے رتھوں کے شہروں میں اور بادشاہ کے ساتھ یروشلیم میں رکھا ۔
27اور بادشاہ نے یروشلیم میں اِفراط کی وجہ سے چاندی کو تو ایسا کر دیا جیسے پتھر اور دیوداروں کو ایسا جیسے نشیب کے مُلک کے گولر کے درخت ہوتے ہیں ۔
28اور گھوڑ ے سُلیمان کے پاس تھے وہ مصر سے منگائے گئے تھے اور بادشاہ کے سوداگر ایک ایک جھُنڈ کی قیمت لگا کر اُنکے جھُنڈ کے جھُنڈلیا کرتے تھے ۔
29اور ایک رتھ چاندی کی چھ سو مثقال میں آتا اور مصر سے روانہ ہوتا اور گھوڑا ڈیڑھ سو مثقال میں آتا تھا اور ایسے ہی حتیوں کے سب بادشاہوں اور ارامی بادشاہوں کے لیے وہ اِنکو اُن ہی کے ذریعہ سے منگاتے تھے۔